Al-Risala · July 2017

صليبی جنگیں

Al-Risala, July 2017, pp. 32–33

By Maulana Wahiduddin Khan

صليبی جنگیں (Crusades) تاريخ کا ايک طويل جنگی سلسلہ تھا، جو 1095 ء ميں شروع ہوا، اور وقفہ وقفہ سے 1291 ء تک جاری رہا۔ اس زمانے ميں بيت المقدس کا علاقہ مسلم حکومت کے اس علاقے کو مسیحی لوگ مقدس علاقہ (holy land) کہتے ہيں۔ يہ علاقہ پہلے رومی سلطنت ميں تھا، اس کے بعد عمر بن خطاب کے زمانے ميں وہ مسلم سلطنت ميں شامل ہوا۔ صليبی جنگوں کے موقع پر تقريبا پورے مسیحی یورپ نے مل کر حملہ کيا، تا کہ وہ اس مقدس علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے ميں لے سکيں۔ مگر متحدہ کوشش کے باوجود اس محاذ پر ان کو کامل شکست ہوئی۔ اس واقعے کو مورخ گبن نے ذلت آميز شکست (humiliating defeat) قرار ديا ہے۔ مگر تاريخ کا يہ انوکھا واقعہ ہے کہ صليبی جنگوں ميں شکست کے بعد مغرب کی مسیحی قوموں نے ہار نہيں مانی، بلکہ ان کے اندر ايک مثبت اسپرٹ جاگ اٹھی۔ انھوں نے صليبی جنگوں ميں شکست کے بعد اپنے ميدان عمل کو بدل ديا، اور جنگ کے ميدان کے بجائے پر امن تحقيق کو اپنا ميدان بنا ايک مبصر نے اس کو اسپر پچول کروسیڈس (spiritual crusades) کا نام ديا ہے۔ اس پر امن کروسيڈس کا نتيجہ يہ نکلا کہ مغرب کے مسیحی اہل علم تاريخ ميں ايک نيا دور لانے ميں کامیاب ہوگئے ۔ يہ وہی دور ہے جس کو scientific age کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی ساری توجہ فطرت (nature) کی تحقيق پر لگا دی۔ اس کے نتيجے ميں فطرت کے اندر چھپی ہوئی ٹکنالوجی پہلی بار انسان کے علم ميں آئی۔ اسلام نے اعلان کيا تھا کہ نيچر پرستش کا موضوع نہيں ہے، بلکہ وہ تحقيق کا موضوع ہے (الجاثيۃ: 13-12)۔ اس طرح اسلام نے فطرت اور پرستش دونوں کو ايک دوسرے سے نظری طور پر ڈی لنک کر ديا تھا۔ اس سلسلے کا اگلا کام مغرب کی مسیحی قوموں نے کيا۔ انھوں نے فطرت की آزادانہ تحقيق شروع کی۔ یہاں تک کہ آخر کار سائنس کا دور پيدا ہوا، اور پھر وہ چيز ظہور ميں آئی جس کو جديد تہذيب کہا جاتا ہے۔

مسیحی یورپ کا یہ عمل ری پلاننگ کی ایک مثال ہے۔ مسیحی یورپ نے پہلے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ وہ جنگ کی طاقت سے ارض مقدس پر قبضہ حاصل کریں۔ دوسوسال کی جنگ کے بعد جب یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو ان کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ وہ جنگ کے میدان کے بجائے پرامن میدان میں اپنی کوشش صرف کریں۔ یہ ری پلاننگ کامیاب رہی، اور چند سو سال کی مدت میں صرف یہ نہیں ہوا کہ ایک نیا سیاسی دور وجود میں آ گیا ، بلکہ یہ ہوا کہ مسیحی یورپ نے نئے وسائل کے استعمال سے دوبارہ اس غلبہ کو زیادہ بڑے پیمانے پر حاصل کر لیا، جو سیاسی میدان میں ناکامی سے کھویا گیا تھا۔ اس علاقے کے مسلم رہنما اُس وقت اپنے معاملے کی ری پلاننگ نہ کر سکے، 1947 میں جب فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی ، اور اس میں فلسطین کا نصف حصہ عربوں کو دیا گیا۔ عرب رہنما کے لیے بھی یہ ایک ری پلاننگ کا وقت تھا۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے پچھلے سیاسی مائنڈ سیٹ کو توڑیں، اور نئے حالات کے لحاظ سے اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو یقیناً آج فلسطین میں ایک طاقت ور سلطنت قائم ہوتی ۔ فلسطین کا جو علاقہ عربوں کے قبضے میں دیا گیا تھا، وہ فلسطین کا سب سے زیادہ اہم علاقہ تھا۔ نیز شام اور عراق اور اردن اور مصر پہلے ہی سے ان کے قبضے میں تھے۔ یہ پورا علاقہ ایک تاریخی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ عالمی سیاحت کے لیے بہت زیادہ ٹورسٹ اٹریکشن (tourist attraction) رکھتا ہے۔ اگر اس علاقے میں امن قائم رہتا تو سیاحت کی انڈسٹری بہت زیادہ فروغ پاتی۔ اس سے عربوں کو نہ صرف اقتصادیات کے اعتبار سے غیر معمولی فائدے حاصل ہوتے ، بلکہ سیاحوں کی آمد و رفت سے اس علاقے میں دعوتی مشن کا کام بھی بہت بڑے پیمانے پر ہوسکتا تھا۔ مگر ری پلاننگ کی اہمیت کو نہ جاننے کی وجہ سے یہ عظیم موقع استعمال نہ حسن البناء اور ان کے ساتھیوں نے 1947 میں قاہرہ کی سڑکوں پر بہت بڑا جلوس نکالا تھا۔ اس میں ان کا نعرہ تھا، لبیک یا فلسطین ۔ اگر وہ دانش مندی سے کام لیتے تو وہ لبیک ایھا الناس کے نعرے کے ساتھ اس علاقے میں داخل ہوتے ، اور یہاں اسلام اور مسلمانوں کا نیا مستقبل تعمیر کر سکتے تھے۔ مگر یہ عظیم موقع استعمال ہونے سے رہ گیا۔

Printed page