ایمان کو سیکھنا
Al-Risala, March 2017, pp. 8–10
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صحابی صحبت رسول کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں: عن جندب، قال: كنا مع نبينا صلى الله عليه وسلم فتيانا حزاورة فتعلمنا الإيمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فنزداد به إيمانا، فإنكم اليوم تعلمون القرآن قبل الإيمان (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 1678)۔ یعنی جندب بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم جوانی کی عمر میں تھے۔ پس ہم نے قرآن کا علم حاصل کرنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہو گیا۔ اور تم لوگ آج قرآن سیکھتے ہو ایمان سے پہلے۔
انٹرنیٹ پر ایک عرب، محمد العبادی نے اس کی شرح ان الفاظ میں کی ہے: تعلم الإيمان قبل القرآن يعني تهيئة القلب لتلقي تعاليم القرآن والاهتداء بأنواره، فهو كتهيئة الأرض حتى تكون صالحة للزرع (ملتقى اهل التفسير vb.tafsir.net)، الإيمان یعنی "ایمان سیکھنا قرآن سے پہلے" کا مطلب یہ ہے دل کو تیار (prepare) کرنا، تا کہ وہ اخذ کر سکے قرآن کی تعلیمات کو، اور اس کی روشنی سے ہدایت پا سکے۔ پس وہ ایسا ہے جیسے زمین کو تیار کرنا تا کہ وہ کھیتی کے قابل ہو جائے ۔
اس روایت کا مطلب کنڈیشننگ (conditioning) کے اصول سے سمجھ میں آتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ ہر پیدا ہونے والا لازمی طور پر اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ماحول کا پروڈکٹ بن جاتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ ایسی حالت میں ایمان قبول کرنا، اپنے ذہن کے اعتبار سے ایک ایسی چیز کو قبول کرنا ہے جو آدمی کے لیے ایک نئی چیز اس لیے ہمیشہ یہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی نئی چیز کو متاثر ذہن (conditioned mind) کے ساتھ دیکھے، اور اس کو درست طور پر سمجھ نہ سکے۔ ایسی حالت میں ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ
ایمان سے پہلے ایک پیشگی کام کرے۔ یعنی اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کر کے اس کو تیار ذہن (prepared mind) بنائے، تاکہ وہ نئی چیز کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھے، اور بے آمیز صورت میں اس کو لے سکے۔
یہ گویا تطہیر ذہن (purification of the mind) کا معاملہ ہے۔ اس تطہیر کے بغیر کوئی بھی شخص، ایمان کو حقیقی طور پر نہیں سمجھ سکتا۔ اس تطہیر کے بغیر اگر وہ ایمان قبول کرتا ہے تو وہ اس کے لیے داخل القلب ایمان (الحجرات : 14) نہ ہوگا، بلکہ وہ ایمان لپ سروس (lip service) کے طور پر ہوگا، اور لپ سروس والا ایمان شریعت میں معتبر نہیں۔ تطہیر ذہن کا یہ عمل صرف ابتدائی دور کے کچھ صحابہ کے لیے نہیں تھا، بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے اور ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ کوئی بھی شخص جو بعد کے زمانے میں ایمان قبول کرتا ہے، تو اس کو سب سے پہلے اپنے داخل القلب کو مطہر اور مزکیٰ بنانا پڑے گا۔ یعنی پوری طرح اپنی ڈی کنڈیشننگ جو شخص اس ابتدائی شرط کو پورا کرے، اسی کا ایمان سچا ایمان ہے۔ جو آدمی اس ابتدائی شرط کو پورا کیے بغیر صرف پیدائش کے طور پر مسلم بن جائے، یا کلمہ کے الفاظ کو زبان سے ادا کر کے اسلام قبول کرلے، اس کا ایمان اللہ کے نزدیک معتبر ایمان نہ ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ یا تو پہلے مرحلے میں یا بعد کے مرحلے میں اپنا محاسبہ کر کے بھر پور طور پر اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشنگ اپنے آپ کو مطہر اور مزکیٰ بنائے۔ اس کے بعد ہی، اس کا ایمان معتبر ہوگا۔ اس کے بعد ہی اس کا ایمان اس کے لیے ہدایت کی روشنی بنے گا۔ اس کے بعد ہی وہ اس قابل ہوگا کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس آیت کا مصداق بنے۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے: یعنی کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے حقیقت یہ ہے کہ ایمان و اسلام کا معاملہ ایک پراسس کا معاملہ ہے۔ پہلے آدمی شعوری طور پر اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اب تک بے خبری کی زندگی گزار رہا تھا۔ اندھیرے کے بعد اس
پر روشنی کا دروازہ کھلا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنا محاسبہ (introspection) کرکے اپنی بھر پورڈی کنڈیشننگ کرتا ہے، اس کے بعد وہ اپنے آپ کو آلودگی سے پاک کرکے وہ ذہن بناتا ہے جس کو شریعت میں مز کی شخصیت کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ قرآن کو پڑھے اور اس کو گہرائی کے ساتھ اپنا سکے۔