Al-Risala · April 2017

عدم اطمینان

Al-Risala, April 2017, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص نے ان بڑے بڑے اسکارلس پر ریسرچ کیا ہے، جو اپنی کسی بڑی دریافت کی بنا پر نوبل پرائز کے لیے منتخب ہوئے۔ اس نے لکھا ہے کہ میں نے یہ پایا کہ ان اسکارلس میں ایک چیز وہ تھی عدم قناعت (discontentment)۔ وہ علم کے بارے میں کسی حد پر نہیں اس لیے ان کی ترقی مسلسل جاری رہی۔

بڑے بڑے اہل علم کی جو عدم قناعت علم کے بارے میں ہوتی ہے، وہی عدم قناعت مومن کے اندر معرفت کے بارے میں ہوتی ہے۔ مومن آخر دم تک معرفت خداوندی کے معاملے میں غیر قانع رہتا ہے، اس لیے اس کی معرفت برابر بڑھتی رہتی ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اہل ایمان کے بارے میں یہی وہ حقیقت ہے، جو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَنْ يَشْبَعَ المُؤْمِنُ مِنْ خَيْرٍ يَسْمَعُهُ حَتَّى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الجَنَّةُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2686)۔ القضاعی کی روایت (نمبر 897) میں خیر اور مومن کے بجائے علم اور عالم کا لفظ آیا ہے۔ خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن (عالم) خیر (اور علم) کی باتیں سننے سے کبھی سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کی انتہا جنت پر ہوتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ انسان کی نسبت سے دین کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے معرفت کا پہلو، اور دوسرا ہے دینداری کا فارم۔ فارم ہمیشہ معلوم ہوتا ہے۔ کچھ افعال انجام دینے کے بعد اس کی حد آ جاتی اور جب کسی چیز کی حد آ جائے تو ایسے انسان کے اندر عدم اطمینان کی کیفیت پائی نہیں جائے گی، وہ جو کچھ کر رہا ہے، وہ اس پر قانع ہو جائے گا۔

مگر معرفت لامناہی چیز ہے۔ آدمی کتنا ہی زیادہ معرفت حاصل کرلے، اس کے اندر مزید حصول کا جذبہ کبھی ختم نہ ہوگا۔

Printed page