Al-Risala · July 2017

دعوت کی ری پلاننگ

Al-Risala, July 2017, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت الی اللہ اسلام کا اہم ترین مشن ہے۔ دعوت کے دو دور ہیں۔ آغاز سے ظہور سائنس تک، ظہور سائنس کے بعد اکیسویں صدی تک۔ جدید سائنس سے پہلے دعوتِ اسلام کا کام استدلال کے اعتبار سے معجزہ (miracle) کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ اس کو قرآن میں بینات (الحدید: 25) کہا دوسرے دور میں دعوت کا کام استدلال کے اعتبار سے سائنسی شہادت ( scientific evidence) کی بنیاد پر انجام پانا ہے۔ یہ سائنسی شہادت وہی چیز ہے جس کو قرآن میں آیات آفاق وانفس (فصلت: 53) کے الفاظ میں پیشگی طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔

ماڈرن سائنس کوئی اجنبی چیز نہیں۔ یہ دراصل فطرت (nature) کے اندر چھپے ہوئے حقائق کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ فطرت میں یہ مخفی دلائل اسی لیے رکھ دیے گیے تھے کہ وقت آنے پر ان کو دریافت کرکے دعوت کے حق میں استدلالی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اب آخری طور پر وہ زمانہ آگیا ہے، جب کہ اس استدلالی بنیاد کو دعوت حق کے لیے استعمال کرکے دعوت حق کا وہ اعلیٰ استدلالی کام انجام دیا جائے جس کو حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا

موجودہ زمانے میں سائنسی دلائل کی بنیاد پر دعوت کے اس کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ الحروف نے اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا، اور درجنوں چھوٹی بڑی کتابیں اس موضوع پر لکھی۔ میں سے ایک مذہب اور جدید چیلنج ہے جو پہلی بار 1966 میں چھپی تھی۔ اس کتاب کا ترجمہ اکثر بڑی بڑی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ مثلا عربی میں الاسلام یتحدی (1970)، اور انگریزی میں گاڈارائزز (1988)، وغیرہ۔ اس موضوع پر مسیحی علماء نے کافی کام کیا ہے۔ مثلا چالیس امریکی سائنسدانوں کے مقالات پر مشتمل ایک کتاب چھپی ہے:

Printed page