Al-Risala · March 2017

دورِ زوال کا ایک ظاہرہ

Al-Risala, March 2017, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے زوال کے بارے میں پیشین گوئی کے طور پر کہا تھا کہ تم لوگ ضرور پچھلی امتوں کی پیروی کرو گے، قدم بقدم۔ یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں، تو تم بھی اس میں گھس جاؤ گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7320)۔ گوہ (Monitor Lizard) کے بل میں گھسنا ایک بے عقلی کا کام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اگر اپنے دورِ زوال میں کوئی بے عقلی کا کام کیا ہو تو تم اس کو بھی دہراؤ گے۔ زوال میں یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر عقلی غور و فکر کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس بنا پر وہ اپنے زوال یافتہ مزاج کے تحت ایسے کام کرنے لگتے ہیں، جس کا عقل سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ یہوداپنے دورِ زوال میں ایک فعل کرتے تھے جس کو فرضی قصور وار (scapegoat) ٹھہرانا کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنی غلطی کو فرضی طور پر کسی دوسرے کے اوپر ڈالنا۔ کے حوالے سے اس معاملے کی ایک مثال بائبل عہدنامہ قدیم میں اس طرح آئی ہے: The other goat, the scapegoat chosen by lot to be sent away, will be kept alive, standing before the Lord. When it is sent away to Azazel in the wilderness, the people will be purified and made right with the Lord.

فرضی طور پر کسی دوسرے کو قصور وار (scapegoat) ٹھہرانا موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بہت زیادہ عام ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اپنی تمام کمیوں اور غلطیوں کے لیے کسی نہ کسی مسلم دشمن کو دریافت کیے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے خود ساختہ طور پر ایک اصطلاح وضع کر رکھی ہے، جس کو وہ دشمنانِ اسلام کی سازش کہتے ہیں۔ اسی روش کا دوسرا خود ساختہ نام اسلامو فوبیا اسلامو فوبیا دراصل اسکیپ گوٹ فوبیا (scapegoat) کا دوسرا نام یہ ظاہرہ حدیثِ رسول کی پیشین گوئی کے عین مطابق ہے۔

Printed page