خوارج کا کیس
Al-Risala, May 2017, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر سچائی اور جھوٹ کے بارے میں حساسیت اور عمل کی پابندی اور حکم الہی میں حساسیت کو لے کر سوچا جائے تو خوارج کا نام آتا ہے۔ پھر کیوں ان کو مین اسٹریم مسلمانوں سے خارج کیا کیا ایسا اس لیے کیا گیا کہ وہ عمل کرنے کے ساتھ ساتھ سختی سے عمل کروانے میں بھی حساس اس کی صحیح توجیہ کیا ہو سکتی ہے ۔ (حافظ سید اقبال عمری، چنئی)
خوارج کا فرقہ پہلی صدی ہجری میں حضرت علی کے زمانے میں ابھرا۔ یہ لوگ پہلے حضرت علی کے گروہ میں شامل تھے۔ پھر حضرت علی سے اختلاف کر کے وہ باہر نکل گئے۔ اس بنا پر ان کو خوارج کہا جاتا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو الشراۃ کہتے تھے۔ یعنی اللہ کے دین کی خاطر اپنے آپ کو بیچنے یہ لوگ اسی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے، جن کو قرآن میں اعراب (الحجرات: 14) کہا گیا یہ غیر تعلیم یافتہ افراد تھے، جن کا کلچر شدت پسندی تھا۔ یہ لوگ دراصل غلو (extremism) کا انتہائی کیس تھے۔ آج کل کی زبان میں ان کو ریڈیکلا ئزڈ مسلم (radicalized muslim) کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر مسلم سماج میں شامل ہو گئے ۔ لیکن ان کی درست تربیت نہ ہو سکی۔ لیے ان لوگوں کے اندر شدت پسندی کا قدیم مائنڈ سیٹ موجود رہا۔ معمولی اختلاف کی بنا پر وہ لوگوں کی تکفیر کرتے تھے۔ وہ اپنی شدید غلو پسندی کی بنا پر ہر اس شخص یا گروہ کو قابل قتل سمجھتے تھے، جو ان کے غالی نظریات سے اختلاف کرتا ہو۔ اسی انتہا پسندی کی بنا پر انھوں نے حضرت علی قابل گردن زدنی کیوں کہ ان کے خیال کے مطابق انھوں نے تحکیم کے معاملے میں اللہ کے بجائے حکم (arbitrator) کے فیصلے کو اختیار کیا تھا۔
خوارج کا کیس یہ نہیں تھا کہ وہ حساس تھے ۔ جائز حساسیت وہ ہے جو پر امن حساسیت ہو۔ ایسی حساسیت جو اپنے مخالفین کو قابل قتل سمجھے، وہ حساسیت نہیں ہے، بلکہ غیر مطلوب غلو ہے۔ لوگ بلاشبہ ناحق پر ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے اسلام کا خود ساختہ معیار قائم کیا۔ جس کا ان کو حق نہیں
خوارج اسلام میں وہ پہلے لوگ ہیں جنھوں نے اسلام میں تھاٹ کرائم (thought crime) کا نظریہ داخل کیا۔ اس قسم کا انتہا پسندانہ عقیدہ رکھنے والوں کا کیس حساسیت کا کیس نہیں ہے، وہ خدا کے دین کو بدلنے کا کیس ہے۔ ایسے لوگ اگر اپنے عقیدے کو اپنے دل میں رکھیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن اگر وہ اپنے عقیدے کی تبلیغ کریں، اور اپنے مخالفین کو گردن زدنی قرار دے کر ان کو مارنے لگیں تو وہ اسلام کے اعتبار سے مجرم قرار پائیں گے۔
خوارج کا کیس دراصل سیاسی اختلافات سے پیدا ہونے والا ایک شدید مسئلہ ہے۔ کے بعد کی تاریخ میں جب مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل ہوا تو مسلمانوں میں اختلافات بھی پیدا یہ اختلاف پہلے صرف اختلاف کے درجے میں تھا، اس کی ایک علامت سعد بن عبادہ کا معاملہ ہے، جن کو اگرچہ اختلاف تھا۔ مگر وہ پرامن دائرے میں تھا۔ بعد کو اس اختلافات میں شدت آئی، اور عملی ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ اس دور میں ہر گروہ نے اپنے نظریے کو مشدد (مضبوط) کرنے کے لیے، اس کو اسلامائز کرنا شروع کیا۔ یعنی اسلامی تعلیمات سے ان کو درست ثابت کرنا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر شدت پسند فرقے پیدا ہوئے۔ شیعہ گروہ نے یہ دعویٰ کیا کہ علی ابن ابی طالب کے سوا بقیہ تینوں خلفاء کی خلافت غیر قانونی (unlawful) ہے۔ علی ابن ابی طالب کی تکفیر کی، وغیرہ۔ یہی غلو ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ غلو ابتدائی طور پر بظاہر بے ضرر انداز میں شروع ہوتا ہے۔ لیکن بڑھتے بڑھتے وہ خطر ناک صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پورے مسلم سماج میں انار کی، نفرت، باہمی قتل جیسی برائیاں داخل ہو جاتی ہیں۔ اس لیے اسلام میں اس ظاہر ے کو نہایت برا مانا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ اپنے عقیدے کو عملی صورت دینا شروع کریں تو قائم شدہ حکومت کو یہ حق ہوگا کہ یا تو وہ ان سے پرامن بات چیز کریں، جیسا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کیا، اور اگر پرامن بات چیت کافی نہ ہو تو حکومت کو یہ بھی حق ہے کہ وہ سخت کارروائی کرکے ان کا خاتمہ کر دے، جیسا کہ حجاج بن یوسف نے کیا۔ موجودہ زمانے میں جن لوگوں نے حکومت کو عقیدہ کا درجہ دیا، وہ عملاً دور جدید کے خوارج کی حیثیت رکھتے ہیں۔