دور تائید
Al-Risala, January 2017, pp. 22–25
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک حکم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں دیا گیا ہے : وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتَّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وََّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهُ لِلَّهِ (39:8) ۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں قتال کا لفظ معروف جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ انتہائی جدوجہد (utmost struggle) کے معنی میں ہے ۔ چوں کہ آپ کی زندگی میں عملاً جو کچھ پیش آیا وہ یہی تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کوئی کامل جنگ (full-fledged war) نہیں کی۔ آپ کے مخالف گروپ نے کئی بار آپ پر حملہ کرکے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی۔ مگر آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ خصوصی تدبیر کے ذریعہ یا تو جنگ کو عملاً ہونے نہیں دیا، یا اس کو جنگ کے بجائے جھڑپ (skirmish) بنا دیا۔ اس معاملے میں آپ کی زندگی مذکورہ قرآنی آیت کی عملی تفسیر ہے۔
آپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ میں آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن آپ نے مکہ سے ہجرت کرکے قتل وقتال کو عملاً نا ممکن بنا دیا۔ غزوہ احزاب کے موقع پر آپ کے مخالفین نے بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیا۔ مگر آپ نے اپنے اور فریق مخالف کے درمیان خندق کی صورت میں ایک حاجز (buffer) قائم کر دیا۔ حدیبیہ کے موقع پر فریق ثانی نے جنگ کی صورت پیدا کردی، لیکن آپ نے یک طرفہ صلح کر کے جنگ کو ہونے سے روک دیا۔ فتح مکہ کے موقع پر جنگ یقینی تھی، لیکن آپ نے خصوصی تدبیر کے ذریعہ اس کو پرامن مارچ (peaceful march) میں بدل دیا، وغیرہ۔ دور تائید کا آغاز قدیم زمانے میں جنگ بہت عام تھی۔ قبائل کے درمیان جنگ ، بادشاہوں کے درمیان جنگ ، وغیرہ۔ لوگ مسائل کو حل کرنے کا ایک ہی طریقہ جانتے تھے۔ جنگ کا طریقہ۔
نے اپنے پیغمبر کو اس معاملے میں ایک صراط مستقیم (الفتح : 2) کی طرف رہنمائی کی۔ یعنی جنگی ٹکراؤ کے بجائے پر امن تدبیر (peaceful management) کے ذریعے مسائل کو حل کرنا۔ اسلام اور آپ کے اصحاب نے اس تدبیر کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کیا کہ تاریخ میں نیا دور یعنی ٹکراؤ کے بجائے تائید کا دور۔ اس مقصد کے لیے ساتویں صدی عیسوی میں ایک منصوبہ بند عمل کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ (پراسس) انیسویں صدی میں اپنی تکمیل (culmination) تک پہنچ گیا۔ اس تکمیلی مرحلہ کو ایک لفظ میں جدید تہذیب (modern civilization) کہا جا سکتا ہے۔ جدید تہذیب اسلام کے لیے ایک تائیدی تہذیب (supporting civilization) ہے۔
اس دور تائید کو قرآن میں ليُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (9:33) کے الفاظ میں بیان کیا گیا یعنی دین سے تعلق رکھنے والے تمام اسباب دین خداوندی کے موافق ہو جائیں۔ اور دین انسانی میں ٹکراؤ کی صورت عملاً ختم ہو جائے۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک عظیم منصوبہ تھا۔ ایسے حالات پیدا کیے کہ اہل ایمان کی جماعت کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس میں موید (supporter) بن گے۔ یہ پیشین گوئی زیادہ واضح الفاظ میں حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے :
1 - إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ 2 - إن الله عز وجل ليؤيد الإسلام برجال ما هم من أهله (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 56)۔
3 - إن الله سيؤيد هذا الدين بأقوام لا خلاق لهم (مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔ 4 - ليؤيدن الله هذا الدين بقوم لا خلاق لهم (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4517)۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مستقبل میں ضرور ایسا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہل دین میں سے نہ ہوں گے۔ وہ اس کام کو ڈیویلپمنٹ
