حدیبیہ کا منصوبہ
Al-Risala, July 2017, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اور اصحاب رسول نے نبوت کے تیرھویں سال مکہ کو چھوڑ دیا، اور مدینہ کو اپنا مرکز عمل لیکن مکہ کے سرداروں کو یہ بات منظور نہ تھی۔ اب انھوں نے یہ کوشش شروع کی کہ مدینہ پر حملہ کر کے نبوت کے مشن کا خاتمہ کر دے۔ اس کے نتیجے میں چند غزوات پیش آئے۔ مثلاً غزوہ بدر، غزوہ احد، وغیرہ۔ ان حملوں کی وجہ سے پیغمبر اسلام کو یہ موقع نہیں مل رہا تھا کہ وہ پر امن حالات میں اپنے مشن کو جاری رکھیں۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ ہجرت کے چھٹے سال آپ نے یہ اعلان کیا کہ آپ عمرہ کے لیے مکہ جائیں گے۔ ایک ہزار چار سو صحابی اس سفر میں آپ کے ساتھ شامل یہ قافلہ جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچا جو مدینہ اور مکہ کے تقریباً درمیان میں واقع ہے۔ سرداروں کو خبر ہوئی تو انھوں نے اپنے کچھ لوگوں کو بھیجا کہ وہ محمد اور آپ کے اصحاب کو روکیں، اور یہ بتائیں کہ ہم مکہ میں آپ کا داخلہ نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد حدیبیہ کے مقام دونوں فریقوں کے درمیان گفت و شنید شروع ہوئی۔ یہ گفت و شنید تقریباً دو ہفتہ جاری رہی۔ اس گفت و شنید کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کو معاہدہ حدیبیہ ( Hudaibiyah Agreement) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت دونوں فریق اس پر راضی ہوئے کہ ان کے درمیان دس سال تک کوئی لڑائی نہیں ہوگی۔ اس طرح یہ معاہدہ گویا دس سال کے لیے نا جنگ معاہدہ (no-war pact) تھا۔ اس معاہدہ کے تحت پیغمبر اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ پر امن حالات میں اپنے مشن کی منصوبہ بندی کریں، جو آخر کار قرآن کے الفاظ میں فتح مبین (الفتح: 1) تک پہنچا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حدیبیہ کا معاہدہ یقیناً فتح مبین (clear victory) کا معاہدہ تھا۔ معاہدہ امن کس طرح واقعہ بنا۔ وہ اس وقت واقعہ بنا جب کہ پیغمبر اسلام نے فریق ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر تسلیم کر لیا۔
فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لینے کی آخری حد یہ تھی کہ جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو اس پر یہ الفاظ لکھے گئے: گیے:ہذا ما صالح عليه محمد رسول الله - فریق ثانی کے نمائندہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کورسول نہیں مانتے، آپ لکھیے محمد بن عبد اللہ۔ پیغمبر اسلام نے اس مطالبہ کو بلا بحث مان لیا، اور حکم دیا کہ معاہدہ کے کاغذ پر لکھا جائے: امح يا علي واكتب : هذا ما صالح عليه محمد بن عبد الله (مسند احمد، حدیث نمبر 3187)۔
معاہدہ حدیبیہ کے بعد حالات میں انقلابی تبدیلی ہوئی۔ یہاں تک کہ دو سال کے اندر مکہ ناجنگ کے بغیر فتح ہو گیا— معاہدہ حدیبیہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اگر تم فتح چاہتے ہو تو پہلے اپنی شکست کو تسلیم کرو، اگر تم آگے بڑھنا چاہتے ہو تو پہلے پیچھے ہٹنے پر راضی ہو جاؤ، اگر تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ کا ٹائٹل صفحہ عالم پر لکھا جائے تو بوقت ضرورت تم اس کو کاغذ پر مٹانے کے لیے راضی ہو جاؤ۔ پریکٹیکل وزڈم کا ایک حکیمانہ اصول ہے، جس کو وقت حاصل کرنے کی تدبیر (buying-time strategy) کہا جا سکتا ہے۔ حدیبیہ میں قیام امن کے لیے فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لینا گویا یہی تدبیر تھی۔ یہ تدبیر مؤثر ثابت ہوئی، اور اس کے بعد بہت کم مدت میں عرب میں ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) آ گیا۔ یہ واقعہ بھی باعتبارِ حقیقت ری پلاننگ کا ایک واقعہ تھا۔
قدیم زمانے میں جنگ معاہدہ عظیم قربانی کے بعد وقتی طور پر حاصل ہوا تھا۔ زمانے میں یہ صورت حال ایک یونیورسل نارم (universal norm) کے طور پر دنیا میں قائم ہو چکی ہے۔ 1945 میں اقوام متحدہ (UNO) کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے تحت دنیا کی تمام قوموں نے اتفاق رائے سے یہ مان لیا ہے کہ ہر ایک کو پر امن عمل کی کلی آزادی حاصل ہوگی۔ دوسری قوم پر حملہ نہیں کرے گی۔ کسی کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ دوسرے کو اپنا ہم خیال بنانے کے لیے اس پر جبر کرے ۔ اب تشدد (violence) اصولی طور پر ایک مجرمانہ فعل بن چکا ہے۔ انسان پوری طرح امن کے اصول پر قائم رہتے ہوئے اپنا کام کرے۔