خوف اور حکمت
Al-Risala, May 2017, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : رأس الحكمة مخافة الله عز وجل (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 730)۔ یعنی حکمت کا سر اللہ کا خوف ہے۔ حکمت سے مراد ہی چیز ہے جس کو وزڈم کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اللہ کے خوف سے انسان کے اندر وزڈم کی صفت کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ خوف خدا اور وزڈم میں کیا تعلق ہے۔ اس حدیث رسول میں جاننے کی جو بات ہے وہ یہی ہے۔
وزڈم کیا ہے۔ وزڈم یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ کسی معاملے کے غیر متعلق پہلوؤں (irrelevant aspects) سے الگ ہو کر سوچے ۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ معاملے کے بارے میں پوری طرح موضوعی رائے ( objective opinion) تک پہنچ جائے ۔ وہ معاملے کے بارے میں ایز اٹ از (as it is) انداز میں سوچ اس صلاحیت کی بنا پر آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ معاملے کے بارے میں وہی رائے قائم کرے ، جو از روئے واقعہ ہونا چاہیے۔ اس عین درست رائے کا نام وزڈم ہے۔ انسان عام طور پر مختلف قسم کے غیر متعلق اثرات کے تحت سوچتا ہے۔ مثلاً غصہ، نفرت، احساس برتری، جذباتیت، انانیت، وغیرہ ۔ یہ چیزیں آدمی کی رائے کو متاثر رائے ( biased opinion) بنا دیتی ہیں۔ اس طرح کی غیر درست سوچ آدمی کو غیر حکیمانہ سوچ والا انسان بنا دیتی ہے۔ اگر واقعی معنی میں کسی کے اندر اللہ کا خوف ہو تو وہ آدمی کی شخصیت کو نہایت گہرائی کے ساتھ متاثر کرتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر ایک فکری انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر نہایت گہرائی کے ساتھ اپنا محاسبہ آپ (introspection) کا مزاج پیدا کر دیتا ہے۔ طرح خوف خدا کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر تمام غیر متعلق عوامل ختم ہو جاتے ہیں۔ اور وہ پورے معنوں میں انسان اصلی (man cut-to-size) بن جاتا ہے ۔ ایسا انسان اپنی فطرت پر قائم ہو جاتا
یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں حکمت (wisdom) کہا گیا ہے۔
یہی وہ صفت ہے جس کا ثبوت اصحاب رسول نے صلح حدیبیہ کے وقت دیا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَاَنْزَلَ اللَّهُ سَكِيْنَتَهُ عَلَى رَسُوْلِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوْا اَحَقَّ بِهَا وَاَهْلَهَا وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (48:26)۔ یعنی جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
While those who deny the truth made it a prestige issue [in their hearts], the bigotry of the days of ignorance, God sent His tranquility down to on His Messenger and believers and firmly established in them the principle of righteousness, for they were indeed better entitled to it and more worthy of it. God has full knowledge of all things. صلح حدیبیہ کا معاملہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں پیش آیا، وہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ فریق ثانی نے اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کو اپنے لیے عزت کا سوال بنا اس بنا پر وہ اس معاملے میں بے حد جذباتی ہو گئے۔ اس کے برعکس ، اصحاب رسول کے اندر متقیانہ مزاج تھا۔ انھوں نے اپنے تحمل کو باقی رکھا۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہو گئے کہ وہ اس معاملے کو خالص عقل (wisdom) کے تحت سوچیں۔ یہ ایک تاریخی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خوف خدا سے کس طرح آدمی کے اندر وزڈم کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔
خدا کے دین میں ذمہ داری بقدراستطاعت کا اصول ہے ۔ استطاعت سے زیادہ کا مکلف بنانا اللہ کا طریقہ نہیں۔ یہ اصول فرد (individual) کے لئے بھی ہے، اور سوسائٹی کے لئے بھی۔