تالیف قلب
Al-Risala, January 2016, pp. 10–12
By Maulana Wahiduddin Khan
تالیف قلب کا مطلب ہے دل میں نرم گوشہ (soft corner) پیدا کرنا۔ ایسے لوگوں کے لیے قرآن میں مؤلفة القلوب (9:60) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تالیف قلب کا تعلق دعوتی اخلاقیات مدعو کے ساتھ اس نوعیت کا حسن سلوک (friendly behaviour) جس سے مدعو کے دل میں اسلام سے قربت پیدا ہو، وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے، وہ کسی تعصب کے بغیر کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو سمجھے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو تجارتی تعلقات کے دائرے میں کسٹم فرینڈلی بہیویر (customer-friendly behaviour) کہا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تالیف قلب کی ایک مثال وہ ہے جب کہ ہجرت کے بعد آپ نے اپنی نماز کے لیے کعبہ کے بجائے یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنا لیا۔ مفسر النسفی نے اپنی تفسیر مدارک التنز یل وحقائق التاويل میں تالیف قلب کی پیغمبرانہ مثال دیتے ہوئے لکھا ہے: روى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بمكة إلى الكعبة ثم أمر بالصلاة إلى صخرة بيت المقدس بعد الهجرة تأليفاً لليهود ثم حول إلى الكعبة (تفسیر النسفی، بيروت، 1998، جلد 1 ، البقرة آیت 143 )۔ یعنی روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کعبہ کا طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر ہجرت کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ آپ اپنی نماز قبلہ یہود صخرۃ کی طرف رخ کر کے ادا کریں، ایسا یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا گیا، پھر بعد کو آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔
تالیف قلب اسلام کی ایک جامع تعلیم ہے۔ اس کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ لیے ہر انسان مدعو ہے۔ اس لیے مومن کو ہر انسان کے ساتھ تالیف قلب کے اصول پر معاملہ کرنا ہے۔ تالیف قلب کا اصول کوئی وقتی یا محدود اصول نہیں ہے، وہ ہمیشہ کے لیے اہل ایمان سے مطلوب ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتدائی زمانے میں سورہ المدثر اتری۔ اس سورہ میں دعوت کا
حکم دیتے ہوئے ایک اصول یہ دیا گیا کہ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ (74:6) یعنی اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو۔ اس حکم کا تعلق دعوت کے عمل سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کا کام اس طرح کرنا چاہیے کہ داعی کو یہ امید نہیں رکھنا چاہیے کہ مدعو کی طرف سے اس کو اچھا جواب ملے گا: Do good without expecting anything in return یہود کی تالیف کے لیے یہود کے قبلۂ عبادت کو اپنا قبلہ بنانا، بتاتا ہے کہ تالیفِ قلب کی کوئی حد اس کے لیے مومن کو ہر تدبیر اختیار کرنا جائز ہے۔ شرط اگر ہے تو صرف یہ کہ مومن کی نیت کسی ذاتی مفاد کو حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہو کہ مدعو کے دل میں اسلام کے لیے نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہو، اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے۔
پیغمبر اسلام کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہر ممکن طریقے سے مدعو کی تالیفِ قلب کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً کچی دور میں کعبہ کے اندر بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کر کے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچانا، کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا بغیر احتجاج کیے ہوئے جب کہ کعبہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے، غزوہ حنین میں آپ کو بڑی تعداد میں مال غنیمت حاصل ہوا تھا، آپ نے اس کی بڑی مقدار ان لوگوں کو دے دی جنھوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ایسا آپ نے ان لوگوں کی تالیفِ قلب کے لیے کیا تھا۔
تالیفِ قلب کا ایک واقعہ وہ ہے جو حدیبیہ معاہدہ کی بات چیت کے دوران پیش آیا۔ معاہدہ کی بات چیت تقریبا دو ہفتہ تک جاری رہی تھی۔ اس مدت میں تالیف کے مختلف واقعات پیش ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی کنانہ کا سردار الحلیس بن علقمہ قریش کی طرف سے آپ سے بات چیت کے لیے آ رہا ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا کہ یہ قبیلہ قربانی کے اونٹوں کی تعظیم کرتا ہے، وہ اس کو الہ کا درجہ دیتا ہے۔ تم اس کے استقبال کے لیے اونٹ لے کر نکلو۔ چناں چہ صحابہ نے ایسے ہی کیا۔ وہ آدمی بہت خوش ہوا۔ اور واپس جا کر قریش کو بہت مثبت رپورٹ دی۔ یہ واقعہ صحیح البخاری حدیث نمبر 2731، اور مسند احمد،
حدیث نمبر 18928 میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ سيرة ابن هشام، مغازی الواقدی، سيرة ابن كثير، الروض الانف وغیرہ کتب سیرت میں آیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان تالیف قلب کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا یہ فعل خالصتاً دعوت الی اللہ کے لیے ہو۔ اس حدیث کو اگر لفظاً لیا جائے تو شاید یہ کہنا درست ہوگا کہ اگر کوئی مسلم لیڈر ہندوستانیوں سے گفت و شنید کر رہا ہو، اور اس درمیان اس کو بتایا جائے کہ ایک ہندو لیڈر اس سے ملنے کے لیے آرہا ہے۔ تو اس موقع پر مسلم لیڈر کے لیے یہ کرنا جائز ہوگا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو کہے کہ اس ہندو لیڈر کے یہاں گائے کی پوجا کی جاتی ہے، اس لیے تم اس کا اس طرح استقبال کرو کہ اس کے پاس گائے لے کر جاؤ۔ تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہوگا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جو نجران کے عیسائیوں کے ساتھ پیش آیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے مدینہ آئے۔ یہاں انھوں نے مدینہ کی مسجد نبوی کے اندر اپنے طریقے کے مطابق عبادت کی۔ روایت کے مطابق انھوں نے اپنی یہ عبادت مشرق کی طرف رخ کر کے کی (فصلوا إلى المشرق) سيرة ابن هشام (1/574)، جب کہ مدینہ سے کعبہ کا رخ اس سے مختلف تھا۔ ملی تعمیر کا کام سب سے پہلے ملت کے افراد میں شعور پیدا کرنے کا کام ہے۔ اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ الرسلہ مشن کو ایک ایک بستی اور ایک ایک گھر میں پہنچایا جائے۔
کیرالا میں الرسلہ مشن کی انگلش کتابوں کے لیے رابطہ قائم فرمائیں: Goodword Books (Distributors)
Premier building, Near MEA Complex, Court Road, Calicut-673001, Kerala