(development) کے نام سے انجام دیں گے۔ لیکن عملاً ان کی پیدا کردہ دنیا تائیدی معنوں میں پرو اسلام (pro-Islam) بن جائے گی۔
موجودہ زمانے میں یہ واقعہ کامل طور پر انجام پا چکا ہے۔ وہ چیز جس کو مسلمان عام طور پر اسلاموفوبیا (Islamophobia) کہتے ہیں۔ وہ دراصل پرو اسلام ظاہر (pro-Islam لیکن مسلمان اپنی بے خبری کی بنا پر ایک مثبت واقعے کو منفی واقعے کے طور پر لیے ہوئے ہیں۔ اس منفی طرزِ فکر نے مسلمانوں کو بیک وقت دو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک یہ کہ وہ دور حاضر میں بے جگہ کمیونٹی (displaced) بن گئے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ جدید مواقع (modern opportunities) کو اسلام کے حق میں استعمال کرنے میں عملاً نا کام رہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مغربی قو میں براہ راست معنوں میں اسلام کے حق میں تائیدی رول انجام دے رہی ہے۔ ایسا ہونا غیر فطری ہے۔ اس قسم کا تائیدی رول کبھی کوئی کمیونٹی کسی دوسری کمیونٹی کے لیے انجام نہیں دیتی۔ اصل یہ ہے کہ غیر اہل دین‘‘ کا یہ تائیدی رول براہ راست طور پر نہیں، بلکہ بالواسطہ طور پر انجام پایا ہے۔
موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب (industrial revolution) ہوا۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں ایک نیا ظاہر وجود میں آیا جس کو کثیر پیداوار (mass production) کا ظاہر ہ کہا جاتا نئے صنعتی نظام کے تحت چیزیں اتنی بڑی مقدار میں تیار ہونے لگیں، جن کی کھپت مقامی طور پر اس کے نتیجے میں مارکیٹ کا نیا تصور پیدا ہوا۔ چیزوں کو کمر شیل نظریے کے تحت تیار کیا اس کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا انقلاب آیا، جو قدیم زمانے میں موجود نہ تھا۔ زمانے میں ایک مراعات یافتہ طبقہ (privileged class) موجود ہوتا تھا۔ مثلاً بادشاہ اور لینڈ صرف یہی لوگ بڑی چیزوں کو حاصل کر سکتے تھے۔ موجودہ زمانے میں جو کمرشیل انقلاب آیا، اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ہر چیز ہر ایک کے لیے (everything for everyone) کا کلچر رائج ہو گیا۔ اب ہر چیز ہر ایک کے دسترس میں ہو گئی۔ یہ چیز پہلے کبھی دنیا میں موجود نہ تھی۔
مثلا پہلے زمانے میں کوئی بڑی سواری صرف بادشاہ کے لیے ممکن تھی۔ اب ہر آدمی کار اور ہوائی جہاز استعمال کر رہا ہے۔ پہلے زمانے میں پیغام رساں کبوتر (homing pigeon) کسی بہت بڑے آدمی کے لیے قابل استعمال ہوا کرتی تھی۔ مگر آج ہم ایچ آف کمیونی کیشن کے زمانے میں اب ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ ٹکنالوجی کا استعمال کر کے پیغام رسانی کا بڑے سے بڑا مقصد حاصل کر سکے، وغیرہ، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بہت بڑے پیمانے پر انجام پایا۔ یہ گویا مواقع کے انفجار (opportunity explosion) کا زمانہ ہے۔ اب ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ جدید مواقع کو استعمال کر کے بڑے سے بڑا کام انجام دے سکے۔ یہی امکان پوری طرح اہل ایمان کے لیے کھلا ہوا ہے۔ عمومی طور پر پیدا ہونے والا یہ امکان تاریخ کا بالکل نیا ظاہر ہ ہے۔ یہ نیا ظاہر ہ گویا تائید کلچر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر نے اپنے لڑکے شہزادہ سلیم کی شادی میں اس کو چار سو ہاتھی کا تحفہ دیا یہ چار سو ہاتھی دوہد (گجرات) کے گھنے جنگلوں سے حاصل کیے گیے تھے۔ مگر آج گجرات کے اس علاقہ میں کہیں گھنے جنگل نظر آتے ہیں، اور نہ ہاتھی۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ کس طرح بدلتا رہتا ہے۔ جگہ جہاں آج ’’جنگل‘‘ نظر آتا ہے، وہاں کل ’’میدان‘‘ نظر آنے لگتا ہے۔ جہاں آج ہاتھیوں کے غول گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہاں جب کل کا سورج نکلتا ہے ہے تو دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ وہاں انسان چل پھر رہا ہے۔
زمانہ کے اس بدلتے ہوئے روپ میں بے شمار نشانیاں ہیں۔ مگر نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، جو ان کی گہرائیوں میں جھانکنے کی بصیرت رکھتے ہوں۔