استعداد بڑھائیے
Al-Risala, June 2017, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
الرساله مشن سے جولوگ وابستہ ہیں ، ان کو ایک کام یہ کرنا ہے کہ وہ دعوت کے اعتبار سے اپنی استعداد کو بڑھائیں۔ مشن سے وابستہ ہونے کے وقت ان کی جو استعداد تھی ، اسی پر قانع نہ ہو مثلاً عربی جاننے والے ہیں، عربی بولنے میں اپنی استعداد کو بڑھائیں ، اور جو انگریزی جاننے والے ہیں ، وہ انگریزی بولنے میں اپنی استعداد کو بڑھائیں۔
اس کوشش کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان کا دائرہ ربط (contact area) بڑھ جائے گا۔ ملاقاتوں میں یا اجتماعات میں اپنی بات کو زیادہ موثر (effective) انداز میں پیش کرنے کے قابل استعداد بڑھانا ، اپنی قوتِ کارکردگی کو بڑھانا ہے، جو کہ کسی صاحب مشن کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ کوشش فطری طور پر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا وہ داعی کو تخلیقی داعی (creative dayee) بنانے والا ثابت ہوگا۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو جن دعاؤں کی تلقین کی گئی ، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (20:114)_ یعنی اور کہو کہ اے میرے رب میرے علم میں اضافہ کر۔
اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنی دعاؤں میں اس دعا کو شامل کرو کہ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔ بلکہ یہ ایک منصوبہ بندی کی بات ہے۔ اس اعتبار سے اس کا تعلق صرف پیغمبر سے نہیں ہے ، بلکہ اسلام کے ہر داعی سے ہے۔ ہر داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے علم کو بڑھائے۔ وہ اپنی داعیانہ استطاعت میں اضافہ کرے ۔ وہ اپنے آپ کو دعوت کے لیے زیادہ سے زیادہ اہل بنائے۔ داعی اور مدعو کا معاملہ صرف دعوت پہنچانے کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک دوطرفہ عمل ہے۔ داعی جب دعوت کو اپنا نشانہ بناتا ہے ، اس کے بعد اس کو یہ بھی کرنا ہے کہ وہ دعوتی کام کو منصوبہ بند انداز میں کرے۔ وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ موثر داعی بنانے کی کوشش کرے۔ زید ابن ثابت انصاری رسول اللہ کے کاتب (secretary) تھے۔ ان کے بارے میں
المسعودی نے لکھا ہے: وزید بن ثابت الأنصاري... يكتب إلى الملوك ويجيب بحضرة النبي صلى الله عليه وسلّم وكان يترجم للنبي صلى الله عليه وسلّم بالفارسية والرومية والقبطية والحبشية، تعلم ذلك بالمدينة من أهل هذه الألسن (التنبيه والإشراف للمسعودی، قاهرہ، صفحہ 246)۔ یعنی زید ابن ثابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بادشاہوں کے نام خط لکھا کرتے تھے، اور ان کے خطوط کا جواب دیتے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فارسی، رومی، قبطی، حبشی زبان سے ترجمہ کیا کرتے تھے۔ انھوں نے مدینہ میں اہل زبان سے یہ زبانیں سیکھی اس کے علاوہ مسند احمد (حدیث نمبر 21587) وغیرہ ، کی روایت کے مطابق انھوں نے یہودیوں کی زبان بھی سیکھی تھی۔
اس طرح ان کو چھ زبانیں آتی تھیں۔ عربی کے علاوہ فارسی، رومی، قبطی، حبشی اور سریانی۔ کے لیے ززیادہ زبانیں جاننے کی ضرورت موجودہ زمانے میں اور بھی بڑھ گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن (communication) اور دوسرے اسباب سے لوگوں کا ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانا بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ مختلف سطح پر لوگوں کے درمیان تعلقات میں بہت زیادہ اضافہ دعوت کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے زبان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ لوگ موجودہ زمانے میں دعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں بہت زیادہ تا کہ وہ دعوت کا کام بہت زیادہ مفید انداز میں انجام دے سکیں۔ یہ بات صرف زبان کی حد تک محدود نہیں ہے، بلکہ موجودہ زمانے میں اس میں نئے پہلووں کا اضافہ ہوا ہے۔ مثلا کمپیوٹر، جو گویا کہ مشینی زبان کا ایک آلہ ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ کمپیوٹر کو سیکھیں، اور کمپیوٹر کے ذریعہ جو دعوت کے نئے مواقع حاصل ہوئے ہیں، اس کو اویل (avail) کریں۔ موجودہ زمانے میں کمپیوٹر صرف ایک چیز کا نام نہیں ہے۔ کمپیوٹر گویا ایک عالمی یونیورسٹی کا گیٹ وے یہ عظیم نعمت ہے، اور اس نعمت کا شکر، یہ ہے کہ لوگ اس کو یادہ سے زیادہ دعوت دین کے لیے استعمال کریں۔