ایم جنس آف اسلام
Al-Risala, July 2017, pp. 4–7
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید دور ایک مؤید اسلام دور ہے۔ یہ دور اگرچہ عام طور پر مغرب کی طرف منسوب ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پوری انسانیت کی مجموعی کوشش سے یہ دور ظہور میں آیا ہے۔ تاہم مغربی قوموں کا حصہ اس دور کو لانے میں سب سے زیادہ ہے۔ دوسری قومیں اگر اس عمل (process) کا حصہ ہیں، تو مغربی دنیا اس کے نقطۂ انتہا کا مقام۔
یہ دور جس کا نمایاں پہلو جدید تہذیب (modern civilization) ہے، اس نے قدیم روایتی دور کو یکسر بدل دیا ہے۔ یہ ہر اعتبار سے ایک نیا دور ہے۔ یہ وہی دور ہے جس کی پیشین گوئی پیغمبر اسلام نے اپنے زمانے میں واضح طور پر کردی تھی۔ اس سلسلے میں ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إن الله عز وجل ليؤيد الإسلام برجال ما هم من أهله (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ بے شک اللہ عزوجل اسلام کی تائید ان لوگوں کے ذریعہ کرے گا جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔
اصل یہ ہے کہ اسلام کی تحریک پچھلے زمانے میں روایتی بنیاد پر چلتی تھی۔ (nature) کے اندر خالق نے اپنے عظیم کلمات چھپا دیے تھے۔ خالق کو مطلوب تھا کہ یہ کلمات دریافت کیے جائیں، اور ان کو کتابوں کی صورت میں مدون کیا جائے تا کہ اسلام کی صداقت کو مبرہن کرنے کے لیے سائنٹفک فریم ورک (scientific framework) حاصل ہو، اور اعلیٰ سطح پر دین خداوندی کی معرفت ممکن ہو جائے۔ جدید تہذیب کے بعد اکیسویں صدی میں یہ امکان پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ فطرت کے رازوں کی دریافت کے بعد یہ سب کچھ اب واقعہ بن چکا ہے۔ یہ دور امکانی طور پر ظہورِ اسلام کا دور ہے۔ یہ دور گلیلیو گلیلی (1642-1564) کی تحقیقات
سے شروع ہوا، اور اب اسٹیفن ہاکنگ (پیدائش: 1942) کی تحقیقات کے ساتھ وہ اپنی تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دریافت کردہ حقائق کو لے کر خدا کے دین کو تبیین کامل کے درجے تک پہنچایا جائے۔ اسی کے ساتھ کمیونی کیشن کے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے خالق کے پیغام کو زمین کے ہر چھوٹے بڑے گھر میں پہنچا دیا جائے۔ جیسا کہ پیغمبر نے پیشین گوئی کی ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔
اسلام ہر دور میں پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہوتا رہا ہے۔ کوئی دور اس واقعہ سے خالی نہیں۔ لیکن اسلام کے ظہور کا ایک اور درجہ تھا، جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت: 53) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ حدیث میں ظہورِ اسلام کے اس واقعے کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کے اس اعلیٰ ظہور کے لیے اعلیٰ مواقع درکار ایک طرف معرفتِ رب کے دلائل اور دوسری طرف دعوت کے اعلیٰ مواقع۔ یہ دونوں چیزیں جدید سائنسی دور میں اپنی کامل صورت میں ظہور میں آچکی ہیں۔ اب ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے جو ان مواقع کو پہچانے، اور ان کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے اُس آخری ظہور کو واقعہ بنائے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے۔
اس نشانے کی تکمیل کے لیے تمام اسباب مہیا ہو چکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ منفی سوچ سے باہر آئے، جس کو قرآن میں الرجز (المدثر: 5) کہا گیا ہے۔ جدید مواقع کو اسلام کے ظہور ثانی کے لیے استعمال کرنا، انھیں لوگوں کے لیے ممکن ہے جو پوری طرح منفی سوچ (negative thinking) سے پاک ہوں، اور اعلیٰ درجے کی مثبت سوچ (positive thinking) کے حامل بن چکے ہوں۔ یہ کام ایک انتہائی مثبت کام ہے، اور کامل درجے کی مثبت سوچ کی صفت رکھنے والے ہی اس کو انجام دے سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دورِ جدید کو ایک موید اسلام دور کی حیثیت سے دریافت کریں، اور اپنے عمل کی ری پلاننگ کے تحت اس امکان کو واقعہ بنائیں۔
