Al-Risala · March 2017

مبارک لوگ

Al-Risala, March 2017, pp. 10–13

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مشہور حدیث ہے: بدأ الإسلام غريبا، وسيعود كما بدأ غریبا، فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، حدیث نمبر 145)۔ یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا، جیسا کہ وہ شروع میں تھا۔ پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اجنبی ہو جائیں۔ غریب کا مطلب اجنبی (stranger) ہے۔ اجنبیت کا لفظ ایک تقابلی لفظ ہے۔ یعنی کسی کے مقابلے میں اجنبی ہو جانا۔ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیغمبر اسلام قدیم عرب میں آئے۔ اس وقت وہاں بنواسماعیل آباد تھے۔ ابتدا وہ لوگ دین ابراہیم پر قائم تھے، مگر ان کی بعد کی نسلوں پر زوال آیا۔ اب بھی دین ابراہیم کا نام لیتے تھے، لیکن وہ عملاً اصل ابراہیمی دین پر نہ تھے۔ بعد کے زمانے میں حقیقی ابراہیمی دین ان کے درمیان اجنبی ہو چکا تھا۔ وہ دین ابراہیم کے ایک خود ساختہ ورژن (version) کو ابراہیم کا دین سمجھنے لگے تھے۔ اس اجنبیت کی بنا پر وہ پیغمبر اسلام کے مخالف بن گیے۔ پیغمبر اسلام، ابراہیم علیہ السلام کے اسی دین کو زندہ کر رہے تھے، جس کو رسول اللہ کے معاصر عرب اپنے قومی فخر کے طور پر لیے ہوئے تھے۔

مذکورہ حدیث کے مطابق، یہی معاملہ بعد کے زمانے میں دین اسلام کے ساتھ پیش آئے یعنی قرآن وسنت والا دین زوال یافتہ مسلمانوں کے درمیان ایک اجنبی دین بن جائے گا۔ وہ دین محمدی کا نام لیں گے، اور اس پر فخر کریں گے۔ لیکن حقیقی اعتبار سے وہ دین محمدی سے اتنا دور ہو چکے ہوں گے کہ اصل دین محمدی ان کے لیے ایک اجنبی دین کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ ابراہیمی اور دین محمدی دونوں اپنی اصل کے اعتبار سے خالص توحید کے مذاہب تھے۔ لیکن بعد کے

زمانے میں دونوں کے ماننے والوں پر زوال آئے گا۔ دونوں کے ماننے والے بظاہر دین ابراہیمی اور دین محمدی کا نام لیں گے، لیکن عملاً وہ اتنا زیادہ بگاڑ چکے ہوں گے کہ ان کے درمیان اصل دین ابراہیمی اور اصل دین محمدی، دونوں اجنبی دین کی مانند بن جائیں گے۔

"مبارک اجنبی" سے مراد کون لوگ ہیں۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جو اس معاملے کا مطالعہ غیر متعصبانہ طور پر کریں، جو کھلے ذہن کے ساتھ باتوں کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کریں، جو اپنی ڈی کنڈیشننگ کر کے اپنے کو اس قابل بنائیں کہ دین محمدی کو اس کی اصل صورت میں پہچان سکیں۔ اس کے بعد وہ بگڑ کے زمانے میں اصل دین کو دوبارہ دریافت (rediscover) کریں۔ کے زمانے میں بننے والی تاریخ کو حذف کر کے دوبارہ پیغمبر کے لائے ہوئے دین کو سمجھیں۔ لوگ اگر چہ لوگوں کے نزدیک اجنبی ہو جائیں گے لیکن اللہ کی نظر میں وہ خوش قسمت لوگ ہیں۔ کے لیے اللہ کے یہاں بڑے درجات ہیں۔

ساتویں صدی عیسوی میں ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام نے اہل عرب کے سامنے دین ابراہیمی کو اس کی بے آمیز صورت میں پیش کیا (الحج: 78)۔ لیکن قدیم اہل عرب پیغمبر اسلام کے مخالف بن گئے۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ جب کہ وہ خود اس بات پر فخر کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم کو ماننے والے لوگ ہیں، تو وہ پیغمبر اسلام کے مخالف کیوں ہو گئے۔ یہ روش اہل عرب کی بعد نسلوں کی تھی۔ یعنی اہل عرب (بنو اسماعیل) کی بعد کی نسل کے اندر دھیرے دھیرے اصل دین ابراہیم کی اسپرٹ ختم ہو گئی۔ کے یہاں دین کے نام سے ایک قومی کلچر بن گیا، جس کو بطور خود وہ دین ابراہیم کا نام دینے لگے۔ جب کہ اصل صورت حال یہ تھی کہ آپ ابراہیمی دین ہی کو ان کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ ان کی مخالفت کا سبب یہ تھا کہ اصل دین ابراہیم ان کے یہاں اجنبی دین بن چکا تھا۔ وہ اپنے قومی کلچر کو دین ابراہیم کے نام سے جاننے لگے تھے۔ یہی سبب تھا جس کی بنا پر وہ پیغمبر اسلام کے مخالف بن حتیٰ کہ آپ کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔

یہ صورت حال صرف قدیم عربوں کی نہ تھی، بلکہ یہ ایک عمومی تاریخی ظاہر ہ ہے، جو ہر قوم کے

