Al-Risala · July 2017

متعلق اور غیر متعلق میں فرق کرنا

Al-Risala, July 2017, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

ری پلاننگ ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔ لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں۔ ایک شرط یہ ہے کہ پلاننگ کے دوران کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو پلاننگ کے عمل(process) میں رکاوٹ ڈالنے تا کہ پلاننگ کا عمل بلا توقف (non-stop) چلتا رہے۔

اس کی ایک مثال کعبہ کی تعمیر کا مسئلہ ہے۔ کعبہ کی تعمیر اول پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل نے تقریباً دو ہزار سال قبل مسیح میں مکہ میں کی۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ مکہ میں تیز بارش ہوئی، اس کی وجہ سے کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ اس وقت مکہ پر مشرکین کا غلبہ تھا۔ انھوں نے 5 ویں صدی عیسوی میں کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی۔ اہل مکہ نے کسی سبب کے تحت کعبہ کی تعمیر ثانی کے وقت اس کو چھوٹا انھوں نے اس کے ایک حصے کو غیر مسقف حالت میں کھلا چھوڑ دیا، جو کہ ابھی تک اسی طرح کعبہ کے ابراہیمی نقشے کے مطابق، کعبہ ایک مستطیل (rectangle) صورت کا تھا۔ تعمیر نو کے وقت قریش کے لوگوں نے کعبہ کو چو کور بنا دیا۔ جب کہ اس سے پہلے وہ مستطیل تھا۔ کے کچھ حصے کو انھوں کھلا چھوڑ دیا، جس کو اب حطیم کہا جاتا ہے۔ کعبہ کے مقابلے میں حطیم کا ایریا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔

کعبہ کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعائشة : الم ترى أن قومك لما بنوا الكعبة اقتصروا عن قواعد إبراهيم ؟ ، فقلت: يا رسول الله، ألا تردها على قواعد إبراهيم؟ قال : لولا حدثان قومك بالكفر لفعلت (صحيح البخاری، حدیث نمبر 1583)۔ یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جب کعبہ کی عمارت بنائی، تو ابراہیم کی بنیاد سے اسے چھوٹا کر دیا۔ کہا کہ یا رسول اللہ پھر آپ اس کو قواعد ابراہیمی کے مطابق کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ نے فرمایا اگر

تمہاری قوم کا کفر کا زمانہ ابھی حال ہی میں نہ گزرا ہوتا تو میں ایسا کر دیتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی توجیہ ابن حجر العسقلانی نے ان الفاظ میں کی ہے: رعاية لقلوب قريش (فتح الباری، یعنی قریش کے قلوب کی رعایت میں ایسا کیا۔

اصل یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں لوگ بہت حساس ہوتے ہیں۔ جب کسی مذہبی یادگار پر لمبی مدت گزر جائے تو لوگوں کی نظر میں وہ مقدس بن جاتی ہے۔ اس میں ادنی تغیر کو وہ برداشت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اگر کعبہ کی عمارت میں تغیر کرتے تو اندیشہ تھا کہ لوگ اس کا تحمل نہ کر سکیں گے، اور اس کا منفی نتیجہ بر آمد ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عرب میں توحید کا دین قائم کرنے کا جو عمل جاری ہے، وہ درمیان میں چیر ڈائز (jeopardize) ہو جائے گا، اور اصل مشن کو سخت نقصان پہنچے گا۔

اسلام میں رعایت عوام کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ: 60) کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تالیف قلب اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتی مشن کے دوران ہمیشہ متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کے درمیان فرق کیا۔ آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ ایک غیر اہم چیز کی خاطر آپ اہم کو نظر انداز کر دیں۔ آپ کے سامنے ہمیشہ اصل نشانہ ہوتا تھا، اور جو چیز اصل نشانے کی نسبت سے غیر اہم ہو، اس کو آپ ہمیشہ نظر انداز کر کے اصل نشانے پر قائم رہتے تھے۔ یہ اصول ایک دائمی اصول ہے، اور اسی اصول کا نام وزڈم ہے۔ پیغمبر اسلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے بعد راقم الحروف نے وزڈم کی یہ تعریف دریافت کی ہے: Wisdom is the ability to discover the relevant after sorting out the irrelevant. ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (Dr. Michael H Hart) نے اپنی کتاب دی ہنڈریڈ (100 The) میں بتایا ہے کہ پیغمبر اسلام تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔ اس عظیم کامیابی کا راز یہی تھا۔ آپ نے اپنے مشن میں ہمیشہ اس وزڈم کو اختیار کیا۔

Printed page