Al-Risala · March 2017

انعامات خداوندی

Al-Risala, March 2017, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الحدید کی ایک آیت یہ ہے: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَويُّ عَزِيزٌ (57:25)۔ یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ اتارا کتاب اور ترازو، تا کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ ہم نے لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں اور تا کہ اللہ جان لے کہ کون اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے بن دیکھے، بیشک اللہ طاقت والا، زبردست ہے۔ آیت کے آخری حصہ میں اللہ کی دو صفتوں، قوی وعزیز (all-strong, almighty) کا اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں اللہ کی کامل اور جامع نعمتوں کا بیان اس اعتبار سے یہ آیت بے حد اہمیت کی حامل ہے۔

قرآن کی اس آیت میں انسان کے اوپر اللہ کی دو بڑی نعمتوں کا ذکر ہے۔ ان دو بڑی نعمتوں کے ذریعے انسان کے لیے تمام سعادتوں کے دروازے کھولے گیے ہیں۔ انسان کو دنیا اور آخرت میں ترقی کے لیے جو کچھ درکار ہے، وہ سب آیت میں بتا دیا گیا ہے۔ تا کہ انسان غور کر کے ان کو سمجھے، اور صحیح اسپرٹ کے ساتھ ان کو اپنے حق میں استعمال کرے ۔

قرآن کی اس آیت میں رسول سے مراد پیغمبر (prophet) ہیں ۔ بینات سے مراد وہ معجز نشانیاں ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے ہیں کہ پیغمبر حقیقی معنوں میں اللہ کا پیغمبر ہے۔ یہ معجز نشانیاں ایسی ہیں جو ہر ذی عقل انسان کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہیں کہ وہ شخص یقیناً اللہ کا نمائندہ ہے۔ کوئی شخص پیغمبر کا انکار کرتا ہے تو اس کے پاس اپنے انکار کا کوئی جواز (justification) موجود قسط سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر صراط مستقیم کہا گیا ہے۔ یعنی دنیا میں زندگی گزارنے کا وہ راستہ جو خالق کے نزدیک مقبول راستہ ہے۔

قسط (justice) کے ساتھ یہاں لیقوم کا لفظ آیا ہے۔ یعنی اس سے مراد کسی فرد کا خود اپنی زندگی میں قسط کا پیرو بننا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی قسط کا جھنڈا اٹھائے اور سیاسی اقتدار حاصل کر کے قسط کو لوگوں کے اوپر نافذ (implement) کرے۔ نحوی اعتبار سے یہ کہ قسط کا حکم یہاں لازم کے صیغہ میں ہے، وہ متعدی کے صیغہ میں نہیں۔

حدید کا لفظی مطلب لوہا (iron) ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حدید کا لفظ غالباً علامتی طور پر آیا ہے۔ یعنی اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو موجودہ زمانے میں ٹکنالوجی کہا جاتا ٹکنالوجی کی تعریف یہ کی گئی ہے :

The branch of knowledge dealing with engineering or حدید ایک علامتی لفظ ہے۔ اس سے مراد وہ تمام معدنیات ہیں جن کو استعمال کر کے موجودہ زمانے کی مشینیں بنتی ہیں، اور ان کو دورِ جدید کی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ الہ رسالہ پوسٹنگ کا عمل ہر ماہ کی دو تاریخ سے شروع ہوتا ہے۔ لہذا آپ سے گزارش ہے کہ الرسالہ کی سبسکرپشن، تجدید یا کسی قسم کی تبدیلی دو تاریخ سے پہلے اس کے بعد کوئی بھی تبدیلی اگلے مہینے سے مؤثر ہوگی۔ جن لوگوں کو اکثر الرسالہ موصول نہ ہونے کی شکایت رہتی ہے ان سے گزارش ہے کہ اپنے نزدی کی پوسٹ آفس میں شکایت درج کرائیں یا الرسالہ رجسٹرڈ ڈاک سے ہی نہ ملنے کی صورت میں الرسالہ دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ برائے مہربانی سبسکرپشن کی رقم بھیجنے کے بعد الرسالہ کسٹمر سروس کو ضرور

Printed page