Al-Risala · August 2017

If events are due to natural causes, they are

Al-Risala, August 2017, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ استدلال بلا شبہ ایک غیر منطقی استدلال تھا، کیوں کہ نیوٹن کی تشریح جس چیز کو بتا رہی تھی، وہ صرف ظاہری سبب تھا۔ اس کے بعد بھی یہ سوال تھا کہ اسباب کے پیچھے مسبب (cause of the causes) کون ہے۔ اس معاملے میں ملحدین کا استدلال تمام تر ایک مغالطے پر مبنی تھا، وہ کوئی سائنسی استدلال نہ تھا۔ لیکن ملحد مفکرین کی یہ توجیہہ وقت کے ذوق کے مطابق تھی، اس لیے وہ عمومی طور پر پھیل گئی۔

2- چارلس ڈارون (وفات 1882) کا ارتقائی نظریہ بنیادی طور پر انتخابِ طبیعی (natural selection) کے اصول پر مبنی ہے۔ ڈارون نے اور اس کے ساتھیوں نے اپنی کتابوں کے ذریعے یہ تاثر دیا کہ ارتقا (evolution) کا یہ نظریہ ایک سائنسی نظریہ ہے۔ مگر علمی تعریف (definition) کے مطابق، ارتقا کا نظریہ ہر گز سائنسی نظریہ (scientific theory) نہ تھا، وہ صرف ایک قیاسی نظریہ (speculative theory) کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر وقت کے عمومی ذوق کی بنا پر حیاتیاتی ارتقا کے اس نظریے کو عام مقبولیت حاصل ہوگئی۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ حیاتیاتی مظاہر کی توجیہ کے لیے اب خالق کو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں، خالق کے وجود کو مانے بغیر تمام حیاتیاتی مظاہر کی توجیہ ممکن ہے۔ مگر یہ صرف ایک مغالطہ تھا۔ سائنس کی مزید دریافتوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ارتقا کا یہ نظریہ علمی اعتبار سے بالکل بے بنیاد ہے۔ سائنس کی جدید دریافت بتاتی ہے کہ فطرت میں کامل درجے کی ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اس دریافت نے علمی طور پر نظریہ ارتقا کا خاتمہ کر دیا کیوں کہ ذہین ڈیزائن ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) کی موجودگی کو ثابت کرتی ہے، وہ بے شعور قسم کے انتخابِ طبیعی کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔

3- سگمنڈ فرائڈ (وفات 1939) کا نظریہ یہ تھا کہ انسان کی ذہنی ترقی اس طرح ممکن ہے کہ اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ اپنی خواہشوں کو بے روک ٹوک پورا کر سکے۔ فرائڈ کے اس نظریے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہبی تصور کے مطابق، حرام و حلال کی پابندیاں ختم ہوگئیں۔ انسان آزاد ہو گیا کہ وہ خود اپنی خواہش کے تحت جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔

لیکن بعد کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ فرائڈ کا یہ نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ چناں چہ وہ انسان کی ذہنی ترقی میں مانع ہے، نہ کہ مددگار۔ نفسیات کا جدید مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی ذہنی ترقی چیلنج کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ بے قید آزادی کے ذریعے ۔ مذہب کی عائد کردہ اخلاقی پابندیاں ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس چیلنج کے ذریعے انسان کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح انسان اپنی توانائی کے ضیاع سے بچتے ہوئے

ذہنی ترقی کے راستے پر سفر کرتا رہتا ہے۔

4- کارل مارکس (وفات 1883) نے زندگی کا جو فلسفہ دیا، وہ اپنی عملی تدبیر کے اعتبار سے یہ تھا کہ اقتصادی ذرائع کو انفرادی کنٹرول سے نکال کر سماجی کنٹرول میں دے دیا جائے۔ کے نزدیک انسانی حقوق کے تحفظ کا یہی واحد راستہ تھا۔ مگر عملی تجربے کے لحاظ سے اس فلسفے کا مطلب یہ تھا کہ تمام اقتصادی ذرائع کو اسٹیٹ کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔ اس نظریے کا مقصد بظاہر ایک غیر طبقاتی سماج (classless society) پیدا کرنا تھا، مگر عملاً اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو شدید قسم کے متحارب طبقے پیدا ہو گئے۔

اس نظریے سے دو بڑی برائیاں پیدا ہوئیں ایک، یہ کہ مسابقت (competition) کا ختم ہو جانا، جو کہ تمام ترقیوں کے لیے فطری محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری برائی جو اشتراکی نظریے کے تحت پیدا ہوئی، وہ یہ کہ لوگ عمومی طور پر رائٹ کانشس (right-conscious) بن گئے، جب کہ کسی سوسائٹی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ڈیوٹی کانشس (duty-conscious) یہاں پہنچ کر طبقاتی کشمکش نے ایک ایسی صورت اختیار کر لی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ کہ زندگی میں ڈیوٹی کا تعین ہو سکتا ہے، لیکن رائٹ کا کوئی تعین نہیں۔

Printed page