اعلیٰ معرفت
Al-Risala, June 2017, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت الہی کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو مبنی بر حکمت معرفت (wisdom-based یہ معرفت کی وہ قسم ہے جو ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے، جنھوں نے اپنے آپ کو اعلیٰ درجے کے ذہنی ارتقا (intellectual development) پر پہنچا ہو۔ عبد اللہ ابن رواحہ (وفات: 8ھ) اسی قسم کے ایک صحابی تھے۔ ان کے بارے میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آئی ہے: عن أنس بن مالك، قال: كان عبد الله بن رواحة إذا لقي الرجل من أصحابه، يقول : تعال نؤمن بربنا ساعة، فقال ذات يوم لرجل، فغضب الرجل، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال : يا رسول الله، ألا ترى إلى ابن رواحة يرغب عن إيمانك إلى إيمان ساعة؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم : يرحم الله ابن رواحة، إنه يحب المجالس التي تتباهى بها الملائكة (مسند احمد، حدیث انس بن مالک سے روایت ہے کہ عبداللہ بن رواحہ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ کسی صحابی سے ملتے تو وہ اس سے کہتے کہ آؤ، تھوڑی دیر اپنے رب پر ایمان لے آئیں، ایک دن انہوں نے یہی بات ایک آدمی سے کہی تو وہ غصہ ہو گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر اس نے کہا کہ یا رسول اللہ، کیا آپ ابن رواحہ کو نہیں دیکھتے کہ وہ لوگوں کو آپ پر ایمان لانے کے بجائے تھوڑی دیر کے لئے ایمان کی طرف بلاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ ابن رواحہ پر رحم کرے، وہ ان مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے رشک کرتے ہیں۔
یہ مبنی بر حکمت معرفت کی ایک مثال ہے۔ معلوم ریکارڈ کے مطابق بعد کے زمانے میں غالباً اس قسم کی معرفت کا تصور باقی نہ رہا۔ اس کے بجائے ایک اور تصور رائج ہو گیا جس کو مبنی بر قلب تصور کہا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے قسم کے معرفت کی ایک مثال محی الدین ابن عربی (وفات 638ھ) کی ہے۔ اس موضوع پر ان کا ایک شعر یہ ہے: العبد عبد وان ترقی والرب رب
بندہ بندہ ہے، اگر چہ وہ اوپر چڑھے۔ اور رب رب ہے، اگر چہ وہ نیچے اترے۔ اس قسم کی ایک اور مثال ابن قیم الجوزیۃ (وفات: 751ھ) کی ہے۔ انھوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے: وَقَالَ تَعَالَى { لَيْسَ كمثله شي ء} فَهَذَا من المثل الأعلى وهو مستو على قلب المؤمن فهو عرشه (الفوائد، بيروت، 1973، صفحه 27)۔ اللہ نے فرمایا: اس کے مانند کوئی چیز نہیں (الشوری: 11)۔ اس لیے یہ ایک اعلی مثال کا معاملہ ہے۔ اور وہ مستوی ہے مومن کے قلب پر، پس مومن کا قلب اللہ کا عرش ہے۔
موجودہ زمانے میں سائنسی دریافتوں نے مبنی بر حکمت معرفت کے دائرے کو بہت زیادہ وسیع کر دیا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے جس نیچرل ورلڈ (natural world) کو دریافت کیا ہے، وہ پورا کا پورا گویا مبنی بر حکمت معرفت کی تفسیر ہے۔ ان دریافتوں نے موجودہ زمانے میں انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ زیادہ بڑے پیمانے پر اعلی معرفت والا ایمان حاصل کرے ۔ موجودہ زمانے میں سائنس کا ایک نیا موضوع (subject) وجود میں آیا ہے۔ انٹیلی جنٹ یونیورس (intelligent universe) کہا جاتا ہے۔ انٹیلی جنٹ یونیورس کے بارے میں سائنس کی نئی دریافتوں نے ساری کائنات کو معرفتِ اعلیٰ کی کائنات بنا دیا ہے۔ اس موضوع پر موجودہ زمانے میں اہل علم نے کافی لکھا ہے۔ بطور مثال چند کتابیں یہ ہیں: The Intelligent Universe, by Fred Hoyel (1984)
The Intelligent Universe: A Cybernetic Philosophy, by David Blythe Foster (1975)
The Intelligent Universe by James N. Gardner(2007)
Intelligent Universe: The Light-Second Code and the Golden Ratio, by Hristo Smolenov (2016)
اس موضوع پر کثیر تعداد میں مقالات اور کتابیں موجودہ زمانے میں شائع ہوئی ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان تمام کتابوں اور مقالات کا موضوع بلا اعلان رب العالمین کی معرفت ہے۔ ٹائٹل کے مطابق ان کو الله يتجلى في عصر العلم کہا جا سکتا ہے۔