ماکان و ما يكون
Al-Risala, January 2017, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث رسول سنن الترمذی اور دوسری کتب حدیث میں آئی ہے۔ احکام القرآن لابن العربی میں اس کو ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: أول ما خلق الله القلم، فقال له: اكتب، فكتب ما كان وما يكون إلى يوم الساعة، فهو عنده في الذكر فوق عرشه (احکام القرآن، بیروت، 2003، جلد 4، صفحہ 420) یعنی اللہ نے پہلی چیز جو پیدا کی، وہ قلم تھی۔ نے اس سے کہا کہ لکھ۔ تو اس نے لکھا وہ سب کچھ جو ہوا، یا جو ہوگا قیامت تک۔ پس وہ اللہ کے پاس ذکر میں ہے، اللہ کے عرش کے اوپر۔
اس حدیث میں ”ماکان وما يكون‘‘ سے مراد کون سے واقعات ہیں۔ تاریخ کے تمام واقعات یا منتخب واقعات۔ تاہم اہل ایمان کے لیے اصل اہمیت ان واقعات کی ہے جو توحید کے مشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات کو جاننا اہل توحید کے لیے ضروری ہے۔ تا کہ ان کی رعایت کرتے ہوئے وہ اپنے دعوتی مشن کی صحیح منصوبہ بندی کر سکیں۔ جیسا کہ ایک حدیث رسول میں آیا ہے: وعلى العاقل ان يكون بصيرا بزمانه (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ مند آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ ایک وہ جب کہ دنیا دو قسم کے لوگوں میں بٹی ہوئی تھی ۔ مومن اور کافر یا بلیور (believer) اور نان بلیور (non-believer) مگر بعد کے زمانے میں تاریخ میں جو انقلاب آئے گا۔ اس کے بعد یہ تقسیم ختم ہو جائے گی۔ اب دنیا جن دو قسم کے لوگوں میں تقسیم ہوگی، وہ ہوں گے مومن (believer) اور موید بعد کے زمانے میں اس تبدیلی کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: إن الله عز و جل ليؤيد الإسلام بر جال ما هم من أهله (المجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اللہ عزوجل اسلام کی تائید ضرور ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اسلام کا حصہ نہ ہوں گے۔
بعد کے زمانے میں ہونے والی اس تبدیلی کا مطلب یہ ہوگا کہ عملاً اب جنگ کے دور کا خاتمہ بعد کے اس دور میں بھی اگر اہل ایمان جہاد کے نام پر جنگ کا سلسلہ جاری رکھیں، تو یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے دین کے مویدین سے جنگ کے ہم معنی ہوگا۔ یہی مطلب ہے اس آیت کا جس میں کہا گیا ہے کہ دین سب اللہ کے لیے ہو جائے گا (الانفال: 39)۔ یعنی ایک ایسی دنیا جس میں مومن اور کافر کی تقسیم ختم ہو جائے گی ۔ برعکس، دنیا میں مومن (believer) اور موید (supporter) کی تقسیم قائم ہو جائے گی۔ ایک جلد میں موجود انسائیکلوپیڈیا میں سے ایک وہ ہے جس کا نام ہے: Pears’ Cyclopaedia, London اس انسائیکلو پیڈیا میں مانوتھیزم کے آگے لکھا ہوا ہے کہ توحید اس اصول کا نام ہے کہ یہاں صرف ایک خدا کا وجود ہے۔ خاص توحیدی مذہب عیسائیت ہے : MONOTHEISM, the doctrine that there exists but one God. The Chief monotheistic religion is Christianity. یہ انسائیکلو پیڈیا کا وہ ایڈیشن ہے جو 1948 میں چھپا تھا۔ پہلے مغربی دنیا میں جو لٹر یچر تیار ہوا، اس میں اسی طرح اسلام کو حذف کر دیا گیا تھا۔ اپنی اصل کے اعتبار سے بلاشبہ تمام مذاہب توحید کے مذاہب تھے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آج خالص توحیدی مذہب اسلام ہے۔ کہ دوسرے مذہب اپنی ابتدائی حالت میں باقی نہیں رہے ہیں۔
مغربی علماء نے اب اپنی اس روش پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔ چناں چہ 1977 میں شائع ہونے والی ایک انسائیکلوپیڈیا: Collins Concise Encyclopedia میں اس سلسلہ میں لکھا گیا ہے کہ توحید اس عقیدہ کا نام ہے کہ یہاں صرف ایک خدا ہے، جیسا کہ یہودیت اور عیسائیت اور اسلام میں مانا جاتا ہے :
MONOTHEISM, belief that there is only one God, as in Judaism, Christianity, and Islam.