Al-Risala · August 2017

European Oganization for Nuclear Research

Al-Risala, August 2017, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سرنگ کا نام یہ ہے۔ لارج ہیڈرون کولائڈر(Large Hadron Collider)۔ اس پروجیکٹ میں دنیا کے ایک سو ملک شریک ہوئے اور 10 ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں نے اس میں کام کیا۔ 4 جولائی 2012 کو اس پروجیکٹ کے نتیجہ (result) کا اعلان کیا گیا۔ سائنس دانوں نے اعلان کیا کہ اس تحقیق میں وہ 'نیئر ڈسکوری' تک پہنچ گئے ہیں۔ ہگز بوزان، دراصل فزکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کا ایک گم شدہ پارٹیکل ہے جو اس بات کی توجیہہ کرتا ہے کہ ابتدائی انفجار کے بعد کائنات کیسے وجود میں آئی۔ فزکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کو سائنس داں کائنات کے بلڈنگ بلاک (building block) کی توجیہہ کرنے کے لیے استعمال کرتے اس ماڈل کے مطابق، کائنات کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔ بگ بینگ کا نظریہ سائنس دانوں کے نزدیک عمومی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے ۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ 13 بلین سال پہلے کائنات ایک بہت بڑے کاسمک بال کی صورت میں تھی۔ کائنات کے تمام پارٹیکل اس کے اندر شدت سے باہم پھر اس کاسمک بال میں ایک انفجار ہوا اور اس کے تمام اجزا چاروں طرف روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے۔ روشنی کی رفتار معلوم طور پر سب سے زیادہ ہے جو ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ کاسمک بال سے جو پارٹیکل خارج ہوئے، وہ نہایت تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے تھے۔ ہر چیز جو اس کائنات میں ہے، وہ ایٹم سے بنی ہے۔ یہ تمام ایٹم الیکٹران

اور پروٹان کے ملنے سے بنتے ہیں۔ ضرورت تھی کہ یہ تمام پارٹکل باہم ملیں، لیکن بگ بینگ کے انفجار کے بعد الیکٹران اور پروٹان بھاگ رہے تھے، کیوں کہ اُن میں کمیت (mass) نہیں تھی۔ باہم مل کر ایٹم کو صرف اُس وقت بنا سکتے تھے جب کہ ان کی رفتار کم ہو، اور ان کی رفتار صرف اُس وقت کم ہو سکتی تھی جب کہ ان کے اندر کمیت پیدا ہو جائے۔

ہگس بوزان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ اس سائنسی مسئلے کا جواب فراہم کرتاہے۔ ایک سب ایٹمک پارٹکل کا نام ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق، ہگس بوزان کا کام یہ ہے کہ وہ ایٹم کے پارٹکل کو کمیت عطا کرے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایٹم مل کر مالی کیول(molecule) بنائیں اور پھر مالی کیول کے بننے سے کمپاؤنڈ بنے۔ پھر کمپاؤنڈ کے ملنے سے وہ تمام چیزیں بنتی ہیں جو کہ اس وقت کا ئنات میں موجود ہیں۔ اگر ہگز بوزان نہ ہوتے تو پارٹکل میں کمیت پیدا نہ ہوتی جو کہ باہم مل کر ایٹم بناتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام پارٹکل روشنی کی رفتار سے خلا میں سفر کرنے لگتے، پھر یہ ناممکن ہو جاتا کہ وہ باہم مل کر ایٹم بنائیں اور اس کے بعد کا ئنات کی تمام چیزیں وجود میں آئیں، ستاروں سے لے کر سیاروں تک اور غیر ذی روح اشیا سے لے کر ذی روح اشیا تک۔

Printed page