پلاننگ ، ری پلاننگ کہ اس کے وجود کو پلاننگ (planning) کا مطلب ہے منصوبہ بند انداز میں کام کرنا۔ محنت کے ساتھ جب تنظیم (organization) کو شامل کیا جائے تو اسی کا نام منصوبہ بندی ہے۔ قدیم تصور یہ تھا کہ کامیابی کے لیے محنت (hard work) سب سے اہم ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس میں ایک مزید پہلو کا اضافہ کیا ہے، اور وہ تنظیم ہے۔ اس تصور کے مطابق پلاننگ کا مطلب ہے منظم انداز میں کسی کام کے لیے اپنی محنت صرف کرنا۔ ری پلاننگ (re-planning) گویا پلاننگ پلس (plus | ے تجی پرے ، ب planning) کا دوسرا نام ءہتہمعار ے ک شان یب ری پلاننگ کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے منصوبہ میں تجربات کا اضافہ کرنا، اور نئی معلومات کی روشنی میں از سر نو اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ اس طریق کار کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ پہلے منصوبہ میں جو مقصد حاصل نہ ہوا ہو، اس مقصد کو دوبارہ بہتر انداز میں منظم کر کے از سر نو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ری پلاننگ کا طریقہ ہر معاملے میں قابل انطباق (applicable) ہے۔ اسی طرح اسلامی عمل کے معاملے میں بھی یہ طریقہ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہارون الرشید عباسی سلطنت کا پانچواں خلیفہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ بغداد میں اپنے محل کے اوپر اپنی ملکہ زبیدہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے دیکھا کہ فضا میں بادل کا ایک ٹکڑا اڑتا ہوا جا رہا اس کو دیکھ کر اس نے کہا: امطری حيث شئت، فسيأتيني خراجك۔ جا کر برس، تیرا خراج میرے پاس ہی آئے گا۔
ہارون الرشید کی یہ بات قدیم زمانے میں ایک با معنی بات ہو سکتی تھی، مگر آج اس کی معنویت ختم ہو چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس سلسلے میں کئی نئی باتیں وجود میں آچکی ہیں۔ مثلاً قدیم زمانہ مبنی بر زمین زراعت (land-based agriculture) کا زمانہ تھا، اب مبنی بر ٹیکنالوجی صنعت کا زمانہ قدیم زمانے کی سیاست شخصی اقتدار پر مبنی ہوا کرتی تھی، اب سیاست جمہوریت پر مبنی ہوتی
قدیم زمانے میں صرف اقتدار کے محدود دائرے سے خراج لینا ممکن ہوتا تھا۔ اب مکمل آزادی کا زمانہ ہے، اب آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ ساری دنیا سے خراج‘‘ لینا ممکن ہو گیا ہے۔ اس فرق کی بنا پر اب ممکن ہو گیا ہے کہ کسی مقصد کا منصوبہ عالمی سطح پر بنایا جائے بغیر اس کے کہ عالمی سطح پر سیاسی اقتدار حاصل ہو۔ اس فرق نے مشن کے تصور میں بنیادی بھی فرق پیدا کر دیا اگر آپ ایک عالمی مشن چلانا چاہتے ہیں تو آپ کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے، اور وہ ہے ماڈرن ٹکنالوجی پر مبنی پرامن تنظیم۔ مثال کے طور پر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعوتی مکتوب ایران کے بادشاہ کسرىٰ کے نام بھیجا۔ اس مکتوب کو لے کر کسرىٰ کے پاس جانے والے ایک صحابی تھے، جن کا نام عبد اللہ بن حذافہ تھا۔ اس مکتوب کا متن یہ تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ رسول الله إلى كسرى عظیم فارس، سلام علی من اتبع الهدى، وآمن بالله ورسوله وشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأن محمد ابعـده ورسوله، وأدعوك بـدعاء الله، فإني أنا رسول الله إلى الناس كافة لأنذر من كان حيا ويحق القول على الكافرين۔ فإن تُسلم تسلم وإن أبيت فإن إثم المجوس عليك (البداية والنهاية لابن کثیر،4/306)۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ایران کے قدیم بادشاہ کو جب یہ مکتوب دیا گیا تو وہ غصہ میں آگیا، اور اس کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ یہ واقعہ قدیم زمانے کے مروجہ کلچر کی بنا پر ہوا۔ آج اگر کسی تحریک کا سربراہ اس قسم کا خط کسی حکمراں کو بھیجے تو وہ سربراہ جواب میں اس کا اکنوجمنٹ (acknowledgement) بھیجے گا، اور متعلقہ مکتوب اس کے دفتر میں محفوظ کر دیا جائے گا۔
اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلامی مشن کی ری پلاننگ کی جدید حقائق کی روشنی میں اس کا منصوبہ بنایا جائے۔ اب کسی صاحب مشن کو نہ کسی شکایت کی ضرورت ہے، نہ کسی پروٹسٹ کی۔ اب صرف یہ ضرورت ہے کہ آدمی زمانے کی تبدیلی کو سمجھے، اور اس کی رعایت کرتے ہوئے ، اسلامی مشن کی پرامن ری پلاننگ کرے۔ اسی تبدیل شدہ لائحہ عمل کا نام ری پلاننگ ہے۔