Al-Risala · July 2017

بابری مسجد کا سبق

Al-Risala, July 2017, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

ایودھیا (انڈیا) میں 29-1528ء میں ایک مسجد کی تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد مغل بادشاہ بابر کے گورنر میر باقی نے تعمیر کرایا تھا۔ اس بنا پر اس کا نام بابری مسجد رکھا گیا تھا۔ اس مسجد کے بارے میں اول دن سے ہندوؤں کو یہ شکایت تھی کہ وہ رام چبوترہ کی زمین پر بنائی گئی ہے۔ اس بنا پر یہ مسجد اول دن سے متنازعہ مسجد تھی۔ اس مسجد کے معاملے میں ہندوؤں کے درمیان ناراضگی پائی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ آزادی ہند (1947) کے بعد بی جے پی کی ایک تحریک کے دوران اس کو ڈھادیا یہ واقعہ 6 دسمبر 1992 کو پیش آیا۔ اس کے بعد مسجد کی جگہ ایک عارضی مندر (makeshift temple) بنا دیا گیا۔

اس واقعہ کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں میں پر شور تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ رہنماؤں کا یہ متفقہ مطالبہ تھا کہ بابری مسجد کو دوبارہ اس کے سابقہ جگہ پر بنایا جائے ۔ نے محسوس کیا کہ یہ مطالبہ عملاً ایک ناممکن چیز کا مطالبہ ہے۔ اب مسلمانوں کو ایک ایسی چیز کا مطالبہ کرنا چاہیے جو نئے حالات میں قابل عمل مطالبہ ہو۔ چنانچہ میں نے یہ تجویز پیش کی کہ مسلمان بابری مسجد کے ری لوکیشن (relocate) پر راضی ہو جائیں ۔ ہندو سائیڈ نے اس تجویز کو فوراً مان لیا۔ انڈیا کی مسلم قیادت، باریش قیادت اور بے ریش قیادت، دونوں نے متفقہ طور پر اس کو نامنظور کر دیا، اور وہ اس مطالبے پر مصر رہے کہ بابری مسجد کو دوبارہ وہیں بنایا جائے ، جہاں وہ پہلے تھی۔ جدید حالات کے اعتبار سے قطعی طور پر ناقابل عمل تھا۔ چنانچہ تقریباً 25 سال گزر گئے، اور مسلم جانب سے مسلسل کوشش کے باوجود ابھی تک یہ معاملہ غیر حل شدہ حال میں پڑا ہوا ہے۔

اگر مسلم رہنماؤں کو ری پلاننگ کی اہمیت معلوم ہوتی تو وہ فوراً ری لوکیشن کی تجویز کو مان لیتے، اور اب تک وہاں کسی قریبی علاقے میں دوبارہ بابری مسجد کے نام پر ایک اسلامک سینٹر بن مسجد کو ری لوکیٹ کرنے کا طریقہ عالم عرب عام طور پر اختیار کیا جا چکا ہے۔ پھر انڈیا کے

مسلم رہنماؤں کے لیے یہ وں قابل قبول نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عرب دنیا میں کمپلشن (compulsion) کی بنا پر کوئی دوسرا آپشن (option) موجود نہ تھا، جب کہ انڈیا میں آزادی کی بنا پر کوئی جبر موجود نہ تھا، اور مسلم رہنماؤں کو شعوری طور پر یہ معلوم ہی نہ تھا کہ ری پلاننگ بھی اسلام کا ایک مسلمہ اصول ہے۔

اس معاملے میں خود پیغمبر اسلام کے زمانے کی ایک رہنما مثال موجود تھی۔ وہ یہ کہ پیغمبر اسلام کی نبوت سے پہلے قدیم مکہ میں شدید بارش ہوئی، اور اس بنا پر کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔ وقت قدیم مکہ کے مشرک سرداروں نے کعبہ کی عمارت از سر نو بنائی۔ مگر کسی وجہ سے انھوں نے ایسا کیا کہ کعبہ کے رقبہ کے ایک تہائی حصہ کو غیر مسقف حالت میں چھوڑ دیا، اور بقیہ حصہ میں کعبہ کی موجودہ یہ غیر مسقف رقبہ بدستور سابق حالت میں موجود ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو خود کعبہ کی موجودہ عمارت گویا کہ ری لوکیشن کی ایک مثال ہے۔ کعبہ کی قدیم عمارت جو حضرت ابراہیم نے بنائی تھی، وہ لمبی عمارت تھی۔ جب کہ کعبہ کی موجودہ عمارت ایک چوکور عمارت ہے۔ یہ گویا کعبہ کی عمارت کو ری لوکیٹ کرنے کی ایک مثال ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے اس ری لوکیشن کو عملاً تسلیم کرلیا۔ انھوں نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ کعبہ کو دوبارہ اس کی قدیم بنیاد پر تعمیر کیا جائے۔ ری لوکیشن کا مطلب یہ ہے کہ ایک بلڈنگ کو اس کی جگہ بدل کر نئی جگہ پر اسی ساخت کے مطابق بنا دیا جائے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں لوگوں نے جگہ جگہ مسجدیں بنالی تھیں۔ میں جب عربوں کے پاس تیل کی دولت آئی تو انھوں نے اپنے شہروں کو پلاننگ سٹی کے انداز میں ڈیولپ کرنا شروع کیا۔ اس تعمیری منصوبہ میں جگہ جگہ مسجدیں حائل ہو رہی تھیں۔ تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسجدوں کو ری لوکیٹ کرکے کی شہری منصوبہ کی تکمیل کی جائے۔ یہ منصوبہ علماء کے فتویٰ کے مطابق تھا۔ چنانچہ عرب ملکوں میں بڑی تعداد میں مسجدیں ری لوکیٹ کی گئیں، اور ہر جگہ کے علماء نے اس کو ایک درست عمل کے طور پر تسلیم کرلیا۔ عرب دنیا کی یہ نظیر کافی تھی کہ ہندوستان میں بھی اس کو اختیار کر لیا مگر ہندوستانی علماء کے عدم اتفاق کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا۔

Printed page