ساتھ ہمیشہ پیش آتا ہے۔ ہر قوم میں ایسا ہوتا ہے کہ ابتداء اُجو چیز ان کے یہاں مذہب کے طور پر ہوتی ہے، وہ بعد کی نسلوں کے لیے ایک قومی کلچر بن جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو بعد کی نسلوں کے لیے اصل مذہب ایک اجنبی چیز بن جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے لوگ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے اپنے آپ کو دوبارہ اس قابل بنائیں کہ وہ اصل مذہب کو پہچان سکیں۔ امت مسلمہ کی اصلاح ایک مستقل موضوع ہے جس پر لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے اور بہت کچھ بولا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مسلسل بحث جاری رہتی ہے۔ تاہم اس موضوع پر ایک متعلق روایت ہے جو اس سلسلے میں ایک رہنما روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ روایت وہب ابن کیسان کی ہے جو اعلیٰ درجہ کے فقیہ مانے جاتے ہیں۔ وہ مدینہ میں پیدا ہوئے ۔ یہیں انھوں نے تعلیم پائی، اور کئی صحابہ سے ملاقات کی ۔ مثلاً ابن عباس، ابوسعید الخدری، جابر بن عبد اللہ، ابن الزبیر، اور عمر و بن ابی سلمہ، وغیرہ۔ وہ امام مالک ( وفات: 179 ھ ) تبع تابعی، وغیرہ کے استاد تھے۔ وفات 127 ھ میں مدینہ میں ہوئی۔

امام مالک اپنے استاد وہب ابن کیسان کے بارے میں کہتے ہیں: کان وہب بن کیسان يقعد إلينا، ثم لا يقوم أبدا حتى يقول لنا إنه لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها، قلت له: يريد ماذا؟ قال يريد التقى (مسند الموطا للجو ہری ، حدیث نمبر 783)۔ وہب ابن کیسان تابعی ہمارے درمیان بیٹھتے، پھر وہ اٹھنے سے پہلے ہمیشہ یہ کہتے : بیشک اس امت کے آخر کی اصلاح اسی طریقے سے ہوگی، جس طریقے سے اس امت کے پہلے کی اصلاح ہوئی۔ نے پوچھا کہ اس سے وہ کیا مراد لیتے تھے۔ امام مالک نے کہا: اس سے ان کی مراد تقویٰ ہوتی تھی۔ بعد کے زمانے سے مراد زوال کا زمانہ ہے۔ امت کا بعد کا زمانہ خلا کا زمانہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ بھر پور سرگرمیوں کا زمانہ ہوگا۔ بعد کے زمانے میں لوگوں کے پاس اپنے ماضی کی بنیاد پر ایک تاریخ ہوگی، ایک کلچر ہوگا، دین کا ایک تصور ہوگا، وغیرہ۔ اس کے باوجود وہ اصل دین سے دور جا چکے ہوں

ان کی اصلاح کی صورت صرف یہ ہوگی کہ ان کو پیچھے کی طرف لوٹایا جائے۔ ان کو دوبارہ اس دین پر قائم کیا جائے ، جو دورِ اول میں رسول اور اصحاب رسول کے درمیان پایا جاتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ پیغمبر کے بعد امت کے درمیان ایک تاریخ بننا شروع ہوگی۔ دھیرے دھیرے وہ وقت آجائے گا، جب کہ لوگ اسلام کا نام لیں گے ، لیکن عملاً وہ بعد کے زمانے میں بننے والی تاریخ پر کھڑے ہوں گے۔ اب ان کا ماڈل بعد کو بننے والی تاریخ کا ماڈل ہوگا، نہ کہ رسول اور اصحاب رسول کا ماڈل۔ ایسی حالت میں ضروری ہوگا کہ لوگ اسلام اور مسلم تاریخ کے درمیان فرق کو دریافت کریں۔ وہ بعد میں بننے والی تاریخ کو حذف کر کے اصل اسلام کو جانیں، اور اس پر دوبارہ قائم ہو جائیں۔ گویا کہ ان کے لیے اسلام دریافت ثانی (rediscovery) کا موضوع بن چکا ہوگا۔ اس دریافت ثانی کے بغیر اصل دین ان کے لیے اجنبی بن چکا ہوگا۔ اس اجنبیت کو دور کرنے کی صورت صرف یہ ہوگی کہ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کریں۔

دونوں زمانے کے فرق کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ دو راول کا دین مبنی بر تقویٰ ہوگا، مگر زوال کا دور آنے کے بعد لوگوں کے درمیان ایک ایسا دین رائج ہو جائے گا، جو ایک قسم کا قومی دین وہ خدا رخی دین نہ ہوگا، بلکہ وہ قومی رخی دین بن جائے گا۔

یہاں یہ سوال ہے کہ تقویٰ کیا چیز ہے۔ جس کے مفقود ہونے کی وجہ سے بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے حقیقی دین اجنبی دین بن جائے گا۔ اس روایت کے مطابق ابتدائی دور کے اہلِ ایمان تقویٰ کا طریقہ اختیار کر کے اصلاح یافتہ بنے تھے۔ بعد کے زمانے کے لوگوں کو بھی یہی کرنا ہوگا کہ وہ اپنی غیر متقیانہ روش کو چھوڑیں، اور دوبارہ تقویٰ کے طریقے کو اختیار کریں۔ تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک ایسی روش کو اختیار کرے جو اللہ کے مواخذہ کے تصور پر مبنی ہو، جو اللہ کے سامنے جوابدہی کے احساس پر قائم ہو۔

اس نمبر کے علاوہ باقی سبھی نمبر بند کر دیے گئے ہیں۔

Printed page