Al-Risala · May 2017

Islam is a complete system of life.

Al-Risala, May 2017, pp. 20–22

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قسم کی تعبیر بظاہر اسلام کی جامع تعبیر ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ وہ اسلام کی ایک ناقص تعبیر اس تعبیر کے مطابق اسلام صرف ایک قسم کا مینول بن جاتا ہے۔ مینول خواہ کتنا ہی زیادہ جامع ہو وہ انسان کے صرف جزئی پہلو کا احاطہ (cover) کرے گا۔ مینول خواہ کتنا ہی زیادہ کامل ہو وہ روبوٹ (robot) کے لئے کامل ہوسکتا ہے۔ انسان ایک فکری حیوان (thinking animal) کوئی بھی مینول انسان کے صرف فزیکل پہلو (physical aspect) کو کور (cover) کرتا ہے، وہ انسان کے عظیم تر انٹلیکچول پہلو (intellectual aspect) کا احاطہ نہیں کرتا۔ صحیح یہ ہے کہ اسلام فزیکل معنوں میں کامل مینول نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک مسلسل تفکیری عمل (continuous thinking process) کے معنی میں مکمل عمل ہے۔ اسلام یہ ہے کہ وہ آدمی کے ذہن (mind) کے لئے ایک فکری طوفان (intellectual storm) بن جائے، وہ آدمی کے اندر مسلسل تفکیری عمل (continuous thinking process) جاری کردے۔ آدمی کے اندر ایسی تخلیقیت (creativity) پیدا کر دے کہ وہ ہر لمحہ معرفت کے آئٹم دریافت کرتا اس کی شخصیت کو مسلسل طور پر ربانیت کی غذا (divine food) ملتی رہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ان دو آیتوں کا مطالعہ کیجئے :

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ - الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔

قرآن کے اس بیان کے مطابق اہل ایمان اولو الالباب (people of understanding)

وہ اپنے اردگرد کی دنیا پر مسلسل طور پر غور کرتے ہیں۔ وہ خدا کی تخلیق میں خدا کی نشانیاں (signs) دریافت کرتے رہتے ہیں۔ ان کا بیدار ذہن فطرت (nature) کے ہر تجربہ میں معرفت کے آئٹم کو دریافت کرتا رہتا ہے۔ ان انکشافات کے درمیان اُن کو مسلسل طور پر تخلیق کی معنویت دریافت ہوتی رہتی ہے۔ اس ذہنی عمل (intellectual process) کے نتیجہ میں ان کے اندر وہ ترقی یافتہ شخصیت بن جاتی ہے جس کو قرآن میں مزکی شخصیت کہا گیا ہے ہے(طہ 76)۔ مثال کے طور پر دن کی سرگرمیوں سے فارغ ہو کر آپ اپنے بستر پر لیٹے۔ اس وقت آپ کے اندر محاسبہ (introspection) کا عمل جاگ اٹھا۔ آپ اپنے گزرے ہوئے دن پر سوچنے لگے۔ آپ نے دریافت کیا کہ آج کے دن آپ نے کیا صحیح کیا اور کیا غلط کیا۔ اب صحیح کام پر آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور غلط کام پر آپ کے اندر ندامت (repentance) کا جذبہ جاگ اٹھا۔ رات کی نماز ادا کرنے کے بعد بستر پر جانے سے پہلے آپ نے اللہ سے معافی مانگی اور یہ عہد کیا کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں دہرائیں گے۔

اس طرح سوچتے ہوئے آپ سو گئے۔ پھر آپ صبح کو اٹھے اور فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے آفس گئے۔ یہاں آپ پر مختلف قسم کے تجربات گزرے۔ ہر تجربہ میں آپ کو کوئی ربانی غذاملی۔ مثلاً آپ نے کسی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ بعید مواصلات (distant communication) کے اس تجربہ کے دوران آپ نے دریافت کیا کہ اللہ نے مادہ (matter) کو انسان کے لئے اس طرح مسخر کر دیا ہے کہ مادہ انسان کے حکم پر اس کے تمام کام انجام دے۔ اس کے بعد آپ اپنے کمرہ سے باہر نکلے اور اپنے گھر کے بیرونی حصہ میں بیٹھ گئے۔ آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہو کر اپنی روشنی آپ تک پہنچار ہا ہے۔ ہوائیں آپ کو آکسیجن سپلائی بادل سمندر کے نمکین پانی کو ڈی سالینیٹ (desalinate) کر کے آپ کو میٹھا پانی زمین کی مٹی (soil) آپ کے لئے مختلف خوراک اگارہی ہے، وغیرہ۔ اس منظر کو دیکھ کر آپ کا ذہن ٹریگر (trigger) ہوا۔ آپ مزید سوچنے لگے کہ روڈ پر کاریں

دوڑ رہی ہیں۔ اسی طرح آپ کے چاروں طرف مذکورہ قسم کی فطری سرگرمیاں (natural activities) جاری ہیں۔ آپ نے سوچا کہ روڈ پر جو سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں اس کے پیچھے ہیومن مائنڈ (human mind) کی پلاننگ کام کر رہی ہے۔ پھر فطرت کی دنیا(world of nature) میں جو با معنی سرگرمیاں مسلسل طور پر جاری ہیں ان کے پیچھے بھی یقیناً کسی ذہن کی پلاننگ کام کر رہی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے آپ دریافت کرتے ہیں کہ عالم فطرت کی سرگرمیوں کے پیچھے بھی یقیناً کوئی برتر ذہن (Super Mind) ہے، جو سارے معاملات کو نہایت صحت کے ساتھ کنٹرول کر رہا ہے۔ یہ سوچ آپ کو خالق تک پہنچاتی ہے اور خالق کے بارے میں آپ کے یقین میں بہت زیادہ اضافہ کر دیتی ہے۔

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کس معنی میں مکمل دین ہے ۔ وہ محدود طورپر مینول (manual) کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ ربانیت کے معنی میں ہائی تھنکنگ (high thinking) کا ایک معاملہ ہے۔ جو ہر لمحہ مومن کی شخصیت میں ایمانی اضافہ کرتا رہتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان کے لیے مسائل بھی ہیں، اور اسی کے ساتھ مواقع بھی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل انسان کی پیداوار ہیں۔ اس کے مقابلے میں مواقع خالق کا عطیہ ہیں۔ اس معاملے میں مثبت ذہن پیدا کیجیے، آپ یہ کیجیے کہ مسائل کو نظر انداز کیجیے اور مواقع کو تلاش کر کے ان کو اپنے لیے استعمال کیجیے، اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ مثال کے طور پر ہماری فضا میں ہوا موجود ہے، جو ہماری زندگی کے لیے بے حد مفید ہے۔ اسی کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں فضائی آلودگی بھی موجود ہے۔ ہوا خالق کا عطیہ ہے۔ اس کے مقابلے میں فضائی آلودگی انسان ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ فضائی آلودگی کو نظر انداز کر کے ہوا کو اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح ہم کو چاہیے کہ ہم مسائل کو نظر انداز کریں، اور مواقع کو تلاش کر کے، ان کو اپنے حق میں یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔

Printed page