عملی تقاضا
Al-Risala, July 2017, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں شورائی سیاست کا نظام اختیار کیا گیا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی وفات کے بعد اسی اصول کی بنیاد پر خلافت کا نظام قائم ہوا۔ مگر تقریباً تیس سال کے بعد لوگوں کو محسوس ہوا کہ خلافت کا نظام عملاً ورک (work) نہیں کر رہا ہے۔ سیاست میں اصل چیز استحکام (stability) ہے۔ مگر خلافت کے نظام کے تحت استحکام کا یہ مقصد حاصل نہ ہوسکا۔ چناں چہ چوتھے خلیفہ علی ابن طالب کے بعد مسلم دنیا میں خاندانی حکومت (dynasty) کا طریقہ رائج ہو گیا، اور بعد کی تمام صدیوں میں عملاً مسلمانوں کے درمیان یہی نظام رائج رہا۔
خاندانی بادشاہت کا نظام جب شروع ہوا، اس وقت صحابہ اور تابعین بڑی تعداد میں موجود اس کے بعد محدثین، فقہاء، اور علماء متقدمین کا دور آیا۔ ان تمام لوگوں نے عملاً اس سیاسی تبدیلی کو قبول کر لیا۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اسلام میں سیاست کا اصل مقصود سماجی استحکام (social stability) ہے۔ یہ استحکام خلافت کے نظام کے تحت حاصل نہیں ہو رہا تھا۔ خاندانی حکومت کے تحت وہ حاصل ہو گیا۔ اس لیے پریکٹکل وزڈم کے اصول پر اس کو قبول کر لیا گیا۔ یہ بھی ری پلاننگ کا ایک کیس تھا۔ اسلام کے پہلے دور میں خلافت کا نظام قائم کیا گیا۔ لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ خلافت کا نظام ورک (work) نہیں کر رہا ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پچھلی تاریخ کے نتیجے میں لوگوں کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ حاکم کے بعد حاکم کی اولاد کو حقِ حکومت (right to rule) حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت تک یہ رواج ختم نہیں ہوا تھا۔ اس لیے پرکٹکل وزڈم کا تقاضا تھا کہ خاندانی حکومت کے نظام کو اختیار کر لیا جائے۔ تاکہ کم از کم سیاسی استحکام (political stability) کا مقصد حاصل ہو جائے۔ اس لیے عملی سبب (practical reason)، نہ کہ نظری سبب (theoretical reason) کے تحت خاندانی سیاست کا نظام اختیار کر لیا گیا۔
ری پلاننگ کی ایک مثال ہے۔ تاریخ کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اس معاملے میں دور اول میں لیا ہواری پلاننگ کا فیصلہ باعتبار حقیقت بالکل درست تھا۔
ری پلاننگ کے معاملے کا تعلق اصول (principle) سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق طریق کار(method) سے ہے۔ طریق کار کبھی مطلق (absolute) نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا تعین ہمیشہ عملی افادیت(pragmatism) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کی مشہور روایت ہے : ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين، أحدهما أيسر من الآخر، إلا اختار أيسر هما (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327)۔ یہاں ایسر کا لفظی مطلب ہے آسان۔ طریقہ سے مراد وہ طریقہ ہے جو با آسانی قابل عمل ہو۔ یعنی وہ طریقہ جو کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ کرے، جس پر غیر نزاعی (non-controversial) انداز میں عمل کرنا ممکن ہو۔
اس حدیث سے کامیاب منصوبہ بندی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ وہ منصوبہ پوری طرح قابل عمل ہو۔ وہ کوئی نزاع پیدا کرنے والا نہ ہو۔ وہ ایک نتیجہ خیز طریقہ کار ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کہنے میں تو وہ ایک خوبصورت بات معلوم ہو، لیکن جب اس کو عمل میں لایا جائے تو وہ صرف مسائل میں اضافہ کرنے کا سبب بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلے منصوبہ میں اس تجربے کا موقع ہوتا ہے کہ کیا چیز قابل عمل (workable) ہے، اور کیا چیز قابل عمل نہیں۔ اس لحاظ سے دوسرے منصوبہ کا فائدہ یہ ہے کہ بے نتیجہ عمل سے اپنے کو بچایا جائے، اور صرف نتیجہ خیز پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ تا کہ پہلا منصوبہ اگر بے نتیجہ ثابت ہوا تھا تو دوسرا منصوبہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔ مقصد اگر پہلے منصوبہ میں نہیں ملا تھا تو اس کو دوسرے منصوبہ کے تحت حاصل کر لیا جائے۔ اس کے مطابق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پہلے منصوبہ کے وقت غلطی قابل معافی ہوسکتی ہے۔ دوسرے منصوبہ کے وقت غلطی قابل معافی نہیں۔ اس اعتبار سے دوسرے منصوبہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو شروع کیا جائے۔ غلطی کا کھلا اعتراف کیے بغیر دوسری منصوبہ بندی سرے سے منصوبہ بندی ہی نہیں، بلکہ وہ نقصان میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