Al-Risala · July 2017

برطانیہ کی مثال

Al-Risala, July 2017, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

برٹش ایمپائر (British Empire) کی ایک عظیم تاریخ ہے، اپنے عروج کے زمانے میں وہ اتنا بڑا تھا کہ یہ کہا جانے لگا کہ برطانی ایمپائر میں سورج کبھی نہیں ڈوبتا: It had been said that the sun never sets on the British flag. آخری زمانے میں قانون فطرت کے تحت برٹش ایمپائر میں کمزوری آئی۔ ایمپائر کے سیاسی ذمہ داران اس کے لیے تیار نہیں تھے کہ وہ برٹش ایمپائر کا خاتمہ کریں۔ پرائم منسٹر ونسٹن چرچل (1965-1874) نے کہا تھا کہ میں اس سیٹ پر اس لیے نہیں آیا ہوں کہ میں برطانی سلطنت کے خاتمے کی صدارت کروں:

I have not become the King's First Minister in order to preside over the liquidation of the British Empire. مگر دوسری عالمی جنگ (1945-1939) کے بعد برطانیہ کی فوجی طاقت کمزور ہو گئی۔ بظاہر یہ ممکن نہیں رہا کہ برطانیہ اپنے ایمپائر کو باقی رکھے۔ اس وقت برطانیہ میں ایک تحریک شروع اس تحریک کا نام فیبین سوسائٹی (Fabian Society) تھا۔ اس تحریک کا ایک مقصد ڈی کلونائز (decolonize) کرنا۔

فیبین سوسائٹی کے ایک ممبرلارڈ اٹلی (1967-1883, Clement Richard Attlee) ونسٹن چرچل کے بعد برطانیہ کے پرائم منسٹر بنے۔ لارڈ اٹلی نے بے لاگ طور پر صورت حال کا جائزہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انڈیا اور دیگر ممالک کو یک طرفہ طور پر آزاد کر دیا جائے۔ اسی کے مطابق انڈیا 1947 میں برطانیہ کے سیاسی اقتدار سے آزاد ہوا۔

برٹش ایمپائر برطانیہ کے لیے ایک قومی عظمت کا معاملہ تھا۔ برطانیہ کے لیے لوگ اپنی اس قومی عظمت پر فخر کرتے تھے۔ مگر جب حالات بدل گیے تو برطانیہ کے لوگوں نے یوٹرن (u-turn)

انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں ماضی کی عظمت سے باہر نکلنا ہے، اور حالات کے مطابق اپنے قومی تعمیر کی ری پلاننگ کرنا ہے۔ چنانچہ لارڈ ڈاٹلی کی لیڈرشپ میں انھوں نے ایسا ہی کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برطانیہ کے لوگ اپنی قومی ترقی کو نئی بنیاد پر قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی قسم کی سیاسی صورت حال موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آئی ہے۔ نے بعد کے زمانے میں دنیا کے بڑے رقبے میں اپنا سیاسی ایمپائر قائم کر لیا۔ پھر مسلم ملت میں زوال کا رفتہ رفتہ ان کا یہ حال ہوا کہ ان کی سیاسی عظمت (political glory) کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کا سبب تمام تر داخلی تھا، مگر مسلمانوں نے اس کو عملی طور پر قبول (accept) نہیں کیا۔ وہ اس کی ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈالتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں عمومی طور پر منفی سوچ (negative thinking) آگئی۔ وہ اپنی سابقہ پولیٹکل عظمت کو واپس لانے کی کوششیں مگر یہ ایک غیر حقیقی منصوبہ تھا، جو آخری حد تک ناکام رہا۔

مسلمانوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ ماضی میں جینا مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور حال کے اوپر دوبارہ اپنے قومی عمل کی ری پلاننگ کریں۔ قدیم زمانے میں مسلم ایمپائر جن حالات کے تحت قائم ہوئے تھے، وہ حالات اب ختم ہو چکے ہیں۔ اب نہ مسلمانوں کے لیے اور نہ کسی اور قوم کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ قدیم طرز کا پولیٹکل ایمپائر دنیا میں قائم کریں۔ اس معاملے میں مسلمان اگر حقیقت پسندانہ انداز میں سوچیں، تو وہ نئے حالات کے امکان کو دریافت کر لیں گے۔ اس کے بعد ان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ نئے عنوان سے حاصل کر لیں۔ کسی قوم کے لیے عروج و زوال کا واقعہ سبق کے لیے ہوتا ہے۔ برطانیہ نے اپنے زوال کے واقعہ کو سبق کے معنی میں لیا، اس بنا پر ان کو بہت جلد معلوم ہو گیا کہ یہ وقت ان کے لیے ری پلاننگ مسلمان عملاً اس راز سے بے خبر رہے، اس لیے زوال کے بعد اپنی قومی ترقی کی ری پلاننگ کے لیے وہ حقیقت پسندانہ منصوبہ بنانے میں ناکام رہے۔ یہی سبب ہے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی ناکامی کا۔

Printed page