Al-Risala · February 2016

حمد کلچر

Al-Risala, February 2016, pp. 26–31

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی ایک آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الفاتحة: 2) یعنی ساری حمد اللہ رب العالمين کے لیے ہے۔ یہ آیت دنیا کی زندگی میں اہل ایمان کے روز وشب کا حال بتاتی اہلِ جنت جب آخرت میں پہنچیں گے اور جنت میں داخل کردئے جائیں گے تو وہاں ان کا مشغلہ کیا ہوگا، اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (یونس: 10) یعنی وہاں ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔ اہل جنت کا ایک اور قول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (الفاطر: 34) یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ ان آیتوں پر غور کیجئے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت دنیا میں کس طرح زندگی گزاریں اور پھر آخرت میں ان کو کس قسم کی زندگی حاصل ہوگی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی ان کی زندگی، حمد رب کی زندگی ہوگی، اور آخرت میں بھی ان کے صبح وشام رب العالمين کی حمد میں گزریں گے۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں انھوں نے حمد رب کی زندگی دار الكبد (البلد: 4) میں گزاری ہوگی، آخرت میں ان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ حزن سے خالی دنیا (الفاطر: 34) میں اعلیٰ معیاری درجے میں حمد رب کی توفیق اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلے کی قیمت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ذہنی طور پر اتنا ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ حزن اور کبد کے حالات میں بھی اعلیٰ معرفت کی سطح پر زندگی گزارے۔ گویا کہ انسان سے جو چیز اصلاً مطلوب ہے، وہ حمد رب ہے۔ دنیا میں بھی حمد، آخرت میں بھی حمد۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کی رحمت (blessing) کا پھر پیدا ہونے کے بعد جس دنیا میں وہ زندگی گزارتا ہے، وہ پوری کی پوری رحمتوں کی دنیا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے واحد طرزِ زندگی صرف یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اس حقیقت کو یاد رکھے، وہ ہر موقع (occasion) پر اللہ کی بے پایاں رحمت کا اعتراف کرے۔ اس کی شعوری بیداری اس درجہ تک پہنچ

جائے کہ ہر چیز سے اس کو حمدِ خداوندی کا رزق ملنے لگے۔ یہ حالت ایک اعتبار سے دنیا میں اللہ رب العالمین کا اعتراف ہے۔ یہ اس فطری تقاضے کو پورا کرنا ہے جو تخلیق کے اعتبار سے انسان کے اندر ہونا یہی انسان وہ ہے جس نے دنیا میں سچا انسان بن کر زندگی گزاری۔

دنیا میں اس طرح زندگی گزارنے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہی سچا انسان وہ انسان ہے جس کو آخرت کی جنت میں وہ درجہ ملے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ بیان کیا گیا ہے : فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ (القمر : 55) یعنی وہ بیٹھے ہوں گے سچی بیٹھک میں ، قدرت والے بادشاہ دنیا میں جو لوگ سچائی کی زندگی گزاریں ، ان کو اس کا یہ انعام ملے گا کہ وہ آخرت میں سچائی کی سیٹ (seat of truth) پر بیٹھنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا سب سے اعلی درجہ یہ ہے کہ وہ معرفتِ خداوندی میں وہ اپنی زندگی کے لمحات اس طرح گزارے کہ وہ مسلسل طور پر اللہ کی نشانیوں کو دریافت کر رہا ہو۔ آلاءُ اللہ (wonders of God) بلاشبہ کائنات کی سب سے بڑی چیزیں ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو دنیا کی زندگی میں آلاء اللہ میں جیے۔ اور آخرت میں وہ زیادہ اعلیٰ صورت میں آلاء اللہ اور حمد الہی میں جینے کا مرتبہ پائے۔ قرآن کی ایک آیت یہ ہے : أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد : 28) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ لذیذ لمحہ (joyous moment) وہ ہے، جب کہ وہ اپنے رب کی قربت حاصل کرے، جب کہ وہ کائنات میں تخلیق کی معنویت کو دریافت کرے، جب کہ اس کا اعلیٰ تصور اس کو فرشتوں کا ہم نشین بنا دے، جب کہ وہ اعلیٰ معرفت کا شعوری تجربہ حاصل کرے، جب کہ وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کی معرفت حاصل کرلے۔

یہی انسان کی حقیقی زندگی ہے۔ یہ زندگی ایک سچے انسان کو دنیا میں ابتدائی طور پر حاصل ہوتی ہے، اور آخرت کی جنت میں یہی زندگی اس کو اپنی اعلیٰ صورت میں حاصل ہوگی۔ گویا کہ سچا انسان وہ ہے جو اسی دنیا میں اللہ رب العالمین کے پڑوس میں جینے لگے، یہی وہ زندگی ہے، جو جنت میں اس کو زیادہ اعلیٰ درجے میں حاصل ہوگی۔

