Al-Risala · April 2017

جاہلیت کیا ہے

Al-Risala, April 2017, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

جاہلیت کوئی بھیانک یا پر اسرار لفظ نہیں۔ جاہلیت ایک معلوم حقیقت کا نام ہے۔ جاہلیت عین وہی چیز ہے، جس کو قرآن میں تزئین اعمال (الانعام: 43) کہا گیا ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک بات کو ایسے ڈیسیپٹو (deceptive) انداز میں بیان کرنا کہ ایک غلط بات، سننے والے کو درست نظر آنے لگے۔ یہی تزئین ہے، اور اس آرٹ کو زیادہ ہنر مندی کے ساتھ کہنے کا نام جاہلیت ہے۔

مثلا موجودہ زمانے میں کچھ مسلمان خودکش بمباری (suicide bombing) کرتے اس طریقے کو جائز بتانے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ جب قوم شدید خطرے کی حالت میں ہو تو قوم کو بچانے کے لیے خودکش بمباری جائز ہے۔ اس کی مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے موقع پر جاپانیوں نے امریکا کے خلاف خودکش بمباری کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ مگر یہ استدلال ایک مغالطہ پر قائم ہے۔ اس لیے کہ جاپانیوں کی خودکش بمباری (hara-kiri) سے جاپانی قوم اپنے دشمن کے مقابلے میں بچ نہ سکی، بلکہ وہ اس جنگ میں بدترین شکست سے دوچار ہوئے۔ اس کے بعد خود جاپانیوں نے اس طریقے کو چھوڑ دیا۔ اور اس کے بجائے پرامن انداز میں اپنی قومی ترقی کے لیے عمل کیا اور نہایت کامیاب رہے۔

اسی طرح موجودہ زمانے کے کچھ مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف تشدد کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں، چناں چہ ان کو دہشت گرد (terrorist) کہا جاتا ہے۔ اب اگر آپ کہیں کہ یہ دہشت گردی نہیں ہے، بلکہ وہ ظالم لوگوں کو ٹرارائز (terrorize) کرنا ہے۔ یہی بات پولیس کرتی وہ مجرموں (criminals) کا حوصلہ توڑنے کے لیے ان کو ٹرارائز کرتی ہے۔ پولیس کے لیے یہ طریقہ ایک درست طریقہ سمجھا جاتا تھا، اسی طرح مسلمانوں کے لیے بھی یہ طریقہ ایک درست طریقہ ہے۔ اسی طرح آپ مزید یہ کہیں کہ جو لوگ مسلمانوں کے تشدد پر ان کو دہشت گرد

کہتے ہیں، وہ دہرا معیار کا شکار ہیں۔ کیوں کہ انڈیا کے بھگت سنگھ نے 1929 میں نئی دہلی میں انگریزوں کی اسمبلی پر بم مارا۔ مگر بھگت سنگھ کو دہشت گرد نہیں کہا جاتا، فریڈم فائٹر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی دہشت گرد نہ کہیے، بلکہ ان کو انصاف کی لڑائی لڑنے والا کہیے۔ اسی طرح آپ مسلمانوں کی خودکش بمबारी کی وکالت کریں، اور یہ کہیں کہ مسلمان جس اسپرٹ کے تحت یہ کام کر رہے ہیں، وہ شہادت کی اسپرٹ ہے۔ اس لیے ان کی خودکش بمباری کا زیادہ درست نام استشهاد (طلب شہادت) ہے۔ مگر یہ بات ایک شدید مغالطہ پر مبنی ہے۔ شہادت ایک اسلامی لفظ ہے۔ اور قرآن یا حدیث میں کہیں بھی، یہ تعلیم نہیں ہے کہ اہل ایمان اپنے آپ کو مار کر شہید بنیں۔ اسلام میں شہید ہو جانا ہے، نہ کہ شہید کروانا۔ دجل بمعنی تزئین ہمیشہ دنیا میں جاری رہا ہے۔ حدیث میں یہ کہا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک دجال (بڑا دجال) پیدا ہوگا۔ یہ بڑا دجال (the great deceiver) اپنی ذات کے اعتبار سے بڑا دجال نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ زمانے کے اعتبار سے بڑا دجال ہوگا۔ یعنی اس کو ایک ایسا ترقی یافتہ زمانہ ملے گا، جب کہ وہ نئے وسائل کی مدد سے زیادہ بڑے درجے کی دجالی کر سکے گا۔ مثال کے طور پر دجال کے بارے میں حدیث رسول میں آیا ہے : ينادي بصوت له يسمع به ما بين الخافقين (كنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دجال کوئی ہمالیائی شخصیت ہوگی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دجال ایک ایسے زمانے میں ظاہر ہوگا، جب کہ عالمی مواصلات (global communication) کا دور آ چکا ہوگا، اور وہ اپنے وقت کے وسائل کو استعمال کرکے عالمی سطح پر اپنی آواز پہنچا سکے گا۔

حدیث میں آتا ہے: مكتوب بين عينيه ك ف ر (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2933)۔ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر (کفر) لکھا ہوا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دجال اگر چہ اپنی غلط باتوں کو نہایت مزین کر کے پیش کرے گا، لیکن صاحب معرفت لوگ اس کی غلطی کو پہچان لیں گے، اس طرح وہ اس کی گمراہی سے بچ جائیں گے۔

Printed page