Al-Risala · May 2017

‘Oh, Wow, Quran, I would love to read it! ’

Al-Risala, May 2017, pp. 49–51

By Maulana Wahiduddin Khan

کتاب میلہ: جنوری کی 25 تاریخ سے فروری کی 5 تاریخ تک کولکاتا کے میلان میلہ کا مپلکس میں بک فیئر کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں سی پی ایس کو لکاتا نے حصہ لیا۔ بڑی تعداد میں لوگ سی پی ایس کے اسٹال پر آئے، اور ترجمہ قرآن کے علاوہ دعوتی لٹریچر حاصل کیا۔

موقع کا استعمال : ہری دوار میں 10 فروری 2017 کو ایک شادی کا پرو گرام ہوا۔ یہ شادی مشہور فزیشن اور بی جے پی لیڈر ڈاکٹر پہل سینی کی بیٹی کی تھی۔ اس مناسبت سے ان کو ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر بطور گفٹ دیا گیا۔ کے علاوہ شادی میں شریک دیگر مہمانوں کو بھی ترجمہ قرآن اور دیگر لٹریچر دیا گیا۔ یہ دعوتی کام سہارن پور ٹیم کے ڈاکٹر

اسلم خان نے انجام دیا۔

● 11 فروری 2017 کو آئی آئی سی دہلی میں ایک پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں صدر اسلامی مرکز نے زندگی اور موت کے تعلق سے خطاب کیا، یہ پروگرام ایک تعزیتی پروگرام تھا جو صدر اسلامی مرکز کے داماد جناب اطہر صدیقی صاحب کی وفات (7 فروری 2017) کی مناسبت سے رکھا گیا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر تمام حاضرین کو ترجمہ قرآن اور دیگر لٹریچر دیے گئے۔

روشنی کی کرن : افغانستان سے ملی خبر کے مطابق، وہاں نوجوانوں کی ایک ٹیم تیار ہوگئی ہے۔ 12 مارچ 2017 کو قندھار سے مسٹر جلال الرحمن شر تشریف لائے، اور صدر اسلامی مرکز کو ان کی کتاب امن عالم کا پشتو ترجمہ (اسلام: سولہ کہ جگرہ) پیش کیا۔ اس کے علاوہ یہ لوگ صدر اسلامی مرکز کی کئی کتابوں کا پشتو زبان میں ترجمہ کر چکے ہیں۔ مذہب اور سائنس، راز حیات، پیغمبر انقلاب، آخری سفر، راز حیات، اور اللہ اکبر۔ نیز تین لیف لیٹس کے پشتو ترجمے ہو چکے ہیں۔ مثلاً با اصول زندگی، اپنی تعمیر آپ، مسلمان کی اصل حیثیت۔ خواہش مند حضرات یہ تینوں پشتو لیف لیٹس گڈ ورڈ بکس، دہلی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تذکیر القرآن کے پشتو ترجمہ کا کام چل رہا ہے۔ قرآن کی عالمی اشاعت : ذیل میں دعوتی فکر رکھنے والے ایک نوجوان کا تجربہ بیان کیا جا رہا ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا میں الرسالہ مشن، یعنی قرآن کو گھر گھر میں پہنچانے کی تحریک پھیلتی جارہی ہے: I had two experiences I would like to share with everyone. A few months back I was in New York and had taken a room in a youth hostel. There was a common place in the building where we can have breakfast and one morning I noticed an European girl with Maulana's translation of the Quran. I went over to her and asked her about it. She said someone had given it to her at Times Square. A few days back, I was in Jamshedpur. There is bookstore run there by a 90-year old man. He told me he had been following Maulana as far back as he could remember and had been selling Al-Risala since its very first edition. He had a lot of other nice things to say as well. Maulana's work and influence has genuinely reached across the world. From India to New York, I can feel the mission working everytime I step into a bookstore and find Maulana's work. Congratulations to all of (Asad Pervez, New Delhi)

اسلامی اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولانا وحید الدین خاں کے قلم سے اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، لیکن ہر دور میں ضرورت ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب میں بیان کیا جائے، تاکہ بدلے ہوئے حالات میں لوگ اسلام کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کر سکیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف موضوعات پر تیار کردہ ان کتابوں کا مطالعہ کریں، نیز قرآن کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر برادران وطن تک پہنچا کر اپنا دعوتی رول ادا کریں۔ مذہب اور جدید چیلنج Goodword Mob.: +91-8588822672 May 2017 • Rs. 30 اس دنیا میں آدمی ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے — مسائل اور مواقع

Printed page