ہجرت مدینہ
Al-Risala, July 2017, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ یعنی شرک کی آئڈیالوجی کے بجائے دنیا میں توحید کی آئڈیالوجی کو ظہور میں لانا۔ آپ نے اپنا مشن 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت مکہ میں شرک کا کلچر تھا۔ مشرک سرداروں کو ہر اعتبار سے غلبہ کا مقام ملا ہوا تھا۔ تیرہ سال کی مخالفت کے بعد آخر کار انھوں نے رسول اللہ کو عملاً الٹی میٹم دے دیا کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ سے چلے جائیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کر دیں گے۔
پیغمبر اسلام کے لیے یہ ایک بحران (crisis) کا لمحہ تھا۔ مگر آپ نے رد عمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ حالات کا بے لاگ جائزہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ آپ خاموشی سے مکہ چھوڑ دیں، اور یثرب چلے جائیں۔ جو کہ قدیم عرب کے تین بڑے شہروں میں سے ایک تھا، اور مکہ سے تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ پیغمبر اسلام نے جب مکہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے اپنے اصحاب سے ایک بات کہی تھی۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ البخاری (حدیث نمبر 1871) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1382) کے مشترک الفاظ یہ ہیں: أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب، وهي المدينة۔ یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔
اس حدیث رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں باعتبار معنی ہجرت مدینہ سے مراد مشن کی ری پلاننگ ہے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ نے مدینہ پہنچ کر مکہ والوں کے خلاف کسی قسم کی منفی روش اختیار نہیں کی۔ بلکہ مکہ والوں کے سلوک کو بھلا کر انتہائی مثبت انداز میں اپنے مشن کی نئی منصوبہ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتابیں، پیغمبر انقلاب اور سیرت رسول۔ مثلاً عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کی طرف کثرت سے دعوتی وفود بھیجنا، عرب کے باہر ملوک و سلاطین کے نام دعوتی خطوط بھیجنا۔ قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مانتے ہوئے ان سے امن کا معاہدہ
کرنا، قریش نے یک طرفہ طور پر حملہ کر کے آپ کو جنگ میں الجھانا چاہا، لیکن آپ نے دانش مندی کے ساتھ ان کو میخ کیا، اور ان کے حملوں کو جھڑپ (skirmish) بنا دیا، وغیرہ۔ یہ سب آپ نے اس لیے کیا تا کہ مشن کی ری پلاننگ کے لیے آپ نے جو عمل (process) جاری کیا تھا، وہ بلا رکاوٹ جاری رہے۔
پیغمبر اسلام کی اپنے مشن کی یہ ری پلاننگ پوری طرح کامیاب رہی۔ ہجرت کے آٹھویں سال یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ مکہ میں کسی جنگ کے بغیر آپ کو دوبارہ فاتحانہ داخلہ مل گیا۔ یہ واقعہ بھی اسی سلسلے کا ایک حصہ ہے کہ جب آپ کو مکہ پر غلبہ حاصل ہو گیا اور مکہ کے سردار آپ کے پاس لائے یہ لوگ بین اقوامی اصطلاح کے مطابق جنگی مجرمین (prisoners of war) تھے۔ نے ان کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی، بلکہ یہ کہہ کر سب کو چھوڑ دیا: أقول كما قال يوسف: لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو أرحم الراحمين [12:92]. قال: فخرجوا كأنما نشروا من القبور فدخلوا في الإسلام (سنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر 18275)۔ یعنی میں وہی کہتا ہوں جو یوسف نے کہا: تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تم کو معاف فرمائے، اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ حرم سے نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، پس وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔
قدیم مکہ کے سردار یہ جانتے تھے کہ ان کا کیس ظلم کا کیس ہے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام نے ان سب کو یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ اس سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان سرداروں میں ندامت کا جذبہ فطری طور پر پیدا ہو گیا، اور وہ پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گئے ۔ اس کے برعکس، اگر آپ ان سے انتقام کا معاملہ کرتے تو یقیناً ان کے اندر جوابی انتقام کا ذہن پیدا ہوتا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان انتقام در انتقام (chain reaction) کا ماحول قائم ہو جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ قانون اسباب کے مطابق پیغمبر اسلام کا پر امن مشن اپنے پہلے ہی تجربے میں غیر ضروری مشکلات کا شکار مگر اس اعلیٰ سلوک کی بنا پر پیغمبر کا مشن بلا توقف (non-stop) جاری رہا۔