گرهن، خدائی معجزہ
Al-Risala, August 2017, pp. 26–30
By Maulana Wahiduddin Khan
گرهن (eclipse) ایک فلکیاتی ظاہرہ ہے۔ ایکلپس (eclipse) کا لفظ قدیم یونانی زبان کے لفظ (ékleipsis) سے ماخوذ ہے۔ خلا میں گرہن کے مختلف واقعات ہوتے رہتے ہیں، لیکن معروف طور پر دو قسم کے گرہن کو گرہن کہا جاتا ہے۔ ایک سورج گرہن (Solar eclipse) اور دوسرا چاند گرہن (Lunar eclipse)۔ عام طور پر سورج گرہن سال میں دو بار یا تین بار ہوتا ہے اور چاند گرہن سال میں دو بار واقع ہوتا ہے۔ چاند گرہن چند گھنٹوں تک رہتا ہے، جب کہ کامل سورج گرہن کچھ منٹ تک رہتا ہے :
گرہن کا یہ واقعہ محکم فلکیاتی قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ یہاں تک کہ بہت پہلے ان کی قطعی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر 2010 میں 15 جنوری کو سورج گرہن ہوا۔ (astronomer) کی پیشگی خبر کے مطابق، پہلے سے لوگوں کو اس گرہن کا علم تھا۔ گرہن کیا ہے۔ گرہن در اصل سایہ پڑ جانے کا دوسرا نام ہے۔ گردش کے دوران جب چاند، زمین اور سورج کے درمیان آ جائے تو سورج اس آڑ کی بنا پر جزئی یا کلی طور پر دکھائی نہیں دے گا۔ اسی کا نام سورج گرہن ہے۔ اور جب زمین، چاند اور سورج کے درمیان آ جائے تو چاند پر جزئی یا کلی طور پر زمین کا سایہ پڑ جائے گا۔ اسی کا نام چاند گرہن ہے :
قدیم زمانے میں گرہن کے بارے میں عجیب قسم کے توہماتی عقائد قائم تھے ۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آسمان میں ایک بہت بڑا اژدہا ہے ، وہ کبھی غصہ ہو کر چاند کو نگل لیتا ہے ، اس وقت چاند گرہن پڑتا ہے ۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین پر جب کسی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سورج پر اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ نام سورج گرہن ہے ، وغیرہ ۔
اس قسم کے توہماتی تصورات ہزاروں سال تک قوموں میں رائج تھے ، یہاں تک کہ دوربین (telescope) ایجاد ہوئی۔ گلیلیو نے پہلی بار 1609 عیسوی میں دوربین کے ذریعہ سیاراتی نظام (planetary system) کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دوربین کو ترقی ہوئی اور مزید مشاہدات کیے یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق مذکورہ قسم کے توہماتی تصورات سے نہیں ہے ، یہ تمام ترایک فلکیاتی مظہر ہے۔ وہ صرف اس لئے واقع ہوتا ہے کہ گردش کے دوران دو خلائی اجسام (celestial bodies) کے درمیان تیسرا جسم آجاتا ہے۔ اس کی بنا پر وہاں ایک آڑ قائم ہو جاتی ہے۔ اسی آڑ کی بنا پر پیش آنے والے واقعہ کا نام گرہن ہے۔ قدیم زمانے میں گرہن صرف ایک توہماتی (superstitious) واقعہ بنا ہوا تھا۔ صدی عیسوی میں سائنسی مشاہدہ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ سادہ نوعیت کا ایک خلائی واقعہ ہے۔ واقعہ میں کوئی پر اسراریت شامل نہیں۔ گرہن کے موضوع پر موجودہ زمانے میں کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں:
Eclipses of the Sun and Moon (1937) by Sir F.W. Dyson Eclipse Phenomena in Astronomy (1969) by F. Link Eclipses in the Second Millennium BC (1954) by G. Van انسانی تاریخ میں گرہن کے تعلق سے تین دور ہیں۔ گرہن کی تاریخ کا پہلا دور وہ ہے جب کہ اس معاملے میں توہماتی عقائد کا رواج تھا۔ گرہن کا دوسرا دور اسلام کے ذریعہ انسان کے علم
گرہن کی تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جو موجودہ زمانے میں دوربین کی ایجاد (1608ء) کے بعد شروع ہوا۔
اسلام نے گرہن کے تعلق سے جو بات بتائی، اس کے مطابق، گرہن کا تعلق نہ توہمات سے ہے اور نہ وہ صرف ایک مادی نوعیت کا فلکیاتی واقعہ ہے، بلکہ وہ خالق کائنات کے باشعور تخلیقی نظام کا ایک حصہ ہے۔ وہ خدا کی قدرت کاملہ کا ایک مظہر ہے، وہ انسان کے لیے خداوند عالم کا ایک تعارف ہے، گرہن خاموش زبان میں خدا کی حکیمانہ تخلیق کا اعلان کر رہا ہے۔
ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم مدینہ میں پیدا ڈیڑھ سال کی عمر میں شوال 10 ہجری (632ء) میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اتفاق سے اسی دن سورج گرہن پڑا ۔ قدیم توہماتی رواج کے مطابق، مدینہ کے کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی۔ نے لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا: إن الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات الله، فاذا رأيتموها فصلوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر یعنی سورج اور چاند میں کسی انسان کی موت سے گرہن نہیں لگتا، نہ ہی کسی کی زندگی سے۔ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہے ۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو۔ ”چاند گرہن اور سورج گرہن خدا کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں“ یہ کوئی سادہ بات یہ دراصل اس معاملے کے اصل معنوی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند گرہن اور سورج گرہن جس طرح ہوتا ہے، اس پر غور کیا جائے تو وہ آدمی کے لئے خدا کی دریافت کا ذریعہ بن وہ سادہ طور پر فلکیاتی نشانی کے بجائے، زیادہ گہرے معنوں میں خدائی نشانی ثابت ہوگا۔ چاند گرہن یا سورج گرہن ایک انوکھا تخلیقی معجزہ ہے، اس کے پیچھے خالق کائنات کی معجزانہ صناعی نظر آتی ہے ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، گرہن اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ تین خلائی اجسام، زمین، چاند، سورج، گردش کرتے ہوئے ایک سیدھ میں آ جائیں۔ تینوں کے سائز میں بہت زیادہ
چاند کو اگر سرسوں کے دانے کے برابر سمجھا جائے تو اس کے مقابلے میں زمین فٹ بال کے برابر ہوگی اور سورج ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔
یہ تین مختلف سائز کے اجسام حرکت کرتے ہوئے ایسے تناسب سے ایک سیدھ میں آجاتے ہیں کہ زمین سے دیکھنے والا ان کو یکساں سائز میں دیکھنے لگے۔ جب تینوں کے درمیان چاند ہو تو سورج گرہن واقع ہوگا۔ اور جب ان کے درمیان زمین ہو تو چاند گرہن واقع ہوگا۔ یہ وسیع خلا میں ایک انتہائی انوکھی پوزیشننگ کا معاملہ ہے:
It is a uniquely well-calculated positioning of three moving bodies, highly unequal in size, in the vast space. گرہن (eclipse) اُس وقت واقع ہوتا ہے جب کہ وسیع خلا کے تین اجرام، زمین، چاند، سورج، انتہائی متناسب دوری کے ساتھ بالکل ایک سیدھ میں آجائیں۔ یہ ایک انتہائی حیرت ناک ظاہر ہ ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انسائیکلو پیڈیا بر بیٹا کا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے—ایک انتہائی غیر معمولی توافق کی بنا پر سورج اور چاند کا سائز اور دوری ایسے ہوجاتے ہیں کہ زمین سے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے گویا کہ دونوں بالکل برابر ہوں:
By a remarkable coincidence, the sizes and distances of the Sun and Moon are such that they appear as very nearly the same angular size as the earth. (EPB 6/189)
گرہن کے اس عجیب واقعے کو مقالہ نگار نے محض اتفاق (coincidence) قرار دیا مگر یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ اس قسم کا نادر اتفاق اولاً تو ممکن نہیں اور بالفرض اگر ایسا ہو جائے تو وہ بمشکل ایک بار ہو سکتا ہے، لیکن فلکیاتی تاریخ بتاتی ہے کہ گرہن کا یہ واقعہ لاکھوں برس سے اسی طرح پابندی (regularity) کے ساتھ ہر سال پیش آرہا ہے۔ اس قسم کی کامل باضابطگی ہرگز اتفاقاً نہیں ہو سکتی۔ یقینی طور پر وہ ایک قادر مطلق ہستی کی مسلسل کارفرمائی کے باعث ہی ممکن ہے۔ کا لفظ اس حیرت ناک فلکیاتی ظاہرے کی توجیہہ کے لیے آخری حد تک ناکافی ہے۔
گرہن ، خلا میں پیش آنے والے اُن بے شمار معجزاتی واقعات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (36:38)۔ یعنی یہ عزیز اور علیم خدا کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے:
That is the disposition of the Almighty, the All Knowing. وسیع خلا میں بے شمار اجزا ہیں۔ یہ تمام اجزا مکمل طور پر خداوند عالم کے کنٹرول میں ہیں۔ سیاروں اور ستاروں کی گردش انتہائی حد تک خدا کے مقرر ضابطہ کی پابندی میں ہوتی ہے۔ شمسی نظام اسی کا ایک نمونہ ہے جس کے اندر ہماری زمین واقع ہے۔ یہ نظام اپنی خاموش زبان میں اعلان کر رہا ہے کہ اس کائنات کا ایک قادر مطلق خدا ہے جو وسیع خلا میں اُن پر کامل کنٹرول کیے ہوئے ہے۔ انھیں معجزاتی واقعات میں سے ایک گرہن کا واقعہ ہے۔ سورج گرہن اور چاند گرہن ہمارے قریبی مشاہدے کی چیزیں ہیں۔ لوگ اُس کو عجوبہ کے طور پر یا زیادہ سے زیادہ ایک فلکیاتی کورس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے الفاظ میں ، وہ خدا کی ایک عظیم نشانی اسی لیے اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب گرہن واقع ہو تو لوگ خدا کی عبادت کریں۔ عبادت کو صلاۃ کُسوف اور صلاۃ خسوف کہا جاتا ہے۔ گرہن کے وقت خدا کی عبادت کرنا اس بات کا اعتراف ہے کہ گرہن ایک خدائی ظاہر ہے، نہ کہ محض ایک فلکیاتی ظاہر ہ۔
سائنس، سادہ طور پر، عالم حقائق کے مطالعہ کا نام ہے۔ قرآن میں یہی صفت اہل ایمان کی بتائی گئی ہے۔ کہ وہ زمین و آسمان کی بناوٹ پر غور کرتے ہیں (آل عمران: 191)۔ اس اعتبار سے ایک سائنس داں وہی کام کرتا ہے جو ایک مومن کرتا ہے۔ تاہم دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ سائنس داں کا عمل صرف تحقیق کے لئے ہوتا ہے اور مومن کا عمل عبرت کے لئے۔ سائنس داں کے پیش نظر علم برائے علم ہوتا ہے اور مومن کے پیش نظر علم برائے مقصد۔ سائنس داں اضافے علم پر مطمئن ہوتا ہے اور مومن اضافۂ ایمان پر۔ (اسلام پندرھویں صدی میں)