Al-Risala · January 2017

روحانی سماج

Al-Risala, January 2017, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

تخلیق کا اصل مقصود انسان ہے۔ تخلیقی عمل کے دوران جو چیزیں وجود میں آئیں، وہ سب صرف اس لیے تھیں کہ انسان اپنے سفر معرفت کو کامیابی کے ساتھ طے کر سکے۔ اس پورے عمل (process) کے ذریعہ جو آخری چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ ایک اعلیٰ درجے کا روحانی سماج (spiritual society) بنے، جو اُس معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو جس کو جنت (Paradise) کہا گیا ہے۔ جنت ایک پرفیکٹ دنیا (perfect world) ہے، جو ان انسانوں کی آبادکاری کے لیے بنائی گئی ہے جو اپنے آپ کو اس کا اہل (competent) ثابت کریں۔ دنیا میں انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ وہ آزاد ہے کہ اپنے آپ کو جیسا چاہے، ویسا اس لیے موجودہ دنیا میں اعلیٰ معیار کا روحانی سماج نہیں بن سکتا۔ یہاں صرف اعلیٰ معیار کے روحانی افراد بن سکتے ہیں۔ تخلیقی منصوبے کے مطابق جو بات ہونے والی ہے، وہ یہ کہ پوری انسانی تاریخ کے خاتمے پر اعلیٰ درجے کے روحانی افراد کو منتخب کرکے انھیں ابدی جنت میں بسنے کا موقع دیا

جائے، اور باقی لوگوں کو چھانٹ کر ان سے الگ کر دیا جائے۔

اس اعلیٰ درجے کے روحانی سماج میں کون لوگ شامل ہوں گے، ان کا ذکر قرآن میں چار گروہ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (4:69)۔ یعنی اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ اس اعلیٰ سماج کی خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ حسن رفاقت کا سماج ہوگا۔ وہاں کوئی انسان دوسرے انسان کے لیے کوئی مسئلہ (nuisance) پیدا نہیں کرے گا۔ ہر انسان دوسرے انسان کا بہترین ساتھی ہوگا۔ ہر انسان قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہر انسان دوسرے انسان کا سچا رفیق ہوگا، کوئی انسان دوسرے انسان کا حریف نہ ہوگا۔ اعلیٰ اخلاقی اقدار (high moral values) کا حامل ہوگا۔ ہر انسان کامل درجے میں سچائی اور دیانت داری (honesty) کی صفات سے متصف ہوگا، وغیرہ۔

اس تخلیق کے مطابق جو تصویر بنتی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ نے چاہا کہ وہ اعلیٰ درجے کی ایک دنیا اسی اعلیٰ درجے کی دنیا کا نام جنت (Paradise) ہے۔ اس تخلیق کا نقشہ اس اعتبار سے بنایا گیا جو اعلیٰ درجے کے مطلوب انسان کو وجود میں لانے میں مددگار ہو سکے۔ چوں کہ یہ انسان وہ تھے جو سیلف میڈ مین (self-made man) کے معیار پر پورے اترے۔ اس لیے اس تخلیقی منصوبہ کے مکمل ہونے میں تقریبا تیرہ بلین سال لگے۔ اس تخلیقی مدت کو اس طرح بنایا گیا کہ انسان اپنی عقل (reason) کو استعمال کر کے ان کو اپنی تعمیرِ شخصیت کے لیے استعمال کر سکے۔ دعوت، اکیسویں صدی میں خالق کی تخلیقی اسکیم (creation plan) ہمیشہ سے ثابت شدہ حقیقت تھی۔ صدی کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا ہے۔ جب کہ نظری حقائق، مادی حقائق کی روشنی میں قابل فہم

(understandable) بن گئیں۔ مثلاً غیب پر ایمان قدیم زمانے میں ایک عقیدہ کی بات تھی۔ موجودہ زمانے میں کوانٹم فزکس (quantum physics) کی دریافت کے بعد یہ صرف نظری بات نہ رہی، بلکہ پراببیلیٹی (probability) کے درجے میں تقریباً قابل یقین حقیقت بن گئی۔ پراببیلیٹی جدید سائنس کا ایک اہم اصول ہے۔ کہا جاتا ہے:

probabilty is less than certainty but it is more than perhaps موجودہ زمانے میں جن چیزوں کو سائنسی حقیقت (scientific fact) کہا جاتا ہے، ان سب کا معاملہ یہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک پراببیلیٹی کے درجے میں مسلمہ حقیقت بنی ہیں، نہ کہ مشاہدہ کے درجے میں۔ یہی معاملہ مذہبی عقائد یا تصورات کا ہے۔ اس زمانے میں مذہبی تصورات اسی تسلیم شدہ درجے میں ثابت شدہ بن چکے ہیں، جس درجے میں مسلمہ سائنسی حقائق۔ تخلیقی نقشہ کے مطابق، تاریخ انسانی میں ایک فائنل رول مقدر ہے۔ یعنی آخرت کے ظہور سے پہلے حقیقت کا ایک آخری اعلان۔ یہ آخری اعلان خدا کی توفیق سے ایک ایسا گروہ انجام دے گا، جو پورے تاریخی پراسس کی آخری پیداوار ہو، جو تخلیقی ارتقا کے آخر میں وجود میں آیا ہو، جس پر پوری تاریخ منتہی ہوئی ہو، جو ماضی اور حال کے تمام تاریخی ڈیولپمنٹ (historical development) کا مثبت شعور رکھتا ہو۔

یہ گروہ وہ ہوگا جو کتاب تاریخ کے آخری پیراگراف کو لکھے گا۔ جو اپنے آفاقی شعور کی بنا پر اس قابل ہوگا کہ انسانیت کے لیے حجت بن جائے۔ جو تمام مواقع (opportunities) کو مثبت طور پر استعمال کرے۔ اور پھر خدائی سچائی کا وہ عالمی اعلان کرے، جس کے بعد کوئی انسان بے خبری کا عذر پیش نہ کر سکے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں عالمی ادخَالَ کلمہ سے تعبیر کیا گیا حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)

Printed page