پیغمر اسلام کا رول
Al-Risala, January 2017, pp. 14–17
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آتی ہے: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً (49:29) ۔ محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے سجدہ کے اثر سے، ان کی یہ مثال تو رات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنا ٹنکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر اپنے تنّے پر کھڑا ہو گیا، وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے تا کہ ان سے منکروں کو جلائے۔ ان میں سے جولوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔
اس آیت میں اصحاب رسول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ منکروں پر شدید ہیں۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ منکروں پر سخت گیر ہوتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ منکروں کا اثر قبول نہیں کرتے۔ یعنی وہ مضبوط سیرت (strong character) کے لوگ ہیں۔ ان کی یہ صفت ان کو اس کمزوری سے بچاتی ہے جس کو قرآن میں مضاہاۃ (التوبہ: 30) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنے دین کے معاملے میں خارجی کلچر کا اثر قبول کر لینا ۔
پھر اصحاب رسول کی یہ صفت بیان کی کہ وہ آپس میں مہربان ہیں۔ یہ اخلاقی برتاؤ کی بات نہیں بلکہ اس سے مراد ان کا طاقت ور باہمی اتحاد ہے۔ وہ کسی اختلاف کو شکایت (complaint)
کا معاملہ نہیں بناتے، بلکہ اس کو نظر انداز کر کے، اپنے متحدہ جد و جہد کو پوری طرح باقی رکھتے ہیں۔ کوئی ناموافق بات کبھی ان کے باہمی اتحاد کو توڑنے والی نہیں بنتی۔
اس کے بعد تراهم الخ کا جملہ ہے۔ یہ جملہ ان کی داخلی ربانی حالت کو بتاتا ہے۔ ان کا یہ ربانی مزاج اس بات کا ضامن ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی رضا والے راستے پر قائم رہیں۔ ان کی داخلی اسپرٹ کبھی کمزور نہ ہونے پائے۔ اصحاب رسول کی صفت پیشگی طور پر تورات میں بتا دی گئی موجودہ تورات میں اس کے لیے دس ہزار قدوسیوں (ten thousand saints) کا لفظ موجود ہے (استثناء : 33:2)۔
انجیل کی تمثیل میں اصحاب رسول کا ایک مزید رول یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تاریخ میں ایک زرع یا بیج (seed) ڈالنے کا کام کریں گے، جو آخر کار بڑھ کر ایک مکمل درخت بن جائے گا۔ یہاں تمثیل کی زبان میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اصحاب رسول اپنی غیر معمولی جد و جہد کے ذریعے انسانی زندگی میں ایک تاریخی عمل (historical process) جاری کریں گے، جو آخر کار ایک عظیم انقلاب تک اس انقلاب کے دو خاص پہلو تھے۔ ان دونوں پہلووں کو قرآن میں اختصار کی زبان میں بتایا
صحابہ اور تابعین کے اس رول کو قرآن کی درج ذیل آیت کا مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے: الَّذِينَ إِنْ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (22:41)۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں قدرت دیں تو نماز پڑھیں، زکوٰۃ دیں، نیک کام کرنے کا حکم دیں برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
قرآن کی اس آیت میں تمکین فی الارض سے مراد سیاسی استحکام (political stability) تاریخ بتاتی ہے کہ صحابہ اور تابعین کی جماعت کو جب پولیٹکل استحکام ملا تو اس کو انھوں نے انھیں مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ مقاصد تین تھے عبادت، زکوٰۃ، امر بالمعروف
ونہی عن المنکر۔ یہاں ان تینوں سے مراد انفرادی عمل نہیں ہے، بلکہ اجتماعی زندگی میں ان کا نظام قائم کرنا ہے۔
عبادت سے مراد مسجد کا نظام اور حج کا نظام قائم کرنا ہے۔ نیز اس میں دینی تعلیم کا نظام بھی تو سیعاً شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی استحکام کو انھوں نے کسی سیاسی نشانہ (political goal) کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ اہل ایمان کی دینی زندگی کو منظم صورت میں قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس تنظیم میں زکوٰۃ کا نظام بھی شامل ہے۔
امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے مراد کوئی سیاسی نظام نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ دین کے تقاضوں کو منظم انداز (organised way) میں انجام دینا۔ مثلا قرآن کو محفوظ کرنا، حدیث کی جمع و تدوین، اسلامی فقہ کو مرتب کرنا، اور دوسرے ان غیر سیاسی کاموں کو انجام دینا، جس کے نتیجے میں بعد کے زمانے میں امت مسلمہ کا ایک منظم دینی ڈھانچہ قائم ہوا۔ اور جواب تک کسی نہ کسی صورت میں عملاً موجود ہے۔
قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اجر عظیم (great reward) سے مراد ثواب عظیم نہیں ہے، بلکہ نتیجہ عظیم ہے، جو بعد کی تاریخ میں پیش آیا۔ اس عظیم نتیجہ کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقِّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
صحابہ اور تابعین کی کوششوں سے اسلام کا مکمل اظہار ہوا۔ لیکن یہ اظہار روایتی دور (traditional age) کے اعتبار سے تھا۔ اسلام کا ایک اور اظہار ابھی باقی تھا۔ اور وہ تھا عقلی فریم ورک (rational framework) کے مطابق، اسلام کا اظہار۔ اس مقصد کے لیے تاریخ میں ایک نیا انقلاب لانا ضروری تھا۔ یہ انقلاب وہی ہے جو بعد کے دور میں سائنٹفک انقلاب (scientific revolution) کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یعنی فطرت کی چھپی ہوئی طاقتوں کو
اور اس کے مطابق، تاریخ میں ایک نیا دور لانا۔ یہ دور عملاً وہی ہے جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔
اس دوسرے دور کا آغاز مسلمانوں نے اپنے دور میں کیا، لیکن اس کی تکمیل بعد کے زمانے میں مغربی قوموں کے ذریعے انجام پائی۔ اس انقلاب کا پر اس مسلم عہد میں شروع ہوا، لیکن اس کی تکمیل بعد کے زمانے میں جدید تہذیب (modern civilization) کی صورت میں دنیا کے
دوسری قوموں کے ذریعے اس کام کا انجام پانا، احادیث رسول میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، ان میں سے ایک روایت یہ ہے : ان اللہ عز وجل ليؤيد الإسلام برجال ماهم من أهله (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 56) ۔ اللہ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔ تہذیب جس کو مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ حقائق فطرت کے انکشاف پر مبنی ہے۔ قرآن کی زبان میں اس کو آفاقی تہذیب (فصلت: 53) کہا جاسکتا ہے۔ اس تہذیب میں اگر بعض غیر مطلوب اجزاء شامل ہیں، تو وہ براہ راست طور پر تہذیب کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ وہ مغربی کلچر کا حصہ ہیں۔ برہنگی (nudity) وغیرہ۔
سہارن پور (یوپی) میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: اس کی یہ رائے دہی اوپر کے تمام امور میں جا بجا نظر آتی ہے