Al-Risala · May 2017

خالص ایمان

Al-Risala, May 2017, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمان کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ (6:82) ۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے او نہیں ملایا انھوں نے اپنے ایمان میں کوئی ظلم ، انھیں کے لئے امن ہے اور وہی سیدھی راہ پر ہیں۔ میں ملاوٹ سے مراد یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ کسی ایسے عقیدہ یا علم کو شامل کیا جائے جو ایمان کے منافی (inconsistent) ہو۔

ظلم کے اصل معنی ہے مجاوزة الحق اور مجاوزة الحد یعنی حق یا حد سے تجاوز کرنا ۔ ایمان باللہ کے ساتھ یہ عقیدہ رکھنا کہ کچھ ہستیاں اللہ سے خصوصی قربت رکھتی ہیں، اور ان کی بات اللہ کے یہاں مانی جاتی ہے۔ لیکن اس آیت میں ایمان کے ساتھ ملاوٹ کا لفظ نہایت وسیع معنی میں ہے۔ اس میں ہر وہ چیز آسکتی ہے جو عقیدہ توحید سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔

توحید میں یہ ملاوٹ زیادہ تر مضاہات (التوبة:30) کی بنا پر ہوتی ہے، اور مضاہات کا مطلب ہے نقل کرنا (to imitate) ۔ یہ مضاہات ہمیشہ ماحول کے اثر سے ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے سیکولر حلقوں میں سیاسی فکر کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے، اس بنا پر موجودہ زمانے میں سیاسی مضاہات کا ایک ظاہر ہ پیدا ہو گیا ہے۔ قرآن میں حُکْم (یوسف:40) کا لفظ فوق فطری حکم کے معنی میں آیا ہے۔ مگر مضاہات کر کے کچھ مسلمانوں نے اس کو سیاسی حکم کے معنی میں لے لیا، اور اس سے ان لوگوں نے یہ مطلب نکالا کہ مسلمانوں کا مشن زمین پر خدا کی سیاسی حکومت قائم یہ مضاہات عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ظلم کہا گیا ہے۔

یہ مضاہات جس کو قرآن میں ظلم کہا گیا ہے، اس کی کوئی ایک صورت نہیں ہے۔ میں اس کی نئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اہلِ علم کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے زمانے کے مضاہات کو پہچانیں ، اور اہلِ اسلام کو اس سے باخبر کریں۔

Printed page