Al-Risala · July 2017

The time has come to bear the unbearable

Al-Risala, July 2017, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

دو ایٹم بموں کی تباہی کی بنا پر جاپانی قوم اس وقت انتقام میں مبتلا تھی۔ لیکن جاپان کے کچھ انھوں نے یہ کہہ کر جاپانی قوم کو ٹھنڈا کیا کہ امریکا نے اگر 1945 میں ہمارے دو شہر، ہیروشیما اور ناگاساکی کو تباہ کیا ہے تو اس سے پہلے 1941 میں ہم خود کش بمباری کے ذریعہ امریکا کے بحری مرکز پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے۔ اس حادثے کو بھلاؤ، اور جاپان کی نئی تعمیر کرو۔

اس کے بعد جاپان نے اپنی قومی تعمیر کی ری پلاننگ کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ انھوں نے فوجی میدان کو چھوڑ دیا، اور پچیس سال تک صرف سائنسی تعلیم اور صنعت پر زور دیا جاتا رہا۔ پلاننگ کی تفصیلات کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس نئی پلاننگ کا نتیجہ تھا کہ جاپان شکست کے کھنڈر سے نکل کر دوبارہ ایک فاتح ملک بن گیا۔

جاپان کے لیڈروں نے جس طرح اپنے ملک کی ری پلاننگ کی۔ اس میں مسلم رہنماؤں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ مسلم علاقوں میں بھی کسی نہ کسی طور پر اسی قسم کے ناموافق حالات موجود ہیں۔ مسلم ممالک کے لیے بھی یہی امکان ہے کہ وہ ری پلاننگ کے اصول کو اختیار کرکے دوبارہ اعلی ترقی

مثال کے طور پر فلسطین کے معاملے میں جب بالفور کا فیصلہ (Balfour Declaration) سامنے آیا تو اس وقت مسلم رہنماؤں کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ بالفور ڈیکلریشن کے تحت فلسطین کے آدھے حصے کو یہود کو دے دیا گیا ہے، تو ہم کو چاہیے کہ ہم اس کو قبول کریں۔ کیوں کہ اس سے پہلے ہم صدیوں تک پورے فلسطین پر اپنی حکومت قائم کیے ہوئے تھے۔ اب اگر یہود کو موقع مل رہا ہے تو یہ قانون فطرت (آل عمران: (140) کے تحت ہو رہا ہے، اس میں ناانصافی کی کوئی بات نہیں۔ رہنماؤں نے اگر اس قسم کا فیصلہ کیا ہوتا تو یقیناً آج فلسطین کی تاریخ مختلف ہوتی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے اسلام کی قدیم تاریخ میں بھی نمونے موجود ہیں، اور سیکولر قوموں کی تاریخ میں بھی۔ انسانی تاریخ ہر قسم کے نمونے سے بھری ہوئی ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ بے آمیز ذہن کے ساتھ کیا جائے۔ غیر متاثر ذہن کے ساتھ پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کچھ دروازے اگر بند ہوئے ہیں تو دوسرے دروازے پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ اگر حالات کو سمجھ کر ری پلاننگ کی جائے تو یقیناً مستقبل کی نئی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ماضی کی ناکامیوں کو بھلایا جائے، اور مستقبل کے امکانات کو لے کر اپنے عمل کا منصوبہ بنایا جائے۔

Printed page