Al-Risala · April 2017

ایک حدیث رسول

Al-Risala, April 2017, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کل مولود یولد علی الفطرۃ، فأبواہ یہودانہ، أو ینصرانہ، أو یمجسانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔

یہاں والدین کا لفظ علامتی معنی میں ہے، یعنی ماحول (environment)۔ آدمی جس طرح کے ماحول میں زندگی گزارتا ہے، اسی کے مطابق اس کی کنڈیشٹنگ ہوتی رہتی ہے۔ چناں چہ ہر انسان ایک کنڈیشنڈ انسان ہوتا ہے۔ مگر یہ کنڈیشٹنگ اوپری نوعیت کی ہوتی ہے۔ کے باوجود انسان کی اصل فطرت بدستور اپنی جگہ باقی رہتی ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشٹنگ (deconditioning) کرے۔ وہ اپنے آپ کو شعوری عمل (intellectual process) کے ذریعے ایک نیا انسان بنائے۔ اس سے پہلے اگر وہ کنڈیشٹنگ کا ایک کیس تھا تو وہ دوبارہ اپنے آپ کو فطرت کا ایک کیس بنائے۔ اس عمل کے دوران انسان مزید یہ کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت کرتا ہے۔ (process) کے دوران وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ خالق نے اس کے اندر کون سی انفرادی صفت تخلیق کے اعتبار سے ہر مرد مسٹر ڈيفرنٹ ہے اور ہر عورت مس ڈيفرنٹ ۔ اس منفرد شخصیت کو دریافت کرنے کے بعد ہی انسان کی اصل تعمیر کا کام شروع ہوتا ہے۔ انڈسٹری کے کلچر میں آدمی کو معدنیات جیسا ایک مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ انڈسٹری کا کلچر آدمی کو خود اپنی ضرورت کے مطابق تربیت دے کر اس قابل بناتا ہے کہ وہ اس کی مشین کا ایک پرزہ بننے کے قابل ہو سکے۔ لیکن انسان اس انڈسٹریل تصور سے بہت زیادہ ہے۔ انسان کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت کرے۔ اور اس خود دریافت کردہ تخلیق کے مطابق اپنے آپ کو اعلیٰ مقصد کے لیے ڈیولپ کرے۔ یہ ایک سیلف ڈیویلپمنٹ کا عمل (process) ہے۔ یہی سیلف ڈیویلپمنٹ کا عمل انسان کو مین (man) سے بڑھ کر سوپر مین بناتا ہے۔ اسی سیلف ڈیویلپمنٹ کے بعد آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ کامیابی (super-achievement) تک لے جائے۔ لحاظ سے فروغ وسائل انسانی کا سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو از سر نو دریافت وہ پھر سے اپنی معرفت حاصل کرے۔ اسی خود دریافت کردہ معرفت میں اعلیٰ انسانی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔

Printed page