Al-Risala · April 2017

دعا، قبولیتِ دعا

Al-Risala, April 2017, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں دعا کی بابت ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ یعنی اور تمہارے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ کو پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ لوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں، وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ آیت کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ہر دعا کو قبول کرتا ہے۔ بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دعا کی یہ قبولیت صرف پاک کلمہ (فاطر: 10) کے لیے ہے۔ یعنی وہ پکار جو اللہ کے قانون کے مطابق ایک درست پکار ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ دعا کرے کہ شیطان ہمیشہ کے لیے نابود ہو جائے تو ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ کیوں کہ اللہ کے فیصلے کے مطابق شیطان کو قیامت تک باقی رہنا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی گروہ کو اپنا دشمن فرض کرلے، اور یہ دعا کرے کہ میرے یہ تمام دشمن ہلاک ہو جائیں تو ایسی دعا بھی ہر گز قبول نہ ہوگی۔ کیوں کہ کسی گروہ کی ہلاکت کے لیے اللہ کا اپنا قانون ہے، اس کا تعلق کسی کی دعا سے نہیں۔

اسی طرح اگر کچھ لوگ کسی گروہ سے قومی لڑائی لڑیں اور یہ دعا کریں کہ خدایا تو اپنے وعدے کے مطابق ہمیں ان کے مقابلے میں اپنی نصرت عطا فرما۔ تو ایسی دعا بھی قبول ہونے والی نہیں۔ کیوں کہ اللہ کی نصرت اپنے قانون کے مطابق آتی ہے۔ ہمارے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف سچی دعا وہ ہے جو سچے انسان کے دل سے نکلے۔ اسی طرح دعا کی قبولیت اس وقت ہوتی ہے، جب کہ دعا اللہ کے راستے میں کامیابی کے لیے کی گئی ہو، نہ کہ خود ساختہ راستے میں کامیابی آدمی کو چاہیے کہ پہلے وہ اپنے آپ کو مزکی شخصیت بنائے۔ پھر وہ اللہ کے منصوبہ کو سمجھے، اور اللہ کے منصوبہ کے مطابق اپنے آپ کو اُس پر لگائے۔ جو لوگ اس شرط کو پورا کریں، ان کی دعا ضرور قبول ہوگی۔

Printed page