Al-Risala · July 2017

دور جدید

Al-Risala, July 2017, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

دور جدید کہے مسلمانوں کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت بڑے پیمانے پر اس ذہنیت کا شکار ہیں، جس کو انا کرونزم (anachronism) کہا جاتا ہے، یعنی خلاف زمانہ حرکت۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو ماضی سے کام کا جو ماڈل وراثتی طور پر ملا ہے، وہ ابھی تک اس سے باہر نہیں آئے۔ زمانے سے بے خبری کی بنا پر قدیم ماڈل کو جدید دور میں دہرا رہے ہیں۔ مگر یہ طریقہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں۔

مثلاً قدیم زمانے میں اصلاح کے لیے فتویٰ کی زبان رائج تھی۔ آج کے علماء بدستور اسی ماڈل کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسی بنا پر وہ تکفیر کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ جس کو غلط سمجھتے ہیں، اس کے خلاف کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں، اور اس کو قابل گردن زدنی ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اب کسی بھی درجے میں ان طریقوں سے کوئی اصلاح ہونے والی نہیں۔ یہ زمانہ عقلی استدلال (rational argument) کا زمانہ ہے۔ اب آج کے لوگوں کے لیے صرف عقلی استدلال مؤثر موجودہ زمانے میں فتویٰ کی زبان ورک (work) کرنے والی نہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانے کے مسلمان بڑے پیمانے پر اسلامی مقصد حاصل کرنے لیے جہاد کے نام پر تشدد کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ حالاں کہ اب وہ زمانہ ختم ہو چکا ہے جب کہ تشدد کا طریقہ مؤثر ہوا کرتا تھا۔ موجودہ زمانے میں کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے امن کا طریقہ پوری طرح کافی اسی طرح مسلمانوں کا ایک طبقہ اسلام کی اشاعت کے نام پر مناظرہ (debate) کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ حالاں کہ موجودہ زمانے میں مناظرہ کا طریقہ ایک متروک طریقہ بن چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کام کے لیے ڈسکشن اور ڈائیلاگ کی اہمیت ہے، نہ ک ڈیبیٹ کی۔ اسی طرح بہت سے مسلم رہنما امت کی ترقی کے لیے احتجاجی صحافت اور احتجاجی قیادت کے ماڈل پر کام کر رہے ہیں، مگر ان کو معلوم نہیں کہ صحافت اور قیادت کے لیے یہ ماڈل اب آخری حد تک

بے اثر ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں احتجاجی صحافت اور احتجاجی قیادت صرف وقت ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے وہ کوئی کام ہی نہیں، وغیرہ۔

موجودہ زمانے میں جو مسلم رہنما امت کے کاز (cause) کے لیے کام کرنے اٹھے، وہ صرف اپنے داخلی جذبہ کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے باقاعدہ مطالعے کے ذریعہ یہ جاننے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ موجودہ زمانہ کیا ہے، اور موجودہ زمانے میں کوئی کام مؤثر طور پر کیسے کیا جا سکتا ایسے لوگوں کو صرف ایک کتاب کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہ ہے: The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West (1965, pp 132)

مسلم رہنماؤں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ دورِ جدید کو دشمنِ اسلام دور سمجھتے ہیں۔ یہ سرتاسر بے بنیاد بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دورِ جدید پورے معنوں میں ایک موافق اسلام دور ہے۔ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ غیر مسلم قومیں اسلام کی مؤید (supporter) بن جائیں گی (مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔

یہ خود اللہ رب العالمین کے منصوبے کا معاملہ ہے۔ پیغمبرِ اسلام کے ظہور سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعہ ایک منصوبہ جاری کیا گیا تھا۔ جس کو مبنی بر صحرا منصوبہ (desert-based planning) کہا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعہ عرب میں ایک ٹیم یہ ٹیم موافقِ اسلام ٹیم تھی۔ اس ٹیم پر عمل کر کے پیغمبرِ اسلام نے اصحابِ رسول کو تیار کیا، جن کو قرآن میں خیر امت (آل عمران: 101) کہا گیا ہے۔ اسی طرح ساتویں صدی عیسوی میں رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد کے ذریعہ ایک نیا تاریخی عمل (historical process) جاری ہوا۔ اس عمل کے سیکولر نتیجے کے طور پر جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی۔ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک موافق اسلام تہذیب تھی۔ مگر مسلم رہنما اس راز کو نہ سمجھ سکے، اور غیر ضروری طور پر انھوں نے اس کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ حالاں کہ ضرورت تھی کہ اس تہذیب کی بنیاد پر اسلامی مشن کی نئی پلاننگ کی جائے۔

Printed page