مصیبت کیوں
Al-Risala, March 2017, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
خالق نے انسان کو احسن تقویم (التین: 4) کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کے بعد اس کو اسفل سافلین (suffering) میں ڈال دیا۔ یہ معاملہ کسی سزا کے لیے نہیں ہوا، بلکہ رحمت کے لیے ہوا۔ اس لیے کہ انسان کو بے پناہ امکانات (potential) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ خالق چاہتا ہے کہ اس کے یہ امکانات واقعہ بنیں۔ اور آزاد انسان کے لیے اپنے امکانات کو واقعہ بنانے کا یہی واحد فطرت کے قانون کے مطابق، مصیبت سے آدمی کی حساسیت جاگتی ہے۔ سے سوچ پیدا ہوتی ہے۔ اور پھر سوچ نئی دریافت تک پہنچتی ہے :
suffering produces sensitivity, sensitivity leads to greater thinking, and thinking results into discovery. مذکورہ معاملہ کو اس زاویہ سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ سفرنگ (suffering) انسان کے لیے نعمت (blessing) ہے۔ سفرنگ کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے پوٹینشل (potential) کو واقعہ (actual) بنا سکے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے انسان کے فطری امکانات ظہور میں آتے ہیں۔ یہ عمل (process) میں (man) کو سوپر مین (superman) بنانے والا ہے۔
تاریخ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ تاریخ میں جتنے بڑے آرٹسٹ ہوئے ہیں، وہ سب سفرنگ سے گزر کر آرٹسٹ بنے ہیں۔ مثلاً جان ملٹن (1674-1608) انگلش زبان کا ایک عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ یہ درجہ اس کو اس کی کتاب فردوس گم گشتہ (Paradise Lost) کی وجہ سے یہ کتاب چھ سال میں مکمل ہوئی۔ اندھا ہو جانے کی وجہ سے وہ خود اپنے ہاتھ سے لکھ نہیں سکتا اس نے اس کتاب کو املا کرایا :
Milton wrote Paradise Lost entirely through dictation with the help of amanuenses and friends.