(The Prophet of Peace)

پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب کے متعلق مؤرخین نے عام طور پر اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کی۔ مثال کے طور پر برٹش مؤرخ گبن (Edward Gibbon) پیدائش 1737 وفات 1794 نے اپنی کتاب ”رُو ما کا عروج و زوال“ میں (The History of the Decline and Fall of the Roman Empire) پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے لائے ہوئے انقلاب کو تاریخ کا سب سے زیادہ قابلِ ذکر واقعہ بتایا ہے:

The rise and expansion of Islam was one of the most memorable revolutions which has impressed a new and lasting character on the nations of the globe. رائے (1887-1954) ایک انڈین لیڈر تھے۔ ان کی کتاب ہسٹاریکل رول آف اسلام (The Historical Role of Islam) پہلی بار دہلی سے 1939 میں چھپی۔ کتاب میں وہ لکھتے ہیں: محمد کو تمام پیغمبروں میں سب سے بڑا پیغمبر ماننا چاہیے۔ اسلام کی توسیع تمام معجزوں سے زیادہ بڑا معجزہ ہے:

Mohammad must be recognised as by far the greatest of all prophets, the expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p.4) امریکا کے ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (Michael H. Hart) کی کتاب ’’دی ہنڈریڈ‘‘ (The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History) نیو یارک سے 1978 میں چھپی۔ اس کتاب میں انہوں نے پوری انسانی تاریخ سے ایک سو ایسے افراد کی فہرست بنائی ہے جنہوں نے اُن کے مطابق، اعلیٰ کامیابیاں حاصل کیں۔ اس فہرست میں انہوں نے ٹاپ پر پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ کو رکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: وہ تاریخ کے تنہا شخص ہیں

جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دینوی سطح پر بھی: He was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels. پیغمبر اسلام کی اس عظیم کامیابی کا راز کیا تھا۔ اس کا راز ایک لفظ میں امن تھا۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام تاریخ کے سب سے بڑے پیسفسٹ (pacifist) تھے۔ انہوں نے پُر امن طریقہ(peaceful means) کو ایک ناقابل تسخیر طاقت کے طور پر استعمال کیا۔ میں قرآن میں آپ کو یہ اصولی ہدایت دی گئی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: الصُّلْح خير (النساء: 128) یعنی نزاعی معاملات میں پر امن تصفیے کا طریقہ زیادہ نتیجہ خیز طریقہ ہے: The peaceful method is a far more effective method. اسی طرح خود پیغمبر اسلام نے فرمایا: اِنَّ الله يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2593) یعنی خدا نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا: God grants to peace what He dose not grant to violence. پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے امن کو ایک مکمل آئیڈیالوجی کے طور پر دریافت کیا۔ آپ نے امن کو ایک ایسے طریقہ کار کے طور پر دریافت کیا جو ہر صورت حال کے لیے مؤثر ترین تدبیر کی حیثیت رکھتا تھا۔

ایک مفکر نے لکھا ہے کہ تاریخ کے تمام انقلابات صرف حکمرانوں کی تبدیلی (coup) تھے، وہ حقیقی معنوں میں انقلاب نہ تھے۔ یہ بات اگر صحیح ہو تو پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ کا نام اس معاملے میں ایک استثناء مانا جائے گا۔ کیوں کہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعے وہ تمام انفرادی، سماجی اور سیاسی تبدیلیاں وقوع میں آئیں، جن کے مجموعے کو انقلاب (revolution) کہا جاتا ہے۔ راقم الحروف کا احساس اپنے مطالعے کی بنیاد پر یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کا انسانی تاریخ میں جو کنٹری بیوشن (contribution) ہے، اُس کے لحاظ سے اُن کا سب سے زیادہ موزوں نام یہی ہو سکتا ہے کہ اُن کو امن کا پیغمبر (Prophet of Peace) کہا جائے۔

تاریخ ایک ایسا ڈسپلن ہے جس میں یہ امکان رہتا ہے کہ مطالعہ کرنے والا ایک سے زیادہ رایوں تک پہنچ جائے ۔ تاہم مصنف کا یہ خیال ہے کہ ایسا زیادہ تر محدود مطالعے کی بنا ہوتا ہے۔ مطالعہ زیادہ وسیع اور جامع ہو تو تعدد آراء کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔

ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوگی۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں کچھ دفاعی لڑائیاں پیش آئیں۔ ان میں سے ایک دفاعی لڑائی وہ تھی جس کو جنگِ بدر کہا جاتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ جس وقت جنگ کا واقعہ ہوا، پیغمبرِ اسلام میدانِ جنگ سے باہر ایک عریش میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اپنے ہاتھ یا لکڑی سے آپ ریت پر کچھ لکیریں کھینچتے ہوئے نظر آئے۔ اس واقعے کو لے کر ایک مستشرق نے بطور خود اس کو جنگ سے منسوب کیا، اور لکھا کہ قائدِ اسلام اُس وقت اپنی اگلی جنگ کے نقشہ کا منصوبہ بنا رہے تھے: The leader of Islam was making his next war plan. مستشرق نے یہ بات کسی حوالے کے بغیر صرف اپنے قیاس کی بنیاد پر لکھ دی ۔ دوسری روایات میں دیکھا جائے تو خود روایت کی بنیاد پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام اُس وقت کیا کر رہے تھے ۔ وہ دراصل یہ نقشہ بنا رہے تھے کہ آئندہ کس طرح امن قائم کیا جائے ، چناں چہ دوسری روایت میں بتایا گیا ہے کہ جس وقت بدر کی یہ دفاعی جنگ ہو رہی تھی ، عین اُسی وقت خدا کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ خدا نے آپ کو امن کا پیغام بھیجا ہے۔ یہ سُن کر پیغمبرِ اسلام نے فرمایا : " ھو السلام ومنه السلام وإليه السلام “ ( البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 267) یعنی خدا سلامتی ہے، اور اُسی سے سلامتی ہے، اور اسی کی طرف سلامتی ہے۔ اس دوسری روایت کے مطابق درست طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگِ بدر کے موقع پر پیغمبرِ اسلام اپنا اگلا منصوبہ پر امن بنا رہے تھے: The leader of Islam was making his next peace plan. پیغمبرِ اسلام کو قرآن میں پیغمبرِ رحمت کہا گیا ہے: وما ارسلنک الا رحمة للعالمين (الانبیاء: 107) یعنی پرافٹ آف مرسی۔ پرافٹ آف مرسی ہی کا دوسرانام پرافٹ آف پیس ہے۔ دونوں ایک ہی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے دو مختلف انداز کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پیغمبر اسلام کار مشن کوئی پولیٹیکل مشن نہیں تھا۔ آپ کے مشن کو دوسرے الفاظ میں اسپرچول مشن کہا جا سکتا ہے۔ قرآن میں اس کو تزکیہ نفس(Purification of the Soul) البقرہ: 129، بتایا گیا ہے، یعنی انسان کو کامل انسان بنانا۔ دوسری جگہ قرآن میں اس کے لیے النفس المطمئنة (complex-free soul)الفجر: 27، کے الفاظ آئے ہیں۔

اس قسم کا مقصد صرف نصیحت اور تذکیر (persuasion)کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ مقصد ذہن کی تشکیل نو (re-engineering of the mind) کا طالب ہے۔ یہ مقصد صرف انسان کی تفکیری قوت کو بیدار کر کے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے حصول کا ذریعہ سیاسی انقلاب نہیں ہے، بلکہ ذہنی انقلاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات تمام تر امن کے تصور پر مبنی ہیں۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی کتاب قرآن میں کل تقریباً 6500 آیتیں ہیں۔ میں بمشکل چالیس آیتیں ہیں جن میں قتال یا جنگ کا ذکر ہے۔ یعنی کل آیتوں کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ۔ قرآن کی ننانوے فیصد سے زیادہ آیتیں وہ ہیں جن میں انسان کی قوتِ فکر کو بیدار کیا گیا دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن گویا آرٹ آف تھنکنگ کے موضوع پر ایک کتاب ہے، وہ کسی بھی درجے میں آرٹ آف فائٹنگ کی کتاب نہیں۔

پیغمبر اسلام کی تعلیمات اور آپ کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے نہ صرف نظریہ امن پیش کیا بلکہ آپ نے نہایت کامیابی کے ساتھ پرامن زندگی کے لیے ایک مکمل طریق کا وضع کیا:

He was able to develop a complete methodology of peaceful activism. پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے نہ صرف امن کی ایک آئیڈیالوجی پیش کی، بلکہ امن کو عمل میں لانے کے لیے وہ ایک مکمل میتھاڈولوجی آف پیس ڈیویلپ کرنے میں گویا کہ آپ نظریہ امن کے آئیڈیالاگ بھی تھے، اور نظریہ امن کو عملی انقلاب کی صورت دینے والے بھی۔

Printed page