Al-Risala · May 2017

مصیبت یا تحریک عمل

Al-Risala, May 2017, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا کی زندگی میں انسان کو طرح طرح کی مصیبتیں (sufferings) پیش آتی ہیں۔ لوگ اس کو پرابلم آف ایول (Problem of Evil) کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خدا اگر قادر مطلق ہے تو دنیا میں مختلف قسم کی سفرنگ کیوں۔ مگر یہ سفرنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ وہ چیلنج (challenge) کا مسئلہ ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مصیبت نہیں ہے، بلکہ وہ مطالبۂ عمل اس مسئلے کو انسانی ذہن سے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کو خالق کے اپنے منصوبہ تخلیق (creation plan) کی نسبت سے دیکھنا چاہیے۔

خالق کے منصوبے کے مطابق، انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) کی صفت پیدا کرے۔ اور تخلیقی فکر کی صفت کبھی نارمل حالات میں پیدا نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں پیدا ہوتی ہے، جہاں انسان کو بار بار شاک (shock) کا تجربہ ہو۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے انسان کو امکانی صلاحیتوں (potentials) کے ساتھ پیدا کیا یہ بالقوۃ صلاحیتیں، اپنے آپ ظہور میں نہیں آتیں۔ اس معاملے میں خالق نے شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کا اصول رکھا۔ یہ صلاحیتیں شاک ٹریٹمنٹ کے ذریعہ بیدار ہوتی ہیں۔ اگر شاک ٹریٹمنٹ نہ ہو تو یہ صلاحیتیں خفتہ (dormant) حالت میں پڑی رہیں گی۔ فطری امکانات کو واقعہ بنانے میں ناکام رہے گا۔

فطرت کا یہ اصول سیکولر لوگوں کے لیے بھی ہے اور مذہبی لوگوں کے لیے بھی۔ میں کسی گروہ کا کوئی استثنا نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ شاک ٹریٹمنٹ کا معاملہ ہوا، انھوں نے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کیں۔ اس کے برعکس، جن کو لوگوں کے ساتھ شاک ٹریٹمنٹ کا معاملہ نہیں ہوا، وہ بڑی ترقی حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ یہ فطرت کا ایک اٹل قانون ہے، وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔

سوال و جواب خلافت کے معاملے میں صرف مولانا مودودی اور سید قطب کی وجہ سے اتنی تبدیلی آئی ہے یا یہ شروع سے رہا ہے کہ خلافت کو امت نے اپنا مشن سمجھا۔ تقریباً تمام مسالك فکر کے حاملین کو پڑھنے اور سننے سے ایسا لگتا ہے کہ خلافت ہمارا مشن ہے۔ لیکن مولانا، آپ کو پڑھنے کے بعد تو ایسا لگتا ہے که خلافت ہمارا بالکل مشن نہیں ہے۔ آخر کیا وجہ ہے، وضاحت کریں۔ (سراج احمد ندوی، ممبئی) امت مسلمہ کا مشن خلافت کا نظام قائم کرنا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک مبتدعانہ تصور ہے۔ صدی سے پہلے کبھی کسی نے یہ بات نہیں کہی۔ بیسویں صدی میں یہ تصور مسلمانوں کے اندر بطور مضاہات (التوبہ (30) آیا۔ بیسویں صدی میں کمیونسٹ تحریک کے زیر اثر نظام قائم کرو کا نظریہ اسی سے مسلمانوں میں یہ ذہن بنا کہ خلافت کا نظام قائم کرو۔

قرآن میں کہیں بھی یہ حکم نہیں آیا ہے کہ اے مسلمانو، تمھار ا فرض ہے کہ تم زمین پر خلافت کا نظام قائم کرو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حکم اترا، وہ یہ تھا کہ تم لوگوں کو دعوت دو، ان کے اوپر انذار و تبشیر کرو۔ قرآن میں کوئی حکم ان الفاظ میں نہیں آیا ہے کہ یا محمد اقم دولة الاسلام، یا محمد نفذ الشريعة الاسلامية۔ اس لیے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ خلافت کا نظام قائم کریں، ان کو سب سے پہلے اس مضمون کا کوئی حکم قرآن کے حوالے سے بتانا چاہیے۔ سارے لوگوں کا ایک بات بولنا کوئی ثبوت نہیں کہ ان کا کہنا صحیح ہے۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان، منفی بولی بول رہے ہیں۔ حالاں کہ اسلام میں منفی بولی بولنا جائز نہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم سازشوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ یہ سوچ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ شمار مسلمان باہمی قتل اور خودکش بمباری میں مشغول ہیں۔ حالاں کہ ایسا فعل سراسر اسلام میں حرام آپ کو چاہیے کہ آپ قرآن و حدیث کو دیکھیں، نہ کہ اس کو کہ لوگ کیا بات بول رہے ہیں۔

Printed page