صحیح طرزِ فکر
Al-Risala, March 2017, pp. 41–42
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن الاعرابی (وفات : 231ھ) کو عربی زبان کا امام کہا جاتا ہے۔ ان کا تعلق عراق سے تھا۔ انھوں نے ایک قدیم عربی قول کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے : خذ ما صفا ودع ما کدر (لسان العرب، تحت لفظ الكدر)۔ یعنی جوصاف ہو اس کو لے لو، اور جو صاف نہ ہو اس کو چھوڑ دو۔ یہ سادہ الفاظ میں حکمت (wisdom) کی تعریف ہے۔
انسان ایک آزاد مخلوق ہے۔ اس بنا پر انسانی دنیا ہمیشہ افکار کا جنگل رہی ہے۔ افکار کے اس جنگل میں انسان کو سوچنا پڑتا ہے، اور یہ جاننا پڑتا ہے کہ اس کی نسبت سے کون سی بات قابلِ اخذ ہے اور کون سی بات قابلِ ترک۔ اس بات کو علمی انداز میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ حکمت اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی افکار کے ڈھیر میں متعلق کو دریافت کرے، اور غیر متعلق کو چھانٹ کر الگ
The ability to discover the relevant after sorting out the irrelevant. مثلاً مغربی تہذیب کو لیجیے۔ جدید مغربی تہذیب میں کچھ چیزیں وہ ہیں جو فطرت کے ابدی قانون پر مبنی ہیں۔ مثلاً کشش ارض کا اصول فطرت کا ایک ابدی قانون ہے۔ اس کے مقابلے میں مغربی کلچر ماحول کے اثر سے بنا ہے۔ صاحبِ فکر آدمی کا کام ہے کہ وہ ان میں تنقیح کرے۔ یعنی خالص کو ردی سے جدا کر کے بیان کرے۔ ایسا کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے کلام میں وضوح (clarity) اس کو سننے یا پڑھنے والے آدمی کا ذہن ایڈریس ہوگا ۔ وہ فیصلہ کر سکے گا کہ وہ درست طور پر کس طرح سوچے، اور درست طور پر کس طرح اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے ۔
اس اعتبار سے کلام کی دو قسمیں ہیں۔ منقح کلام اور غیر منقح کلام ۔ منقح انداز میں کلام کرنا، ایک بے حد مشکل کام ہے۔ یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جو حکیمانہ طرزِ فکر کا حامل ہو، وسیع مطالعہ کی بنا پر جس کی پہنچ علوم کے سرے تک ہو گئی ہو ۔
شاع نمبر ۳۱۵ ابوتمام الطائی ( 188 - 231ھ ) عربی زبان کا ایک مشہور ادیب اور شاعر ہے۔ پیدائش شام کی ایک بستی جاسم میں ہوئی۔ ایک بار وہ خراسان جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ ہمدان کا علاقہ پڑتا تھا۔ وہاں پر ابو الوفاء ابن سلمہ نامی ایک امیر نے ان کو اپنا مہمان بنایا۔ ہمدان میں ہی تھے کہ شدید برفباری شروع ہوگئی، اور راستہ بند ہوگیا۔ اس موقع پر ابو تمام کو ابو الوفاء ابن سلمہ کا کتب خانہ دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ کتب خانہ کافی بڑا تھا۔ اس کتب خانے میں جاہلی اور اسلامی ادوار کے عرب شعراء کا کلام موجود تھا۔ ابو تمام نے عرب شعرا کے ان مجموعوں کا مطالعہ شروع کیا، اور ان سے منتخب کرکے پانچ کتابیں تیار کیں۔ سے ایک دیوان الحماسہ ہے۔ ابو تمام کا یہ انتخاب، ابتدائی کلامِ عرب کا ایک اہم ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ Hamasah is considered one of the primary sources of early Arabic poetry. آدمی کی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی اتفاقی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا روٹین معطل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک بظاہر ناموافق صورتِ حال ہوتی ہے۔ لیکن اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو، وہ کرائسس مینجمنٹ (crisis management) کا فن جانتا ہو تو وہ اپنے وقت کا ایک نیا استعمال دریافت کر سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ نیا استعمال اس کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ بن میں رویات کو رکھا جائے، اس میں ہے یا یہ نہیں ہے، اس کی روشنی میں یہ دیکھا ایک فارسی ضرب المثل اس طرح ہے: