Al-Risala · July 2017

ویٹی کن ماڈل

Al-Risala, July 2017, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول کے مطابق، اللہ رب العالمین اہل اسلام کے لیے دوسری قوموں کے ذریعہ تائید (support) فراہم کرےگا(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ رسول کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دوسری قوموں یا سیکولر لوگوں کے ذریعے ایسے ماڈل (model) سیٹ کرے گا، جو اہل اسلام کے لیے اپنے دینی مشن میں رہنما بن سکیں۔ غور کیا جائے تو تاریخ میں بار بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کو ویٹی کن ماڈل کہا جاسکتا ہے۔

قدیم یورپ میں مسیحی پوپ کو پورے یورپ کے لیے بے تاج بادشاہ (uncrowned king) کا درجہ حاصل تھا۔ سترھویں صدی میں حالات بدلے، اور دھیرے دھیرے پوپ نے اپنا اقتدار اب پوپ کے لیے دو کے درمیان انتخاب (option) کا معاملہ تھا۔ یا تو پولیٹکل رول کی حیثیت سے پوپ کا عہدہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، یا کسی نان پولیٹکل سطح پر پوپ کا ٹائٹل باقی رکھا غور و فکر کے بعد مسیحی ذمہ داران دوسری حیثیت پر راضی ہو گئے۔ یہ واقعہ مسولینی کے زمانے 1929 میں مسیحی پوپ اور اٹلی کی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس کو لیٹرن ٹریٹی (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کے مطابق، اٹلی کی دارالسلطنت روم میں پوپ کو ایک محدود علاقہ دے دیا گیا، جس کا رقبہ تقریباً ایک سودس ایکڑ تھا۔ یہ علاقہ پہلے سے مسیحی لوگوں کے پاس تھا۔ اب اس کو ایک با اقتدار اسٹیٹ کا درجہ دے دیا گیا۔ پوپ نے اس علاقے کو ڈیولپ کیا، اور اب وہ مسیحیت کے لیے روحانی کنگڈم (spiritual kingdom) کی حیثیت سے کامیابی کے ساتھ اپنا کام کر رہا ہے۔

لیٹرن معاہدے کے ذریعہ مسیحی قوم کو یہ موقع مل گیا کہ وہ پوپ ڈم (Popedom) کے خاتمے کے باوجود پوپ کا ٹائٹل بدستور باقی رکھیں ۔ وہ پوپ کے نام سے بدستور ساری دنیا میں اپنی

مذہبی تنظیم (religious organization) قائم کریں۔ وہ ایک مرکزی اتھارٹی کے تحت ساری دنیا میں منظم طور پر اپنے مذہب کا کام کرسکیں۔ یہ وہی حکمت تھی جس کو قرآن میں احدی الحسنیین (التوبہ: 52) کہا گیا ہے۔ یعنی دوبہتر میں سے ایک (one of the two bests) کا انتخاب کرنا۔ موجودہ زمانے میں مسلمان اپنی محرومی کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محرومی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ زمانی حقائق سے بے خبری کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو بار بار یہ موقع ملا کہ وہ ”ویٹیکن ماڈل“ کے مطابق اپنے لیے دوسرا بہتر (second best) حاصل کر لیں۔ لیکن مسلمانوں کے رہنما اپنی غیر دانشمندی کی بنا پر اس موقع کو اویل (avail) نہ کر سکے۔ صدی کے ربع اول میں جب یہ واضح ہو گیا کہ عثمانی خلافت کا سیاسی ادارہ باقی نہیں رہ سکتا۔ رہنماؤں کے لیے یہ موقع تھا کہ گفت و شنید کے ذریعہ وہ دوسرے بہتر (second best) پر راضی یعنی خلافت کے نام سے ترکی کے کسی علاقہ، مثلاً قسطنطنیہ کے ایک محدود رقبہ کو حاصل کر لیں، اور وہاں ویٹیکن جیسا ایک ادارہ بنا کر خلیفہ کے ٹائٹل کو بدستور باقی رکھیں۔ یہ مسلم رہنماؤں کے لیے اپنے مسئلے کی ری پلاننگ کا ایک موقع تھا۔ مگر اس وقت کے مسلم رہنما اس معاملے میں حقیقت شناسی کا ثبوت نہ دے سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت کا ٹائٹل ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اسی طرح 1952 میں جب مصر کے شاہ فاروق کی حکومت ختم ہوئی، اور مصر میں فوجی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت الاخوان المسلمون کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے حکومت میں وزارت تعلیم (Education Ministry) کی پیش کش کی، مگر الاخوان المسلمون کے رہنماؤں نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح پاکستان کے صدر محمد ایوب خان نے 1962 میں جماعت اسلامی پاکستان کو یہ پیش کش کی کہ پاکستان میں ایک بین اقوامی یونیورسٹی قائم کی جائے، اور اس کا مکمل چارج جماعت اسلامی پاکستان کو دے دیا جائے۔ مگر جماعت اسلامی پاکستان کے ذمہ داران نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب ری پلاننگ میں ناکامی کا معاملہ ہے، اور یہی ناکامی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی اصل ذمہ دار ہے۔

Printed page