Al-Risala · March 2017

بہتر کا انتخاب

Al-Risala, March 2017, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

صحابی رسول عمر و ابن العاص (وفات: 642ء) کے حوالے سے ایک قول کتابوں میں نقل کیا گیا ہے: لیس العاقل الذي يعرف الخير من الشر، ولكن العاقل الذي يعرف خير الشرين (المجالسۃ و جواہر العلم، حدیث نمبر 670)۔ یعنی دانش مند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے، بلکہ دانش مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر کے درمیان خیر کیا ہے۔

موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ آزادی کا غلط استعمال (misuse of freedom) ہے۔ دنیا میں پرابلم آف ایول (problem of evil) کا اصل سبب یہی ہے۔ اس صورت حال کی بنا پر موجودہ دنیا میں کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے معاملے میں کامل خیر کا انتخاب کرے۔ اس دنیا کے لیے پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) یہ ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ اس کے اقدام کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس صورت حال کی بنا پر ایسا ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے ہمیشہ کمتر برائی (lesser evil) کے انتخاب کا موقع ہوتا ہے۔ ہمیشہ انسان کے سامنے یہ صورت حال ہوتی ہے کہ وہ دو میں سے ایک کا انتخاب کرے ۔ ایسی حالت میں آدمی کے لیے دانش مندی یہ ہے کہ وہ بڑی برائی سے بچے اور چھوٹی برائی کا انتخاب کرے۔ اس اصول کا تعلق خاندانی زندگی سے بھی ہے، سماج سے بھی ہے اور نیشنل لائف سے بھی۔ اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی غیر دانش مندی کی بنا پر ایسا انتخاب (choice) لے لیتا ہے جو اپنے نتیجے کے اعتبار سے بڑی برائی (greater evil) کا سبب بن جاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ یا تو اس قسم کے انتخاب کی غلطی نہ کرے یا اگر اس سے ایسی غلطی ہو گئی ہے تو دوسروں کو برا کہنے کے بجائے خود اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ اس طرح یہ ممکن ہو جائے گا کہ آدمی کا پہلا اقدام اگر غلط ہو گیا تھا تو وہ دوسری بار صحیح اقدام کرے، وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرکے اپنے آپ کو اور دوسروں کو مزید تباہی سے بچا لے ۔

سوال و جواب عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان مورخین نے تاریخ مسلمانان لکھی ہے، تاریخ اسلام میرا سوال یہ ہے اگر تاریخ اسلام لکھی جائے تو اس کے موضوعات کیا ہوں گے۔ (محمد زید، دہلی) تاریخ اسلام دراصل تاریخ پیغمبر کا دوسرا نام ہے۔ رسول اللہ نے اپنی زندگی میں جو کام کیے، وہ اسلام کی تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ رسول اللہ نے اپنی زندگی میں جو کام نہیں کیے وہ مسلم تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ براہ راست طور پر اسلام کی تاریخ کا حصہ۔ یہ بات اگر متعین طور پر کہی جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کی تاریخ وہ ہے جو تاریخ دعوت ہو۔ جو تاریخ مسلم حکومتوں کی تفصیل بیان کرے، اور جس میں مسلمانوں کی سیاسی سرگرمیوں کی تفصیل ہو، وہ اصلا مسلمانوں کی تاریخ کہی جائے گی، نہ کہ اسلام کی تاریخ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن دعوت الی اللہ تھا۔ دعوت الی اللہ کی نسبت سے جو واقعات پیش آئے وہ اسلام کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان واقعات کا ذکر غیر تفصیلی انداز میں قرآن میں لیکن جیسا کہ معلوم ہے، بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں لڑائیاں ہوئیں۔ سلطنتیں قائم کیں، انھوں نے قلعے اور محلات بنائے، تہذیبی ترقیاں کیں۔ یہ سب بالواسطہ طور پر اسلام کا حصہ ہوسکتے ہیں لیکن براہ راست طور پر وہ مسلمانوں کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس حقیقت کا احساس مورخ ابن خلدون (وفات: 1406) کو بھی تھا۔ انھوں نے اس کمی کی تلافی کے لیے ایک کتاب لکھی، جس کا نام ہے: کتاب العبر ودیوان المبتدأ والخبر۔ مگر ان کی یہ کتاب بھی عملاً تاریخ مسلمین بن گئی، وہ تاریخ اسلام نہ بن سکی۔ یہ ضرورت ابھی تک باقی ہے کہ کوئی صاحب علم تمام متعلقہ حوالوں کا از سر نو مطالعہ کرے اور پھر وہ اسلام کی تاریخ لکھے۔ تاریخ اسلام وہ ہوگی جو پیغمبر اسلام کے مشن کی تاریخ کو بیان کرے ۔

Printed page