اسلامی جہد
Al-Risala, May 2017, pp. 29–31
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد کا لفظ جُہد سے بنا ہے۔ اس کا معنی ہے کوشش (struggle)۔ کسی تعمیری مقصد کے لیے بھر پور کوشش کرنے کو عربی زبان میں جہد یا جہاد کہا جاتا ہے۔ جہاد یا جہاد کا لفظ اصلاً پرامن جد و جہد کے لیے آتا ہے۔ اس لفظ کا براہ راست طور پر جنگ و قتال سے کوئی تعلق نہیں۔ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی کامل جد و جہد (utmost struggle)۔
قرآن میں جہاد کا مادہ 35 بار استعمال ہوا ہے۔ ہر بار اس لفظ کا استعمال پرامن کوشش کے معنی میں ہے۔ جنگ کے لیے قرآن میں قتال کا لفظ آیا ہے۔ اور پرامن جد و جہد کے لیے جہاد کا لفظ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَ جَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِیرًا (25:52)۔ اور اس سے جہاد کبیر کرو، قرآن کے ذریعے ۔ یعنی لوگوں کے درمیان قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے بڑا
حدیث میں بھی جہاد کا یہی مفہوم آیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: الجهاد ماض منذ بعثني الله إلى أن يقاتل آخر أمتي الدجال، لا يبطله جور جائر، ولا عدل عادل (سنن ابو داوود، حدیث نمبر 2532)۔ یعنی جہاد جاری ہے اس وقت سے جب کہ اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا، اس وقت تک، جب تک کہ میری امت کا آخری حصہ دجال سے قتال کرے گا۔ ظالم کا ظلم اور عادل کا عدل اس کو موقوف نہیں کرے گا۔
یہاں یہ سوال ہے کہ جہاد کو اگر قتال کے معنی میں لیا جائے تو یہ بات قابل فہم نہ ہوگی۔ ظالم کے ساتھ قتال کا تو جواز ہو سکتا ہے لیکن عادل کے ساتھ قتال کا کوئی جواز نہیں۔ اس بنا پر یہاں جہاد کو ایسی پرامن کوشش کے معنی میں لیا جائے گا جو ہر حال میں جاری رہے گا۔ اور اس سے مراد پرامن دعوتی جہاد کی کوشش ہے۔
قرآن و حدیث کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جہاد ایک ایسی پرامن جد و جہد
ہے جو ہمیشہ اور ہر حال میں جاری رہتی ہے۔ اس سے مراد دعوت اور اصلاح کی جدوجہد ہے۔ عمومی دائرے میں، اور اصلاح امت مسلمہ کے دائرے میں۔ یہ پرامن جہاد ایک ایسی ضرورت ہے جو نسل درنسل جاری رہتا ہے۔ کوئی بھی صورت حال اس کو ساقط کرنے والی نہیں۔ اس کے برعکس، قتال ایک وقتی چیز ہے۔ قتال کی ضرورت ہمیشہ دفاع (defence) کے وقت پیش آتی ہے۔ جب فریق مخالف کی طرف سے قتال روک دیا جائے تو اہل اسلام کے لیے جائز نہیں کہ وہ خود سے کسی کے خلاف جنگ چھیڑیں۔ اس سلسلے میں قرآن میں واضح آیتیں موجود ہیں۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (2:190)۔ یعنی اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو لڑتے ہیں تم سے۔ زیادتی نہ کرو۔ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اس آیت کے پہلے حصے میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اہل اسلام صرف ان کے ساتھ جنگ کر سکتے ہیں، جو ان کے خلاف جنگ چھیڑیں۔ آیت کے دوسرے حصے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ خود اپنی طرف سے جنگ کا آغاز کریں۔ جہاد بمعنی قتال کے بارے میں فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ جہاد بمعنی قتال بذات خود مقصود نہیں ہے، بلکہ کسی اور مقصد کے لیے بطور وسیلہ مطلوب ہے۔ اس سلسلے میں یہاں تین اقوال نقل کیے جاتے ہیں:
ينقسم الجهاد في سبيل الله إلى قسمين : الأول جهاد الدعوة إلى الله بين الناس.... وهذا أعظم أنواع الجهاد، وأعظم من قام به الأنبياء والرسل، وهو جهاد حسن لذاته، وهو مقصد بعثة الأنبياء والرسل .... الثاني القتال في سبيل الله .... وهذا الجهاد حسن لغيره (موسوعة الفقه الاسلامی، محمد بن إبراهيم بن عبد الله التويجري، 50/ 449-5)۔ یعنی جہاد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، لوگوں کے درمیان دعوت الی اللہ کا جہاد .... یہ سب سے اعلیٰ درجہ کا جہاد ہے، اور انبیاء کے کاموں میں سب سے اعلیٰ کام۔ بذات خود حسن ہے۔ انبیاء اور رسولوں کی بعثت کا مقصد یہی ہے .... دوسرا، قتال في سبيل اللہ
ہے... یہ جہاد (بمعنی القتال) برائے جہاد مطلوب نہیں، بلکہ وہ ایک اور مقصد کے لیے بطور وسیلہ مطلوب ہوتا ہے۔
مسجد نبوی کے سابق مدرس عطیہ محمد سالم (وفات: 1999) لکھتے ہیں: [الجہاد وسیلة وليس غاية ... أن القتال فى الإسلام ليس غاية لذاته، ولكنه وسيلة للوصول إلى غاية (شرح الأربعين النووية، درس نمبر 85)۔ جہاد (بمعنی قتال) ایک وسیلہ ہے، وہ بذاتِ خود مقصود نہیں ہے... اسلام میں قتال بذاتِ خود مقصود نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وسیلہ ہے، جو ایک اور مقصد کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔
القتال مما يدل على أنه غير مقصود في ذاته وإنما هو مقصود لغيره (محمد بن عبد السلام الأنصاري، القتال ليس غاية الجهاد [www.assakina.com])۔ شریعت میں بذاتِ خود مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ کسی اور مقصد کے لیے مطلوب ہوتا ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں: [أما حين تكون تلك الغايات يمكن التوصل إليها بغیر القتال فلا شك أنه حينئذ يعتبر الإقدام عليه غير مأمور به۔ یعنی ایسے مقاصد جن کا حصول قتال کے بغیر ممکن ہو، تو یقیناً اس وقت اقدام (جنگ) کرنا ایسا ہوگا، جس کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد بمعنی پرامن دعوت بلا انقطاع ہر حال میں جاری رہتا ہے۔ لیکن قتال صرف اس وقت ہے جب کہ فریقِ ثانی کی جارحیت کی وجہ سے اس کی ضرورت پیش آجاۓ۔
انسان کو استثنائی ذہن دیا گیا اور پھر اس کو آزادی عطا کی گئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنے ذہن کو استعمال کرے، اور پھر وہ خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑا ہو۔ مخلوقات سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد پوری کائنات اللہ رب العالمین کی مجبورانہ حمد کر رہی ہے۔ مگر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے، آزادانہ طور پر خدائی سچائی کو دریافت کرے، اور کسی جبر کے بغیر اس پر کھڑا ہو۔ * * * * * *