تاتاری حملے کا واقعہ
Al-Risala, July 2017, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
تیرھویں صدی میں وسط ایشیا (Central Asia) میں خوارزم کی حکومت تھی۔ چنگیز خاں نے اپنا سفیر سلطان علاء الدین شاہ کے دربار میں بھیجا۔ سلطان نے کسی غلط فہمی کی بنا پر تاتاری سفیر کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد چنگیز خان کا غصہ بھڑک اٹھا۔ اس نے قبائل کی فوج کے ساتھ مسلم سلطنت پر حملہ کر دیا، اور اس کے پوتے ہلا کو خاں نے تکمیل تک پہنچایا۔ اور سمر قند سے لے کر حلب تک مسلم دنیا کو تاراج کر دیا۔
مورخ ابن اثیر نے اس واقعہ کو مسلم تاریخ کا سب سے بھیانک واقعہ قرار دیا ہے۔ کے بعد مسلم دنیا میں جوابی کارروائی کا ذہن ابھرا۔ سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ یہاں تک کہ 1260 میں عین جالوت کی لڑائی پیش آئی۔ اس لڑائی سے اس وقت کے مسلمانوں کو جزئی فائدہ ہوا، لیکن وہ تاتاریوں کو مسلم دنیا سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ مسلم دنیا میں یہ کہا جانے لگا: من حدثكم أن التتر انهزموا وأسروا فلا تصدقوه (الكامل فی التاریخ، 10/353) ۔ جو تم سے بیان کرے کہ تاتاری شکست کھا گئے اور قید کر لیے گئے تو اس کی تصدیق نہ کرو۔ اس زمانے میں کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا، جو شعوری اعتبار سے مسلمانوں کو ری پلاننگ کا تاہم حالات کا دباؤ (pressure) بھی ایک معلم ہوتا ہے۔ چنانچہ حالات کا معلم ظاہر ہوا، اور ایسے اسباب پیدا ہوئے، جن کے نتیجے میں اس زمانے کے مسلمانوں میں ایک نیا خاموش عمل (process) جاری ہو گیا۔ یہ عمل اگر چہ بظاہر حالات کا نتیجہ تھا، لیکن عملاً وہ وہی چیز بن گیا جس کو ہم نے ری پلاننگ کہا ہے۔ یعنی بے فائدہ جنگ کو چھوڑ کر پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کرنا۔ اس موضوع پر برٹش مصنف ٹی ڈبلیو آرنلڈ (1930-1864) نے گہری تحقیق کی ہے۔ طویل تحقیق کے بعد انھوں نے ایک کتاب لکھی، جو 388 صفحات پر مشتمل ہے اور پہلی بار 1896
پروفیسر آرنلڈ نے اپنی اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح حالات کے دباؤ کے تحت اس وقت کے مسلمانوں میں عملاً ایک نیا ذہن ابھرا۔ یہ مسلح جنگ کے بجائے پر امن دعوت کا ذہن تھا۔ پر امن دعوت کا کام بڑے پیمانے پر تاتاریوں کے درمیان ہونے لگا۔ جو آخر کار اس درجے تک پہنچا کہ منگولوں (تاتاریوں) کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فلپ کے ہٹی (Philip K Hitti) نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی جہاں ان کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے : The religion of the Moslems had conquered where their arms had failed. (1970, p. 488)
پروفیسر حتی کی بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے - مسلمانوں کی پہلی پلاننگ جہاں نا کام ہوگئی تھی، اس کی دوسری پلاننگ نے وہاں کامیابی حاصل کرلی ۔ پراسس اس واقعہ سے شروع ہوا جس کو پروفیسر آرنلڈ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : This prince, Tūqluq Timūr Khān (1347-1363), is said to have owed his conversion to a holy man from Bukhārā, by name Shaykh Jamal al-Din. This Shaykh, in company with a number of travellers, had unwittingly trespassed on the game-preserves of the prince, who ordered them to be bound hand and foot and brought before him. In reply to his angry question, how they had dared interfere with his hunting, the Shaykh pleaded that they were strangers and were quite unaware that they were trespassing on forbidden ground. Learning that they were Persians, the prince said that a dog was worth more than a Persian. "Yes," replied the Shaykh, "if we had not the true faith, we should indeed be worse than the dogs." Struck with his reply, the Khan ordered this bold Persian to be brought before him on his return from hunting, and taking him aside asked him to explain what he meant by these words and what was "faith." The Shaykh then set before him the doctrines of Islam with such fervour and zeal that the heart of the Khān that before had been hard as a stone was melted like wax, and so terrible a picture did the holy man draw of the state of unbelief, that the prince was convinced of the blindness of his own errors, but said, “Were I now to make profession of the faith of Islam, I should not be able to lead my subjects into the true path. But bear with me a little and when I have entered into the possession of the kingdom of my forefathers, come to me again.” Later he accepted Islam. (London, 1913, pp. 180-81)