Al-Risala · July 2017

جاپان کی مثال

Al-Risala, July 2017, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری عالمی جنگ (1939-1945) میں جاپان اس کا سرگرم ممبر تھا۔ اس نے بڑی بڑی امیدوں کے ساتھ جنگ میں شرکت کی۔ لیکن جب 1945 میں امریکا کی طرف سے جاپان پر دو ایٹم بم گرائے گیے، اور اس کے نتیجے میں جاپان کے دو بڑے شہروں ، ہیروشیما اور ناگاساکی میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ یہ جاپان کے لیے مکمل شکست کا واقعہ تھا۔ مگر 25 سال کے بعد جاپان دوبارہ ایک ترقی یافتہ ملک بن گیا۔ آج جاپان کا شمار اعلیٰ ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ یہ کامیابی جاپان کو کس طرح حاصل ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ری پلاننگ کے ذریعہ۔

جنگ کے بعد جاپان کے مدبروں نے پورے معاملے پر از سرِ نو غور کیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جنگ میں اپنی پوری طاقت لگانے کے باوجود، اور جان و مال کی قربانیاں دینے کے باوجودہ انھیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس کے بعد ان کے اندر نئی سوچ پیدا ہوئی، انھوں نے دریافت کیا کہ اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی صرف امن کی طاقت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ تشدد کا طریقہ بربادی تو لاسکتا ہے، لیکن وہ کوئی ترقی لانے والا نہیں۔

اس کے بعد اس وقت کے جاپانی حکمراں ہیرو ہیتو (Hirohito) نے ریڈیو پر اپنی قوم کو انھوں نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جاپان کی دوبارہ ترقی کے لیے ہمیں نا قابل برداشت کو برداشت کرنا ہے، تا کہ ہم جاپان کو ایک ترقی یافتہ نیشن بنا سکیں :

Printed page