سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے
Al-Risala, March 2017, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اصول زیادہ بہتر طور پر انسان کی عمر کے معاملے میں چسپاں (apply) ہوتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ بڑھاپے سے پہلے کے دور حیات میں وہ اپنے آپ کو آخرت کے لیے تیار کرلے۔ کیوں کہ بڑھاپے کے بعد کے دور حیات میں کسی کے لیے یہ موقع باقی نہیں رہتا کہ وہ آخرت کے لیے مطلوب قسم کی تیاری کر سکے۔
تاہم چالیس سال کے بعد کسی انسان کے لیے عمر کا جو دور آتا ہے، وہ اس کی زندگی کا بہترین حصہ ہوتا ہے۔ اس دور میں وہ زیادہ سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر پختگی (maturity) آجاتی ہے۔ اس کا ذہنی ارتقا (intellectual development) اپنی تکمیل کے دور میں پہنچ جاتا ہے۔ ایسے تجربات (experiences) حاصل ہوجاتے ہیں، جو اس کی صحیح طرز فکر کے لیے رہنما بن سکیں۔ چالیس سال کے بعد کسی انسان کی زندگی میں جو دور آتا ہے، وہ اس کے لیے آخرت کی تیاری کا بہترین دور ہوتا ہے۔ اب عملاً وہ فطری انسان (man cut to size) بن چکا ہوتا ہے۔ اس کے پاس زیادہ تیار ذہن (prepared mind) ہوتا ہے، جس کی روشنی میں وہ زیادہ درست طور پر اپنے مستقبل کا نقشہ بنا سکے۔ چالیس سال کے بعد کی عمر میں زیادہ ممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی بے خطا انداز میں اپنے آپ کو آخرت کے لیے تیار کر سکے— دانش مند وہ ہے جو اپنے اس حصہ عمر کو استعمال کرے، اور غیر دانش مند وہ ہے جو اپنے اس حصہ عمر کو استعمال کیے بغیر کھودے۔