Al-Risala · August 2017

گاڈ پارٹیکل

Al-Risala, August 2017, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

گاڈ پارٹیکل (God Particle) کیا ہے۔ گاڈ پارٹیکل کا مطلب خدائی ذرہ نہیں، گاڈ پارٹیکل دراصل ایک سائنسی مسئلے کی سائنسی تشریح (scientific description) ہے۔ گاڈ پارٹیکل کا تصور دراصل خدا کا مشینی بدل (mechanical substitute of God) ہے۔ گاڈ پارٹیکل کی دریافت کا براہ راست طور پر مذہبی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔

4 جولائی 2012 کو سائنس دانوں نے ایک دریافت کا اعلان کیا۔ اس کو نیئر ڈسکوری (near discovery) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک سب ایٹمک پارٹیکل (subatomic particle) کی دریافت ہے جس کے بارے میں پچھلے تقریباً 50 سال سے ریسرچ ہورہی تھی۔ اسی درمیان 1993 میں ایک امریکی سائنس داں لیان لیڈر مین (Leon Lederman) نے ایک کتاب تیار کی۔ ٹائٹل اس نے گاڈ ڈیم پارٹیکل (Goddamn Particle) تجویز کیا۔ اُس وقت تک یہ پارٹیکل ایک پر اسرار پارٹیکل بنا ہوا تھا۔ لیان لیڈر مین اپنی کتاب میں اس پارٹیکل کا کوئی واضح تصور نہیں دے سکا اس نے جھنجھلاہٹ میں اپنی اس کتاب کا نام گاڈ ڈیمن پارٹیکل رکھ دیا۔ گاڈ ڈیمن ایک بگڑا ہوا نام ہے ۔ اردو میں کہتے ہیں خدا کی لعنت۔ خراب موسم ہو تو کہا جائے گا، گاڈ ڈیمن ویدر پبلشر کو کتاب کا یہ نام پسند نہیں آیا۔ اس نے بطور خود ڈیمن کا لفظ نکال دیا اور کتاب کو 'گوڈ پارٹیکل کے نام سے چھاپ دیا۔ اُس وقت سے عوامی طور پر اس ذرے کو گاڈ پارٹیکل کہا جانے لگا۔ تاہم سائنس دانوں کے نزدیک اس ذرے کا نام ہگس بوزان (Higgs

بوزان کا لفظ در اصل بؤس کے نام سے لیا گیا ہے۔ ستیندرناتھ بوس (SN Bose) ایک انڈین سائنس داں تھے۔ ان کی وفات 1974 میں ہوئی۔ انھوں نے 1924 میں 'سب ایٹمک پارٹیکل (behaviour of subatomic particles) کے بارے میں ایک پیپر تیار کیا تھا۔ پیپر کو البرٹ آئن سٹائن (وفات: 1955) اور دوسرے سائنس دانوں نے بہت پسند کیا تھا۔ وقت سے اس پارٹیکل کا نام بوزان (boson) پڑ گیا ہے۔ اس مخصوص پارٹیکل کو 'بوزان کا نام سب سے پہلے برٹش سائنس داں پال ڈیراک (Paul Dirac) نے دیا تھا۔ اسکاٹ لینڈ کے ایک سائنس داں پیٹر ہگس (Peter Higgs) نے 1964 میں اس موضوع پر زیادہ واضح انداز میں ایک مفصل

پیپر تیار کیا، جس کا ٹائٹل یہ تھا:

Printed page