Al-Risala · February 2016

امیج بلڈنگ

Al-Risala, February 2016, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں بعض اسباب کے تحت اسلام کی یہ تصویر (image) بن گئی ہے کہ اسلام ایک تشدد کا مذہب ہے۔ قرآن اپنے ماننے والوں کو جہاد و قتال کی تعلیم دیتا ہے۔ نزدیک امن کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ غلط فہمی کی بات ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں یہ غلط فہمی اتنی زیادہ عام ہو گئی ہے کہ ساری دنیا کے لوگ کسی نہ کسی اعتبار سے اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے ۔ یہ معاملہ بے حد سنگین ہے۔ اس عالمی صورت حال کی بنا پر آج اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ وہ چیز بن گئی ہے جسے تصویر کو درست کرنا (image-building) کہا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک طرف مسلمانوں کو سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ان کا کوئی عمل اس غلط فہمی کی تصدیق نہ بن جائے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ ایسی کتابیں تیار کر کے اس کو ساری دنیا میں پھیلایا جائے، جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ اسلام ہر حال میں امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسلام اور تشدد دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

الرسالہ مشن کے تحت اس مقصد کے لیے بہت سی کتابیں شائع کی گئی ہیں۔ اور الرسالہ مشن کے تحت ان کتابوں کو عالمی سطح پر پھیلایا جا رہا ہے۔ ان کتابوں میں قرآن کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ کے ایک کرسچن اسکالر نے ہمارے یہاں کا چھپا ہوا انگریزی ترجمہ پڑھا تو انھوں نے تعجب آمیز خوشی کے ساتھ کہا کہ اس ترجمے کو پڑھ کر تو مجھے یہ دریافت ہوئی کہ قرآن ایک امن پسند کتاب ہے۔ اس سلسلے کی تازہ کوشش یہ ہے کہ ہمارے ادارے سے ایک نئی انگریزی کتاب شائع ہوئی ہے، جس کا نام دور امن (The Age of Peace) ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ اس کتاب کو حاصل کر کے اس کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں، خاص طور پر انگریزی داں طبقے کے درمیان۔ امیج بلڈنگ کے نقطہ نظر سے یہ کتاب بہت زیادہ اہم ہے۔ اس کتاب کو ادارے سے ربط کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سوال و جواب مولانا صاحب، میں انٹرنیٹ پر آپ کے لکچرس سنتا ہوں اور الرسالہ پڑھتا ہوں۔ مجھے دین کی کافی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ مولانا صاحب، میرا آپ سے سوال ہے کہ میں ایک معروف ہاسپٹل میں کمپیوٹر آپریٹر کی جاب کرتا ہوں۔ یہاں پر ہندو ساتھی پوجا کا پرشاد کھانے کے لیے جب میں کھانے سے منع کرتا ہوں یا اسے نہیں لیتا تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ موقعے پر میں کیا کروں ، ان کو کیسے سمجھاؤں یا کنونس کروں ۔ (محمد اعجاز حسین، حیدر آباد) آپ کا رویہ درست نہیں ۔ یہ کوئی اسلام نہیں ہے کہ آپ لوگوں کے پرشاد کو نہ لیں۔ ایک رزق خداوندی ہے۔ دوسرا شخص اگر اس کو پرشاد کے نام پر دیتا ہے تو آپ اس کو رزق خداوندی کے نام پر قبول کریں ۔ کچھ لوگوں نے پرشاد کو سورہ البقرۃ کی آیت نمبر 173 کے تحت غلط بتایا ہے، مگر یہ قیاس مع الفارق ہے۔

صحیح یہ ہے کہ پرشاد کے معاملے کو سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت کے تحت نہ لیا جائے، بلکہ پرشاد کو تالیف قلب کی آیت (التوبہ : 60) کے تحت لیا جائے۔ دعوت امت مسلمہ کا اہم ترین اور دعوت کے لیے تالیف قلب ضروری ہے۔ تالیف قلب کے بغیر دعوت کا کام درست طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔

تالیف قلب دراصل مدعو کے حق میں خیر خواہی کا ایک ظاہرہ (phenomenon) ہے۔ داعی اپنے مدعو کا ناصح (الاعراف: 68) ہوتا ہے، یعنی خیر خواہ (well-wisher)۔ خیر خواہی کے جذبے کی بنا پر داعی چاہتا ہے کہ وہ ایسا طریقہ اختیار کرے کہ داعی مدعو کے درمیان معتدل تعلقات تا کہ مدعو داعی کی بات کو سنجیدگی کے ساتھ لے، وہ اس کو نظر انداز نہ کرے۔ داعی کوہر ایسا کام کرنا چاہیے جس سے داعی اور مدعو کے درمیان ناصحانہ تعلق قائم ہو۔

Printed page