Al-Risala · August 2017

الحاد کا دور

Al-Risala, August 2017, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

شرک کا مطلب ہے ۔ کسی غیر خدا کو خدا کا شریک (partner) قرار دے کر اس کی تعظیم یا عبادت کرنا۔ موجودہ زمانے میں جب شرک کا دور ختم ہوا تو اس کے بعد یہ ہونا چاہیے تھا کہ دنیا میں توحید کا دور آجائے، لیکن اُس وقت اہلِ مغرب دنیا کے فکری قائد بنے ہوئے تھے اور جیسا کہ معلوم ہے، قرون وسطی (middle ages) کے زمانے میں مغرب کے اہل علم اور چرچ کے درمیان شدید ٹکراؤ ہوا۔ اِس ٹکراؤ کی تفصیل جان ولیم ڈریپر (J. W. Draper) کی درج ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:

History of the Conflict Between Religion and Science (1874)

قرون وسطیٰ کے بعد یورپ میں انیسویں صدی میں جدید الحادی فکر کا دور آیا۔ یہ دور کسی علمی تحقیق کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ تمام تر ردِ عمل (reaction) کے نتیجے میں پیش آیا۔ اس زمانے میں علمی تحقیق کا معیار یہ قرار پایا کہ وہ تمام تر سیکولر انداز میں ہو، یعنی خدا کو حذف کر کے واقعات کی توجیہہ کرنا۔ طرزِ فکر کے نتیجے میں وہ غیر مذہبی فلسفہ پیدا ہوا جس کو الحاد (atheism) کہا جاتا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک توجیہہ طلب حیوان (explanation-seeking قدیم مشرکانہ دور میں یہ توجیہہ قیاسی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ موجودہ ملحدانہ دور میں یہ توجیہہ علمی تحقیق کے نام پر کی جانے لگی۔ اس نئے دور میں مغربی دنیا میں بہت سے مفکر پیدا ہوئے جو خدا کو حذف کر کے حیات اور کائنات کی توجیہہ کرتے تھے۔

اس طریق تحقیق کے نتیجے میں ایک نیا دور پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ اسی دور میں پرنٹنگ پریس بھی وجود میں آیا۔ پہلے کتابیں محدود طور پر ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، اب وہ چھپ کر عمومی طور پر پھیلنے لگیں۔ اس طرح یہ ہوا کہ جدید الحاد مطبوعہ کتابوں میں منتقل ہو کر تمام دنیا کے فکر پر چھا گیا۔ جدید ملحدانہ دور میں جو مفکرین پیدا ہوئے، اور ان کے ذریعے جو غیر مذہبی طرز فکر وجود میں آیا، اس کے پیچھے بہت سے

ذہن کارفرما تھے۔ تاہم علامتی طور پر چار افراد کو اس معاملے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ افراد نے انسانی تاریخ کو ایک نیا رخ یا الحادی رخ دیا۔ اُن کے نام یہ ہیں— آئزاک نیوٹن، چارلس ڈارون، سگمنڈ فرائڈ، کارل مارکس:

1. Isaac Newton: from divine interpretation to mechanical 2. Charles Darwin: from Special Creation to Natural 3. Sigmund Freud: from harnessing desires to following 4. Karl Marx: from duty-conscious society to 1 - برٹش سائنس داں آئزاک نیوٹن (وفات 1727) اصلاً صرف ایک سائنس داں تھا۔ اس کا موضوع تھا مادی دنیا میں حرکت (motion) کی توجیہہ کرنا۔ اس نے دریافت کیا کہ مادی دنیا میں حرکت کا نظام میکانکل قوانین (mechanical laws) کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً شمسی نظام میں سیاروں کی گردش کا قانون ۔ نیوٹن کی دریافت کا کوئی تعلق مذہبی عقائد سے نہ تھا، لیکن ملحد مفکرین نے اس دریافت کو الحاد کے حق میں استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر واقعات فطری اسباب کے تحت پیش آتے ہیں تو وہ فوق الفطری سبب کے تحت نہیں ہو سکتے:

Printed page