وأحياناً على بكر أخينـا
Al-Risala, April 2017, pp. 19–21
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی اور کبھی ہم اپنے بھائی بکر سے لڑ جا- ، بی ، رے پ ، ں ، س ، ی ، ت ، ب ، ہی ، ر ، م ، ی ت إذا ما لم نجد إلا أخانا تے ہیں ۔ جب کہ ہمیں لڑنے کے لیے اپنے بھائی یی اور کسی، ہم اپنے بھائی بھر سے لڑ جاتے ہیں۔ جب لہو میں لڑکے کے لیے اپنے بھائی کے سوا کوئی اور نہیں ملتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ نصیحت کا پس منظر یہ ہے کہ یہ لوگ جن کی پرورش عرب کے قبائلی ماحول میں ہوئی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی سابقہ کنڈیشننگ کو ڈی کنڈیشن نہ کر پائیں اور دوبارہ ان کے اندر جنگ و جدال کا کلچر شروع ہو جائے۔ ابتدائی دور کے اہل ایمان کے لیے اس کنڈیشننگ کا مطلب عرب کے قدیم ماحول کی کنڈیشننگ ہے۔ اس کنڈیشننگ کی بنا پر ان کے اندر بعد کے زمانے میں لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جو دوبارہ جنگ و تشدد کے کلچر میں مشغول ہیں، وہ بھی اسی کنڈیشننگ کی بنا پر ہیں۔ فرق یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کنڈیشننگ تاریخی کنڈیشننگ (historical conditioning) ہے۔ عباسی دور میں جو کتابیں تیار ہوئیں، وہ اس تاریخی کنڈیشننگ کا ذریعہ بن گئیں۔ میں یہ ہوا کہ سیرت رسول کی کتابیں مغازی کے پیٹرن پر لکھی گئیں ۔ مسلم تاریخ پوری کی پوری فتوح الشام اور فتوح البلدان کی زبان میں تیار ہوئی۔ بعد کا پورا لٹریچر عملاً اسی اسلوب میں ڈھل گیا۔ ایک مثال ایک مسلم شاعر کا یہ شعر ہے :
ابھی بھولے نہیں ہم خالد و طارق کے افسانے پروگرا پرپراں، ادب میں ربط میں یہ آں، فتوحات صلاح الدین ابھی زندہ ہیں دنیا میں
بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی پیٹرن پر لکھی گئیں، خواہ وہ منظوم کتابیں ہوں یا منثور کتابیں ۔ بعد کے مسلمان پیدا ہوتے ہی اسی قسم کی کتابیں پڑھنے لگے۔ اس طرح وہ دوبارہ بذریعہ لٹریچر اسی قسم کی کنڈیشننگ میں مبتلا ہو گئے جس کو تاریخی کنڈیشننگ کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو نفرت اور تشدد کی سوچ ہے، وہ اسی تاریخی کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے۔
ڈی کنڈیشننگ کیا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کا عمل آدمی خود اپنے آپ پر کرتا ہے۔ کنڈیشننگ کو روایتی اصطلاح میں محاسبہ نفس کہا جا سکتا ہے۔ اس محاسبہ خویش (self-deconditioning) کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنا بے لاگ مطالعہ کرے، اور اپنے آپ کو ان اثرات سے پاک کرے جو تاریخی طور پر اس کی سوچ کا حصہ بن گئے ہیں۔ مثلاً مذکورہ معاملہ میں آدمی یہ سوچے کہ قتال کی نوعیت اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں کیا پھر وہ پائے گا کہ قتال کوئی ابدی عمل نہیں۔ اس کا ایک اختتام (end) ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (الانفال: 39) اور جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا (محمد: 4)۔
قرآن اور حدیث میں اس طرح کے متعدد حوالے موجود ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ قتال حسن لذاتہ نہیں ہے، بلکہ حسن لغیر ہ ہے۔ یعنی اسلام میں قتال برائے قتال (qital for the sake of qital) نہیں ہے، بلکہ قتال کسی متعین سبب کے لیے ہے۔ جب یہ سبب ختم ہو جائے تو قتال بھی ختم ہو جائے گا۔ اس طرح سوچنے کے عمل کو اپنا محاسبہ کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو مسلمان یہ کر رہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن قرار دے کر ان کے خلاف متشددانہ کارروائی یا خود کش بمباری (suicide bombing) کر رہے ہیں، وہ اگر اس طرح غور کریں تو یقیناً ان کا موجودہ سوچنے کا طریقہ بدل جائے گا۔ اسی کو ڈی کنڈیشننگ کہا جاتا اگر موجودہ زمانے کے مسلمان اس طرح بے لاگ انداز میں غور کریں تو یقیناً وہ ایک اور
حدیث تک پہنچیں گے جو براہ راست طور پر اسی معاملے سے متعلق ہے ۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک وقت آنے والا ہے ، جب کہ ساری دنیا موید دین بن جائے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إن الله عز وجل ليؤيد الإسلام برجال ما هم من أهله (المعجم الكبير للطبراني، حدیث نمبر 14640)۔ مسند احمد میں یہ روایت اس طرح آتی ہے: إن الله سيؤيد هذا الدين بأقوام لا خلاق لهم (حدیث نمبر 20454)۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں ہے: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (حدیث نمبر 3062)۔
یہ حدیث مستقبل کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک پیشگی خبر ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ رسول اور اصحاب رسول کی کوششوں سے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد دنیا میں ایک تاریخی عمل (historical process) بڑے پیمانے پر جاری ہو گیا۔ اس تاریخی عمل میں نہ صرف مسلمان بلکہ دوسری سیکولر قومیں بالخصوص اہل مغرب بڑے پیمانے پر شریک ہوئیں۔ بیسویں صدی اس عمل کا نقطہ انتہا (culmination) اس عمل (process) نے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور پیدا کر دیا۔ اسی نئے دور کو حدیث میں دین کے حق میں تائید کا دور کہا گیا ہے۔
بارش کا آنا خدا کے منصوبے کا خاموش اعلان ہے۔ کسان اس خدائی اشارہ کو فوراً سمجھ لیتا ہے، اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں پوری طرح شامل کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ اس کو ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں واپس ملتا ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں، ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں، اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے حق میں نئے مواقع کھولے ہیں۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جائے۔ (اسلام پندرہویں صدی میں) * * * * * *