قرآن کی تصدیق
Al-Risala, August 2017, pp. 20–22
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت ہے : اَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (4:82)۔ یعنی کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ، اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اُس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ یہ سائنس کی دریافتوں سے بہت پہلے کا زمانہ تھا۔ اس قبل در یافت زمانے میں قرآن کی اس آیت کا اترنا گویا یہ دعویٰ کرنا تھا کہ بعد کی دریافت شدہ حقیقتیں قرآن کے عین مطابق ہوں گی، قرآنی بیانات اور دریافتوں کے درمیان کبھی عدم مطابقت (inconsistency) نہ ہوگی۔ اس طرح یہ واقعہ اس بات کی تصدیق ہوگا کہ قرآن عالم الغیب کی کتاب ہے، کیوں کہ عالم الغیب کے سوا کوئی بھی پیشگی طور پر ان حقیقتوں کو
نہیں بتا سکتا تھا۔
اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا تصور اور ہگس بوزان کا تصور پیشگی طور پر قرآن میں موجود تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ الانبیاء کی درج ذیل آیت کا مطالعہ کیجئے : أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (21:30)۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے اُن کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جان دار چیز کو بنایا۔ پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔
قرآن کی اس آیت میں تخلیق کے تین مرحلوں کا ذکر ہے۔ پہلے مرحلے کو ’رتق‘ کہا گیا رتق کا مطلب ہے منضم الاجزاء یعنی کائنات کے تمام پارٹکل کا باہم جڑا ہوا ہونا۔ کا سمک بال کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ دوسرے مرحلے کو قرآن میں ’فتق‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مطلب ہے : الفصل بين المتصلين، یعنی باہم ملی ہوئی چیزوں کا ایک دوسرے سے الگ ہو جانا۔ اس میں بگ بینگ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد تیسرے مرحلے میں پانی (الماء) کے بننے کا ذکر ہے۔ یہاں پانی کا ذکر علامتی طور پر ہے، یعنی پانی اور دوسری تمام چیزیں ۔ پانی ایک جوہری مادہ (substance) ہے۔ اس طرح کے بہت سے جوہری مادے کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ پانی ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے ملنے سے بنتا یہی معاملہ دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔ ہر چیز ایٹم کے ملنے سے بنی ہے، اور ایٹم اُس وقت بنا جب کہ اس کے پارٹکل میں کمیت (mass) پیدا ہوئی ۔ اس طرح، اس آیت میں پانی کا ذکر کر کے اس نوعیت کی دوسری تمام مادی چیزوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے، یعنی ’فتق‘ کے واقعے کے بعد تمام پارٹکل میں کمیت کا پیدا ہونا اور پھر پارٹکل کا مجتمع ہو کر تمام چیزوں کا وجود میں آنا۔ قرآن ، سائنس کی کتاب نہیں ہے، البتہ قرآن میں مظاہر فطرت کے بہت سے حوالے دئے گئے ہیں جو کہ سائنس کا موضوع تحقیق ہیں۔ قرآن کا مقصد صرف یہ ہے کہ فطرت میں موجود آیات
(signs) کا حوالہ دے کر قرآن کی آئیڈیالوجی کو علمی طور پر ثابت کرنا۔ اس طرح قرآن میں فطرت کے بہت سے مظاہر کے متفرق حوالے (fragmentary references) دئے گئے ہیں۔ حوالوں کے بارے میں قدیم زمانے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ گویا کہ قرآن میں یہ حوالے مستقبل کی انسانی نسلوں کو شامل کرتے ہوئے دئے گئے تھے۔ اس طرح انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ قرآن کے ان حوالوں کا تقابل بعد کے حالات سے کر کے قرآن کی صداقت کی تصدیق حاصل کرے ۔ چودھویں صدی ہجری اسلام کی پوری تاریخ میں پہلی صدی تھی جب کہ یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ اسلام کی دعوت توحید کی یُسْر (آسانی) کے حالات میں انجام دیا جائے جب کہ اس سے پہلے صرف عُسْر (سختی) کے حالات ہی میں اس کو انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی پہلی بار ہوا کہ خود انسان کے اپنے مسلّمات کے مطابق اسلام کا دیگر ادیان کے مقابلہ میں واحد معتبر دین ہونا ثابت کیا جائے اور اس کو اعلیٰ ترین علمی شواہد سے اس طرح مدلّل کر دیا جائے کہ کسی کے لئے انکار کا عذر باقی نہ رہے۔ نیز اس صدی میں پہلی بار تیز رفتار سواریاں اور تبلیغ کے جدید ذرائع انسان کے قبضہ میں آئے جن سے کام لے کر اسلام کے پیغام کو بین الاقوامی سطح پر پھیلا یا جا سکتا تھا۔ مگر جو قومیں ان خدائی برکتوں کو ہماری طرف لارہی تھیں وہ اتفاقی حالات کے نتیجہ میں ہماری سیاسی حریف بن گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا مغرب کے بارے میں مخالفانہ نفسیات کا شکار ہوگئی، مغرب کی طرف سے آنے والے انقلاب کا افادی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ حالاں کہ خدا نے مسلمانوں کے لئے ایسا دروازہ کھولا تھا کہ خود مغرب کے پیدا کردہ حالات دعوتی مقاصد میں استعمال کر کے مغرب کو نظریاتی طور پر فتح کر سکتے تھے ۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اس دانشمندی کا ثبوت دیا ہوتا تو چودھویں صدی ہجری میں وہ واقعہ دوبارہ نئے انداز سے پیش آتا جو آٹھویں صدی ہجری میں تا تاری فاتحین کے خادمانِ اسلام بن جانے کی صورت میں پیش آ چکا ہے۔