Al-Risala · July 2017

نوآبادیاتی نظام

Al-Risala, July 2017, pp. 38–39

By Maulana Wahiduddin Khan

مغربی نوآبادیات (colonialism) کا زمانہ سولہویں صدی سے بیسویں صدی کے نصف اول تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ نوآبادیاتی نظام پہلے زمانے کی شہنشاہیت سے مختلف تھا۔ اصل یہ ہے کہ جدید صنعت کے ظہور کے بعد یورپ میں ماس پروڈکشن (mass production) کا زمانہ آیا۔ اب ضرورت ہوئی کہ اس فاضل پیداوار کے لیے بیرونی مارکیٹ حاصل کی جائے۔ اس طرح فاضل پیداوار کی کھپت کے لیے نوآبادیاتی نظام کا دور شروع ہوا۔ نوآبادیاتی نظام میں فوج کشی قدیم رواج کے زیر اثر آئی۔ ورنہ نوآبادیات کا فوج کشی سے براہ راست تعلق نہ تھا۔

نوآبادیاتی نظام کو فوج سے وابستہ کرنے کی بنا پر ایشیا اور افریقہ میں نوآبادیات کی زیر حکم ریاستوں میں اس کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں یہ ظاہر ہو گیا کہ نوآبادیات اور سیاسی اقتدار دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اب مغرب میں نئی سوچ پیدا ہوئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ نوآبادیات کو سیاسی اقتدار سے ڈی لنک (de-link) کر دیا چنانچہ فرانس نے ڈیگال کے زمانے میں افریقہ میں اپنی نوآبادیات کا یک طرفہ طور پر خاتمہ اسی طرح برطانیہ نے ایشیا میں اپنی نوآبادیاتی حکومتوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد مغربی قوموں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے ری پلاننگ کی۔ اس نئی پلاننگ کا طریقہ آؤٹ سورسنگ پر مبنی تھا۔ یعنی آؤٹ سائڈ ریسورسنگ (outside resourcing) کا قدیم نوآبادیاتی نظام میں جو مقصد فوج سے لیا گیا تھا۔ اب وہ مقصد ٹکنالوجی اور تنظیم (organization) سے لیا جانے لگا۔ یہ طریقہ بہت کامیاب رہا۔ قدیم زمانے میں فوج کے ذریعہ جو تجارتی مقاصد کیے جاتے تھے، اب اس کی جگہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ اس سے بہت زیادہ تجارتی فوائد حاصل کیے جا رہے ہیں۔ اب تمام صنعتی ممالک اسی اصول پر اپنی تجارتوں کو ساری دنیا میں پھیلائے ہوئے ہیں۔ انھوں نے آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ ساری دنیا میں اپنا

بزنس ایمپائر (business empire) قائم کر رکھا ہے۔

اس معاملے میں مسلم قومیں آخری حد تک ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ قدیم زمانے میں دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم تھیں۔ نیا دور آیا تو ان کی حکومتیں فطری طور پر ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد مسلمانوں میں رد عمل (reaction) پیدا ہوا۔ انھوں نے جہاد کے نام پر ساری دنیا میں لڑائی شروع کر دی۔ یہاں تک کہ وہ سوسائڈ بمبنگ کی انتہائی حد تک پہنچ گئے۔ لیکن تقریباً دو سو سال کی قربانیوں کے باوجود انھیں کچھ حاصل نہیں ہوا، وہ قدیم سیاسی نظام کو واپس لانے میں کامیاب اب آخری وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اس معاملے میں اپنے عمل کی ری پلاننگ کریں۔ یہ ری پلاننگ پوری طرح نان پولیٹیکل (non-political) ری پلاننگ ہوگی۔ زمانے میں اگر مسلمانوں نے اپنی حکومتیں قائم کی تھیں تو اب انھیں زیادہ بڑے پیمانے پر یہ موقع حاصل ہے کہ وہ پر امن دائرے میں اپنا ایک غیر سیاسی ایمپائر قائم کر سکیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، وہ قدیم زمانے کے مواقع کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ ہیں۔ مواقع کو استعمال کرنا انتہائی حد تک ممکن ہے۔ اس کی شرط صرف یہ ہے کہ مسلمان تشدد (violence) کے ہر طریقے کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔

قدیم زمانے میں جو اہمیت فوجی طاقت کو حاصل ہوتی تھی، وہ اہمیت اب تنظیم کو حاصل ہو چکی ہے۔ اب مسلمانوں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ عالمی تنظیم کے ذریعے اپنے کام کی ری پلاننگ وہ ایک امن پسند قوم کی طرح نئے مواقع کے حصول کی منصوبہ بندی کریں۔ اس نئی منصوبہ بندی میں ان کا ایک بڑا آئٹم قرآن کو عالمی سطح پر پھیلانا ہوگا۔ قرآن کے تراجم اگر دنیا کی تمام زبانوں میں تیار کیے جائیں، اور ان کو پرامن انداز میں ساری دنیا میں پھیلایا جائے تو یہ اپنے آپ میں اتنا بڑا کام ہوگا جو تمام بڑے کاموں کے مقابلے میں زیادہ بڑا کام بن جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج فتح مبین (الفتح: 1) کے واقعہ کو نئی طاقت کے ساتھ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ مسلمان ری پلاننگ کے آرٹ کو جانیں، اور اس کو دانش مندی کے ساتھ پرامن انداز میں رو بہ عمل لائیں۔

Printed page